0

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے ارکان گیس کے بلوں میں ہوشربا اضافے پر اوگرا اور سوئی نادرن گیس پائپ لائنز حکام پر برس پڑے،

Spread the love

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے ارکان گیس کے بلوں میں ہوشربا اضافے پر اوگرا اور سوئی نادرن گیس پائپ لائنز حکام پر برس پڑے،ایم ڈی ایس این جی پی ایل عامر طفیل نے بھی گیس نرخوں میں اضافے پر پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں بھی پریشان ہوں کہ ریٹ بڑھ گئے ہیں،ٹیرف میں اضافے کے حساب سے بل آیا ہے،جس کا بل 20ہزار سے اوپر آیا ہے اس کی چار قسطیں ہوں گی ،جوتے تو ہمیں پڑ رہے ہیں،چیئرپرسن اوگرا نے کمیٹی کو بتایا کہ ہم نے حکومت کو تین سلیبز بھیجی تھیں لیکن حکومت نے 7سلیبز بنائے ہیں،کمیٹی نے حکومت کواوور بلنگ کا مسئلہ حل کرنے کی ہدایت کر دی۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کا اجلاس سینیٹر طلحہ محمود کی صدارت میں ہوا،اجلاس میں چیئرپرسن اوگرا کی جانب سے شکایت سیل کے حوالے سے بریفنگ دی گئی،اشوک کمار نے کہا کہ بلوچستان میں نہ دن کو گیس ہے نہ رات کو، سردی کی وجہ سے جنگلات کاٹے جا رہے ہیں ۔ روبینہ خالد نے کہا کہ گیس کے بل بہت زیادہ آئے ہیں لوگوں کے 30تیس ہزار بل آئے ہیں،ستارہ ایاز نے کہا کہ ہمارے اتنے بل آرہے ہیں جتنی گیس استعمال نہیں ہوتی،چیئر پرسن اوگرا نے کہا کہ ہم تحریری شکایت پر ایکشن لیتے ہیں،چاروں صوبوں میں ہمارے دفاتر ہیں ،اوگرا سیل پرائس کا تعین نہیں کرتا ،ای سی سی سیل پرائس کا تعین کرتی ہے ۔ایڈیشنل سیکرٹری پٹرولیم نے کمیٹی کو بتایا کہ 500کیوبک سے زیادہ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 2لاکھ 26ہزار کے قریب ہے،ہم نے بلوں میں اضافے کے معاملے پر انکوائری کمیٹی بنائی ہوئی ہے ،سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ غریب لوگوں کو ریلیف دیں،ایم ڈی ایس این جی پی ایل عامر طفیل نے کہا کہ جس کا بل 20ہزار سے اوپر آیا ہے اس کی چار قسطیں ہوں گی ،انہوں نے کہا کہ ٹیرف میں اضافے کے حساب سے بل آیا ہے ،ایک مہینے بعد وہی 4سو اور 5سو کے بل آئیں گے مگر اب جوتے تو ہمیں پڑ رہے ہیں ۔ایم ڈی ایس ایس جی سی عمران فاروقی نے کمیٹی کو بتایا کہ ہمیں جتنا کوٹہ ملتا ہے اس کو استعمال کرتے ہیں گیس کے ذخائر 8فیصد کے حساب سے کم ہو رہے ہیں۔چیئرپرسن اوگرا نے کمیٹی کو بتایا کہ پیٹرول پر 14روپے پیٹرولیم لیوی ہے جبکہ کیروسین پر 6روپے ،ڈیزل پر 18روپے پیٹرولیم لیوی ہے،ہائی اوکٹین پر 14روپے پیٹرولیم لیوی ہے۔بعدازاں میڈیا سے گفتگو میں چیئرپرسن اوگرا عظمی عادل نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ حکومت سلیبز پر نظر ثانی کرے گی، گیس کا استعمال بڑھا ہے ، اگر کسی کے گیس کا استعمال ایک پوائنٹ بھی بڑھا ہے تو وہ اگلے سلیب میں چلا گیا ہے ، یہ اوور بلنگ نہیں ہے اگر اوور بلنگ ثابت ہو گی تو صارفین کو ریلیف دیا جائے گا ، ہمارے پاس شکایت آئے گی تو ہم اس کا جائزہ لیں گے ۔

Leave a Reply