218

سینیٹر ہولین کو روکنا مقبوضہ کشمیر میں “سب اچھا” جھوٹ، امریکہ میڈیا

واشنگٹن(جے ٹی این آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹر ہولین

دنیا کے سب سے بڑے جمہوری اور سیکولر ملک ہونے کے دعویدار بھارت نے

مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے نئی دہلی

جانیوالے امریکی سینیٹر کو اپنے زیر تسلط وادی کا دورہ کرنے سے روک دیا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی عدلیہ نے بھی مقبوضہ وادی میں مظالم پر آنکھیں موند لیں، دی اکانومسٹ

واشنگٹن پوسٹ میں شائع رپورٹ کے مطابق امریکی سینیٹر کرس ہولین نے بتایا

کہ انہیں رواں ہفتے بھارت کے دورے کے دوران مقبوضہ کشمیر میں جانے کی

اجازت نہیں دی گئی۔ امریکی سینیٹرکرس ہولین نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی

کی حکومت کی جانب مقبوضہ وادی میں کرفیو اور مواصلات کا نظام معطل ہوئے

تیسرا مہینہ شروع ہوگیا ہے جس کی وجہ سے انہیں انتہائی تشویش لاحق ہے کہ

وادی میں ایسی سخت پابندیوں اور کرفیو کی وجہ سے کیا صورتحال ہے اس لئے

وہ اس کا بذات خود جائزہ لینا چاہتے تھے مگر نئی دہلی کی مودی سرکار نے انہیں

مقبوضہ وادی میں جانے کی اجازت ہی نہ دی۔

واضح رہے کہ امریکی ریاست میری لینڈ کے ڈیموکریٹ نمائندے سینیٹرز کریس

ہولین ان 50 کانگریس ممبران میں شامل ہیں جو مقبوضہ کشمیر میں امن و امان

اور بھارتی فوجیوں کے ظلم و ستم اور بربریت سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار

کرچکے ہیں۔

مقبوضہ وادی کی تازہ صورتحال

بھارت نے وادی کی 5 اگست کو آئین میں حاصل خصوصی حیثیت ختم کرنے کے

بعد سے آج تک وہاں پر سخت ترین پابندیاں عائد اور کرفیو نافذ کر رکھا ہے جس

کی وجہ سے مقبوضہ جموں کشمیر کا ہر قسم کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہے

اور 80 لاکھ سے زائد افراد اپنے گھروں میں قید یوں کی زندگی بسر کرنے پر

مجبور اور خوراک، ادویات سمیت تمام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، عالمی

برادری بھارت کو کئی مرتبہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانیت سوز مظالم بند

کرنے اور کشمیریوں کو ان کے حقوق دینے کا مطالبہ کر چکی ہے لیکن نئی دہلی

سرکار اپنے سامراجی آقائوں کی آشیرباد کی بدولت ٹس سے مس تک نہیں ہو رہی

جبکہ مقبوضہ وادی میں کسی بھی وقت انسانی المیہ رونما ہونے کا خطرہ سنگین

تر ہوتا جا رہا ہے-

سینیٹر ہولین

اپنا تبصرہ بھیجیں