monkey shaving 213

سیفٹی ریزر آئینہ اور شرارتی بندر—–

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سیفٹی ریزر آئینہ بندر

پیارے بچو! ایک گھنا جنگل تھا جس میں بہت سے جنگلی جانور رہتے تھے۔ ان

جانوروں میں بندر بھی رہتے تھے۔ جنگل سے تھوڑے فاصلے پر ایک چھوٹا سا

گائوں آباد تھا جس میں دیہاتی لوگ رہتے تھے۔ بندروں کے گروہ میں ایک بندر

بہت شریر تھا وہ جنگل میں دوسرے جانوروں کو بہت ستاتا تمام جانور اس کی

شرارتوں سے تنگ تھے۔ وہ اس بندر کے بوڑھے چچا سے شکایت کرتے تو شریر

بندر اس وقت تو دادا کے ڈر سے ان جانوروں سے معافی مانگتا مگر پھر انہیں

ستانے سے باز نہ آتا۔ (( یہ بھی ضرور پڑھیں ))

لوگوں کو تنگ کرنے میں بڑا لطف آتا

ایک دن اس نے سوچا کیوں نا گائوں جایا جائے اور لوگوں کو تنگ کیا جائے۔ اس

کو یہ کام کرنے میں بڑا لطف آتا تھا۔ چنانچہ وہ گائوں پہنچا اور لوگوں کے گھروں

میں دیوار پھلانگ کر داخل ہو گیا جنگل سے گائوں کی صورت بالکل مختلف تھی۔

گائوں میں مزے مزے کے کھانے کی چیزیں تھیں جنہیں دیکھ کر اس کی رال

ٹپکنے لگی۔ گائوں کے مرد کام کے لئے شہر گئے ہوئے تھے۔ خواتین کھیتوں میں

کام کے لئے گھروں سے باہر تھیں جبکہ بچے سکول چلے گئے تھے۔ ان تمام کی

غیر موجودگی میں شریر بندر نے گھروں کی خوب تلاشی لی اور وہاں سے کھانے

کی جو چیزیں اس کے ہاتھ لگیں وہ اس نے مزے سے اڑائیں۔ اس گائوں کے لوگ

جب اپنے گھروں کو واپس آئے تو کھانا اور دوسری کھانے کی چیزیں نہ پا کر

خون کے گھونٹ پی کر رہ گئے۔ اب روز یہ ہونے لگا کہ گائوں سے لوگ گھروں

سے باہر ہوتے تو شریر بندر ان کے گھروں میں داخل ہو کر تمام کھانے پینے کی

چیزیں چٹ کر جاتا وہ حیران تھے کہ یہ سب حرکات کون کرتا ہے۔

جانور بندر کے دادا سے شکایات کرتے وہ باز نہ آتا

آخر ایک آدمی نے انہیں بتایا کہ یہ سب حرکات ایک بندر کر رہا ہے۔ وہ بڑا شریر

ہے۔ کئی جانور اس کے دادا سے اس کی شرارتوں کی شکایات کر چکے ہیں مگر

وہ باز نہیں آتا۔ گائوں کے لوگوں کو یہ سن کر بہت غصہ آیا۔ انہوں نے شریر بندر

کے دادا سے شکایت کی تو دادا جو بندر کی شرارتوں سے اور اس شکایتوں سے

عاجز آ چکے تھے وہ شریر بندر پر بہت خفا ہوئے اور غصے سے کہا اب بہت ہو

گئی اگر تم نے آئندہ کوئی شرارت کی تو تمہیں سخت سزا دوں گا۔ اس کے علاوہ

اس نے شریر بندر سے کہا کہ وہ ان سے معافی مانگے۔ شریر بندر نے گائوں

والوں سے معافی مانگی اور آئندہ شرارت نہ کرنے کا وعدہ کیا، گائوں کے لوگ

واپس چلے گئے۔ شریر بندر نے دادا کے سامنے آئندہ شرارت نہ کرنے کا وعدہ تو

کر لیا اور گائوں کے لوگوں سے معافی بھی مانگ لی مگر اس نے دل میں ٹھان لی

کہ کیونکہ گائوں کے لوگوں نے اس کی شکایت دادا سے کی ہے اس نے انہیں سبق

سیکھانے کا فیصلہ کیا۔

بندر کا وعدہ کرکے توڑنے کا ارادہ

دوسرے روز وہ گائوں گیا۔ حسب معمول گائوں کے لوگ گھروں سے باہر تھے۔

اس روز ایک گائوں کا آدمی دیر سے اٹھنے کے باعث گھر ہی میں تھا۔ اس نے

باہر جانے کے لئے شیو کا سامان میز پر لا کر رکھا اور آئینے کے سامنے شیو

بنانا شروع کر دی اس نے شیشے میں شریر بندر کو دیکھ لیا تھا اس کو یقین ہو گیا

کہ شریر بندر نے دھوکا دے کر پھر شرارت کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور دادا کے

سامنے وعدہ کر کے توڑنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ اس نے شریر بندر کو سزا دینے کا

فیصلہ کیا۔ اس نے جان بوجھ کر شیو کا سامان شیو کرنے کے بعد میز پر ہی رہنے

دیا اور گھر سے باہر چلا گیا شریر بندر بڑے غور سے اس کو شیو کرتے دیکھ

چکا تھا۔ سیفٹی ریزر آئینہ بندر

دیہاتی کی طرح خوبصورت نظر آنے کی خواہش
اور خون کا فوارہ

وہ آدمی کے باہر جاتے ہی جھٹ کمرے کے اندر آیا اور خود کو آئینے میں دیکھا

تو اسے چہرے کے قریب اپنے بال بڑھے ہوئے لگے اس کو اپنا چہرہ اس حالت

میں بُرا لگا۔ وہ اس آدمی کی طرح خوبصورت نظر آنا چاہتا تھا۔ شریر بندر نے

سیفٹی ریزر جس میں بلیڈ لگا ہوا تھا پہلے کریم کو برش سے چہرے پر لگایا پھر

جھاگ بنا کر سیفٹی ریزر سے شیو بنانے کے لئے ریزر چلایا تو خون کا ایک

فوارہ نکل کر اس کے چہرے کو سرخ کر گیا اور اس شریر بندر کے منہ سے ایک

زور دار چیخ نکل گئی اور وہ وہاں سے چیختا ہوا اپنے گھر کی طرف دوڑا۔ ادھر

گھر کا مالک جو ابھی کہیں گیا نہیں تھا اور گھر کے باہر چھپ کر یہ نظارہ دیکھ

رہا تھا شریر بندر کی اس حالت پر ہنس رہا تھا۔ جب شریر بندر اپنے گھر میں پہنچا

تو وہ سب اس کو اس حال میں دیکھ کر پریشان ہو گئے

اس کے دادا نے فوراً مرہم پٹی منگوا کر اس زخم کو دھوکر پٹی باندھ دی وہ بندر

کی اس شرارت پر بہت خفا تھا اور بولا، دیکھا میں نہ کہتا تھا کہ تم اپنی شرارتوں

سے باز آ جائو، وہ دن اور آج کا دن پھر شریر بندر نے کوئی شرارت نہ کی۔

سیفٹی ریزر آئینہ بندر

Leave a Reply