jtn jaiza3

عالمی اور خطے کی صورتحال، روسی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان

Spread the love

(تحریر:— ابو رجا حیدر) سیرگئی لاوروف دورہ پاکستان

روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف اسوقت دو روزہ دورے پر پاکستان میں ہیں،

تجزیہ کار جہاں اس دورے کو انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں، وہیں ملکی میڈیا میں

بھی دورے کا خوب چرچا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس موقع پر

اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ یہ کسی روسی وزیر خارجہ کا نو سال بعد

پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔ روس خطے کا انتہائی اہم ملک ہے، جس کیساتھ دو طرفہ

تعلقات میں بہتری آ رہی ہے۔ ہم ایک دوسرے کیساتھ خطے میں تعاون کا ارادہ

رکھتے ہیں۔ پاکستان دیکھ رہا ہے اس کے روس کیساتھ معاشی اور دفاعی تعلقات

کیسے آگے بڑھ رہے ہیں اور اسلام آباد نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن منصوبے کو

بھی ماسکو کیساتھ مل کر آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ ہندوستان کیساتھ بھی روس کے

دیرینہ تعلقات ہیں۔ روس بھارت کو افغانستان میں قیام امن کیلئے مثبت کردار ادا

کرنے پر بھی آمادہ کر سکتا ہے۔ روسی وزیر خارجہ لاوروف اپنے دورے کے

دوران وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے بھی ملاقاتیں

کریں گے۔

=–= ایسے ہی مزید پُر مغز تجزیئے، کالمز، بلاگز ( =–= پڑھیں =–= )

سرد جنگ کے دور میں پاکستان اور اسوقت کے سوویت یونین کے تعلقات اچھے

نہیں تھے۔ لیکن اس جنگ کے اختتام کے بعد ماسکو اور اسلام آباد کے باہمی

تعلقات بتدریج بہتر تو ہوتے رہے مگر ان میں کوئی خاص گرم جوشی دیکھنے میں

نہ آئی۔ آخری مرتبہ روسی وزیر خارجہ نے 2012ء میں پاکستان کا دورہ کیا تھا،

جبکہ اسی سال صدر پوٹن نے اپنا دورہ پاکستان منسوخ کر دیا تھا۔ تب اسوقت کے

آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے روس کا

دورہ کیا تھا۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات مزید بہتر ہوئے ہیں۔

=–= پاکستان کا مشرق کی جانب دیکھنا مثبت اقدام

پاکستان کی توجہ مشرق کی طرف ہے اور یہ عمل پاکستان کےلئے مثبت ہے۔

امریکا نے ہمیشہ پاکستان کو شک کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ لہٰذا اب بہتر یہ ہے

پاکستان مشرق کی طرف دیکھے۔ اس کے چین کیساتھ اچھے تعلقات تھے اور اب

وہ روس کیساتھ بھی اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔ پاکستان، ایران، روس، چین،

ترکی اور وسطی ایشیا کے ممالک مل کر ایک نیا سیاسی بلاک قائم کر سکتے ہیں۔

=-= دورہ لاوروف افغان امن عمل آگے بڑھانے میں روس کی سنجیدگی کا مظاہر
——————————————————————————————–

روسی وزیرخارجہ اس دورے کا محور افغانستان ہے۔ افغانستان سے امریکی

فوجوں کا انخلا ہونے کو ہے اور ایسی صورت میں وہاں پر سیاسی خلا پیدا ہو

سکتا ہے۔ ماضی میں ایسا خلا پیدا ہوا، تو وہ پاکستان اور خطے کیلئے نقصان دہ

ثابت ہوا تھا۔ روسی وزیر خارجہ اسی مسئلے پر بات چیت کیلئے آئے ہیں اور

افغان امور کے ایک ماہر بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ روس نے حال ہی میں ہارٹ آف

ایشیا کانفرنس میں پاکستان کو مدعو کیا۔ اس کے علاوہ افغانستان کے مسئلے پر

ایک اور اجلاس میں بھی پاکستان کو مدعو کیا گیا، جو ظاہر کرتا ہے روس

افغانستان کے استحکام کیلئے کام کرنا چاہتا ہے اور اسکا کردار بہت اہم ہے۔

=-= امریکہ پاکستان کی اہمیت سے آگاہ، تنہا چھوڑنا بھی ناممکن

اسلام آباد میں یہ تاثر عام ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ پاکستان کو زیادہ اہمیت

نہیں دے رہی۔ صدر جو بائیڈن نے دنیا کے کئی سربراہان مملکت و حکومت کو

فون کیا لیکن وزیراعظم عمران خان کو ابھی تک ان کی کوئی کال نہیں آئی۔ اس

کے علاوہ امریکا نے پاکستان کو ماحولیاتی کانفرنس میں بھی مدعو نہیں کیا جبکہ

جان کیری نے بھی پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔ لیکن یہ طے ہے کہ پاکستان کی

جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے امریکا اس کو کبھی نظر انداز نہیں کر سکتا اور

ابھی امریکی فوجیں افغانستان میں ہیں۔ ان کی واپسی کیلئے امریکا کو پاکستان کی

مدد درکار ہے جبکہ طالبان سے بات چیت کیلئے بھی امریکا پاکستان کا محتاج ہے۔

امریکا کو پاکستان کی ضرورت رہے گی۔ یہاں تک کہ امریکی فوجیوں کے انخلا

کے بعد بھی اسے خطے میں پاکستان کی ضرورت رہے گی۔ امریکا پاکستان کو

تنہا کرنے کا نہیں سوچ سکتا۔

=-= عالمی و علاقائی صورتحال میں روس کیساتھ اشتراک عمل ضروری

پاکستان خارجہ پالیسی میں سب کیساتھ مل کر چلنا اہم جز رہا ماضی میں وہ مغربی

اتحاد کا حصہ بھی بنا لیکن تعلقات بہتر طریقے سے استعمال کیے نہ ہی اسے

برابری کی سطح پر ڈیل کیا گیا۔ پاکستان نے سرد جنگ سے یہ سبق سیکھا کہ اس

کو کسی ایک کیمپ کی طرف نہیں جانا چاہیے بلکہ اپنی خارجہ پالیسی کو آزادانہ

طور پر چلانا چاہیے۔ روس سے تعلقات بہتر کرکے پاکستان واشنگٹن کو یہ دکھانا

چاہتا ہے اس نے سارے انڈے ایک ہی ٹوکری میں نہیں رکھے۔ پاکستان یہ سگنل

بھی دے رہا ہے کہ اگر امریکا اس کو اہمیت نہیں دیتا، تو دنیا میں اور مما لک بھی

ہیں، تاہم ایران اور چین معاہدے، بیجنگ، ماسکو میں بڑھتی قربت اور خطے میں

رونما ہونیوالی حالیہ تبدیلیوں کے پیش نظر روسی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان

خاص اہمیت کا حامل ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان اس دورے سے خطے میں قیام

امن کی کوششوں میں کتنی کامیابی حاصل اور اپنی ساکھ کو کس قدر مستحکم کر

پاتا ہے۔

سیرگئی لاوروف دورہ پاکستان ، سیرگئی لاوروف دورہ پاکستان

=قارئین=ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply