سید علی گیلانی کا انتقال، مودی سرکار بدحواس، پاکستان میں سوگ

سید علی گیلانی کا انتقال، مودی سرکار بدحواس، پاکستان میں سوگ

Spread the love

سرینگر، اسلام آباد (جے ٹی این نیوز) سید علی گیلانی انتقال

پورے کشمیرکے پاکستان کیساتھ الحاق اور حقوقِ کشمیر کی سب سے توانا آواز

خاموش ہو گئی، بزرگ کشمیری حریت پسند رہنماء سید علی شاہ گیلانی طویل

علالت کے بعد 92 سال کی عمر میں مقبوضہ کشمیر کے گرمائی دارالحکومت

سرینگر میں انتقال کر گئے۔ حریت رہنماء کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے ان

کے خاندان نے کہا ہے کہ مرحوم کی نماز جنازہ آج سرینگر میں ادا کی جائے

گی، دوسری جانب بھارت نے احتجاج کے خطرے کے پیش نظر مقبوضہ کشمیر

میں کرفیو نافذ، انٹرنیٹ بند کر دیا، فوج کی مزید بھاری نفری تعینات کردی ہے،

سرینگر میں جگہ جگہ ناکے لگا دیئے گئے ہیں جبکہ رات کی تاریکی میں تدفین

کیلئے بھارتی فورسز نے اپنی نگرانی میں قبر بھی کھدوانی شروع کرا دی ہے-

=-،-= سید علی گیلانی کی جراتمندانہ جدوجہد کو سلام، عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے سید علی گیلانی کے انتقال پر ایک روزہ سوگ اور

سبز ہلالی پرچم سرنگوں رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حریت رہنما

سید علی گیلانی کے انتقال پر انتہائی دکھ اور افسوس ہے، انہوں نے ساری عمر

کشمیریوں کے حق خود ارادیت کیلئے جدوجہد کی۔ قابض بھارتی انتظامیہ کی قید

و بند کی اذیتیں برداشت کیں مگر پرعزم رہے، ان کی جراتمندانہ جدوجہد کو سلام

پیش کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا ہم ان کے الفاظ ” ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان

ہمارا ہے، ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ سید علی گیلانی کو اگرچہ بہت ساری مشکلات

کا سامنا کرنا پڑا لیکن کشمیر کا ز کے ساتھ ان کی وابستگی میں کوئی آنچ نہیں

آئی۔ ان کا ماننا تھا کہ جموں و کشمیر پر بھارت کا قبضہ قطعی طور پر غیر

منصفانہ و غیر قانونی ہے اور کشمیریوں کی قسمت کا فیصلہ صرف اور صرف

استصواب رائے کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔ سید علی گیلانی دل کی گہرائیوں

سے پاکستان کے ساتھ محبت رکھتے تھے-

=-،-= آزاد جموں و کشمیر میں تین روزہ سوگ کا اعلان

وزیراعظم آزاد کشمیر عبد القیوم خان نیازی اور صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان

نے بھی سینئر حریت رہنما سیّد علی گیلانی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے

اور کہا ہے کہ ان کی رحلت تحریک آزادی کشمیر کیلئے بڑا نقصان ہے، انہوں

نے آزاد کشمیر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے تحریک آزادی کشمیر

کیلئے جاری جدوجہد کو مزید تیز تر کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جب کہ

مقبوضہ کشمیرکی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ سید علی شاہ گیلانی

کے انتقال کا سن کر افسوس ہوا، اللہ تعالیٰ ان کے خاندان والوں کو صبر و جیمل

عطا فرمائے۔

=–،–= برزگ حریت رہنماء کی جدوجہد پر مبنی سوانح عمری

سید علی گیلانی اسلامی انقلاب اور آزادی کے نقیب، برصغیر کے منجھے ہوئے

سیاستدان، شعلہ بیان مقرر اور روح دین پر گہری نظر رکھنے والی شخصیت

تھے، 29 ستمبر 1929ء کو زوری منز تحصیل بانڈی پورہ میں پیدا ہوئے،1950ء

میں آپ کے والدین نے زوری منز سے ڈورو سوپور ہجرت کی۔ آپ نے ابتدائی

تعلیم پرائمری سکول بوٹنگوسوپور میں حاصل کی۔ اس کے بعد آ پ نے گورنمنٹ

ہائی سکول سوپور میں داخلہ لیا۔ اس کے بعد آپ نے اورینٹل کالج لاہور سے ادیب

عالم اورکشمیر یونیورسٹی سے ادیب فاضل اورمنشی فاضل کی ڈگریاں حاصل

کیں۔ 1949ء میں بحیثیت استاد آپ کا تقرر ہوا اور آپ نے بحیثیت سرکاری استاد

12 سال تک وادی کے مختلف سکولوں میں اپنی خدمات انجام دیں۔ 1953ء میں

آپ جماعت اسلامی کے رکن بن گئے۔ سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے کر

جماعت اسلامی کے ہمہ وقتی کارکن بنائے گئے۔ آپ پہلی بار 28 اگست 1962ء

کو گرفتار ہوئے اور 13 مہینے کے بعد جیل سے رہا کیے گئے۔ مجموعی طور

پر آپ نے زندگی کے 14 سال سے زائد بھارتی سامراج کیخلاف آواز بلند کرنے

کی پاداش میں ریاست و ریاست کے باہر مختلف جیلوں میں گزارے، مگر بفضل

خدا اپنے بنیادی اور اصولی موقف پر چٹان کی طرح جمے رہے۔

=-،-= سید علی گیلانی 30 کتابوں کے منصف، رابطہ عالم اسلامی کے رکن

آپ 15 سال تک اسمبلی کے ممبر رہے۔ آپ ریاستی اسمبلی کے لیے تین بار 72ء،

77ء اور 1987ء میں اسمبلی حلقہ سوپور سے منتخب ہو گئے۔ 30 اگست 1989ء

کو اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیدیا۔ 7 اگست 2004ء کو اپنی جماعت تحریک

حریت بنائی اور تب سے آپ تحریک حریت کے چیئرمین اور ساتھ ہی حریت

کانفرنس کے چیئرمین رہے۔ آپ رابطہ عالم اسلامی کے ممبر بھی رہ چکے ہیں۔

آپ تیس سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں۔ جن میں رودادِ قفس، قصہ درد، صدائے

درد، مقتل سے واپسی، دیدوشنید اور فکر اقبال پر شاہکار کتاب، روح دین کا

شناسا اول و دوم، پیام آخریں، نوائے حریت، بھارت کے استعماری حربے، عیدین،

مقتل سے واپسی، سفر محمود میں ذکرِ مظلوم، ملّت مظلوم، تو باقی نہیں،What

should be done، پسِ چہ باید کرد، پیامِ آخرین، اقبال اپنے پیغام کی روشنی

میں، ایک پہلو یہ بھی ہے کشمیرکی تصویر کا، ہجرت اورشہادت، تحریک حریت

کے تین اہداف، معراج کا پیغام، نوجوانانِ ملت کے نام، دستور تحریکِ حریت اور

ولّر کنارے اول دوم وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

=-،-= کشمیری حریت مجاہد 12 سال سے گھر پر نظر بند تھے

بزرگ حریت رہنما مختلف جسمانی عوارض میں مبتلا اور گزشتہ 12 برس سے

گھر پر نظربند تھے۔ سید علی گیلانی معروف عالمی مسلم فورم ” رابطہ عالم

اسلامی ” کی رکنیت حاصل کرنے والے پہلے کشمیری حریت رہنما ہیں۔ ان سے

قبل سید ابوالاعلی مودودی اور سید ابو الحسن علی ندوی برصغیر سے ” رابطہ

عالم اسلامی ” فورم کی رکن رہ چکے ہیں۔ مجاہد آزادی ہونے کیساتھ ساتھ وہ علم

و ادب سے شغف رکھنے والی شخصیت بھی تھے اور علامہ اقبال کے بہت بڑے

مداح تھے۔ سید علی گیلانی کی وفات سے کشمیریوں نے ایک ایسا رہنما کھو دیا

ہے جن کیساتھ سارے حتیٰ کہ مخالفین بھی محبت رکھتے تھے۔ وہ بھارتی قبضے

سے کشمیرکی آزاد ی کیلئے انتھک جدوجہد کر تے رہے- مرحوم پاکستان کے

ایک کٹر حمایتی تھے جنہوں نے اپنی زندگی کشمیر کاز اور کشمیر پر بھارتی

حکمرانی کے خاتمے کے مطالبے کیلئے وقف کر رکھی تھی۔

=-،-= صدر علوی، آرمی چیف جنرل باجوہ کا اظہار افسوس

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے

حریت رہنما سیّد علی گیلانی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے ان

کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔ سید علی گیلانی کی وفات سے کشمیر ایک

عظیم رہنماء سے محروم ہو گیا ہے، سید علی گیلانی عمر بھر بھارتی سامراجیت

کے خلاف ڈٹے رہے، سید علی گیلانی ایک باہمت، نڈر اور مخلص رہنماء تھے-

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی کے

انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا اور کہا انکی رحلت کی خبر سن کر دل گرفتہ ہوں،

سید علی گیلانی نے آخری سانس تک کشمیریوں کا مقدمہ لڑا اور متعدد بار قید و

بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ اللہ پاک ان کی روح کو سکون عطا فرمائے اور

آزادی کے خواب کو حقیقت بنائے۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے بھی اپنے

تعزیتی ٹویٹر پر لکھا کہ حریت رہنما سید علی گیلانی کی وفات پر دل انتہائی رنج

و غم میں مبتلا ہے، لواحقین کیساتھ اظہار ہمدری، کشمیری قوم سے اظہار

یکجہتی کرتا ہوں۔ کاش مقبوضہ وادی جا سکوں اور گیلانی صاحب کی تدفین میں

شامل ہو سکوں۔ پوری کشمیری قوم کے غم میں برابر کا شریک ہوں۔

=-،-= سید علی گیلانی تحریک آزادی کشمیر کا دوسرا نام تھے، بلاول، شہباز

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور صدر مسلم لیگ نون شہباز

شریف نے بھی سید علی شاہ گیلانی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا اور اپنے

تعزیتی ٹویٹس میں لکھا کہ سید علی شاہ گیلانی کشمیر میں آزادی کی تحریک کا

دوسرا نام تھے، ان کی زندگی جہد مسلسل کا ایک استعارہ تھی۔ امیر جماعت

اسلامی سراج الحق نے کہا ہے سید علی گیلانی کی رحلت سے کشمیری عوام یتیم

ہو گئے ہیں۔ ان کے انتقال سے کشمیریوں، پاکستانیوں اور عالم اسلام کو بڑا

نقصان ہوا ہے۔ سید علی گیلانی نے کشمیریوں کیلئے زیادہ تر زندگی جیل میں

گزاری۔ ان کا آخری لمحے تک ایک ہی نعرہ تھا ، ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا

ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ سید علی گیلانی کو پاکستان سے عشق تھا،

ان کے انتقال سے تحریک آزاد ی مزید تیز ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ پورے ملک

میں سید علی گیلانی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔

=-.-= آزاد و مقبوضہ کشمیر سے متعلق مزید خبریں ( == پڑھیں ==)

وزیراعلیٰ پنجاب نے سیّد علی گیلانی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے

کہا کہ وہ بہادر کشمیری رہنما تھے، ان کی آزادی کشمیر کیلئے بے پناہ قربانیاں

ہیں، تحریک آزادی کشمیر کیلئے ان کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جائے گا،

وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے سید علی گیلانی کے انتقال

پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

زندگی کی آخری سانس تک تحریک آزادی کے لیے آواز بند کرتے رہے۔ یہ خلاء

کوئی بھی پر نہیں کر سکے گا۔

سید علی گیلانی انتقال ، سید علی گیلانی انتقال ، سید علی گیلانی انتقال

سید علی گیلانی انتقال ، سید علی گیلانی انتقال ، سید علی گیلانی انتقال

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply