سید اکمل علیمی

بزرگ صحافی ،کالم نویس سید اکمل علیمی امریکہ میں رحلت فرما گئے

Spread the love

سید اکمل علیمی رحلت

لاہور(جے ٹی این آن لائن نیوز) سینئر ترین صحافی، سید اکمل علیمی حرکت قلب

بند ہونے سے ورجینیا (امریکہ) میں انتقال کر گئے۔(انا ﷲ و انا علیہ راجعون) وہ

عرصہ سے علیل تھے، ان کی طبیعت اچانک خراب ہوئی، گھر میں بے ہوش ہو

گئے ان کو طبی امداد کیلئے قریبی ہسپتال لے جایا گیا، جہاں انہوں نے جان، جانِ

آفریں کے سپرد کر دی ۔ان کی تدفین جمعرات کو ہوگی، اکمل علیمی نے پسماندگان

میں بیوہ اور تین بیٹے سید ادیب علیمی، عاطف علیمی اور آصف علیمی چھوڑے

ہیں۔ سید اکمل علیمی ممتاز ترین صحافی، ادیب اور مصنف تھے جنہوں نے پرنٹ ،

ٹی وی اور ریڈیو(میڈیا) کے تینوں شعبوں میں مہارت کا لوہا منوایا، ان کی عمر

90سال تھی ۔ سید اکمل علیمی کا تعلق لاہور سے تھا اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم

اے (اردو) کیا تھا، انہوں نے پیشہ صحافت کا آغاز روزنامہ احسان سے کیا اور دو

مختلف اخبارات کے بعد روزنامہ امروز سے سینئر رپورٹر کی حیثیت سے منسلک

ہو گئے۔ سید اکمل علیمی رپورٹنگ کے علاوہ کالم نویسی اور فیچر رائٹنگ میں

بھی مہارت رکھتے تھے۔ روزنامہ امروز میں ان کا کالم ہر بدھ کو ’’یہ لاہور ہے‘‘

کے عنوان سے چھپتا تھا، کافی عرصہ انہوں نے سند باد جہازی والا کالم حرف و

حکائت بھی لکھا رپورٹنگ میں ان کی تحریر یں مقبول تھیں۔ اس میں ادبی چاشنی

ملتی تھی۔امروز میں چیف رپورٹر رہے اور پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ جرنلزم

میں پڑھاتے بھی رہے۔1973ء میں وہ امریکہ گئے اور وائس آف امریکہ کی اردو

سروس میں شامل ہوئے ان کے خبریں پڑھنے کا انداز پسند کیا جاتا تھا۔ وائس آف

امریکہ کی اردو سروس کے ساتھ ان کا رشتہ 2008ء تک رہا، اور وہ سینئر ایڈیٹر

/ پروڈیوسر کی حیثیت سے ازخود ریٹائرمنٹ لے کر الگ ہوئے۔ اس کے بعد بھی

وہ اپنی کارکردگی کے حوالے سے متعدد اعلیٰ اعزازات سے بھی نوازے گئے،

ریٹائرمنٹ کے بعد ان کا رشتہ صحافت سے قائم رہا، اپنی ویب سائٹ کے علاوہ

جرائد اخبارات اور ٹی وی سے اپنی مہارت کا ثبوت دیتے رہے، وہ دنیا

انٹرنیشنل(امریکہ) کے ہفت روزہ (اردو+انگریزی) ’’ڈیلی دنیا‘‘ کے ایڈیٹر اور

کالمسٹ بھی تھے۔ سید اکمل علیمی نے کئی سال تک واشنگٹن ڈائری کے عنوان

سے روزنامہ پاکستان میں امریکہ اور احوال عالم کے حالات پر لکھا، وہ متعدد

کتابوں کے مصنف تھے، ان میں مکہ ڈائری (احوال عمرہ) اسلام امریکہ میں، مکہ

کا محاصرہ اور دیگر کئی کتب شامل ہیں جبکہ انہوں نے خالد حسن، عبدالقادر

حسن، اے حمید، احمد بشیر اور دیگر صحافیوں اور ادیبوں کے بارے میں بہت

سے کالم بھی لکھے۔ سید اکمل علیمی کا حلقہ احباب بڑا وسیع تھا، وہ 2005ء میں

آخری بار لاہور آئے اور بعدازاں عمرہ کیا، سعودی عرب میں ہی ان کو دل کی

تکلیف ہوئی اور پیس میکر لگ گیا۔ چند سال قبل ان پر پارکنن (تشنج) کا حملہ ہوا

اور وہ علیل ہو کر گھر کے ہو گئے تھے۔ ان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا

گیا اور دعائے مغفرت کی جا رہی ہے۔

سید اکمل علیمی رحلت

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply