سیاحتی مقام بالاکوٹ کے رہائشیوں کا وزیراعظم، سی ایم سے مطالبہ

Spread the love

سیاحتی مقام بالاکوٹ کے رپورٹ: نمائندہ خصوصی/عامر جمیل

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کی تحصیل سیاحتی مقام بالاکوٹ جو کہ 8 اکتوبر

2005 میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں پورا شہر کا شہر ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا تھا کئی

باسیوں کی اموات کے بعد وہاں کے زندہ بچنے والے افراد، دیگر شہروں میں عارضی طور پر رہائش

پذیر یا نوکری کی غرض سے موجود لوگ ہی رہ گئے تھے جنہوں نے بالاکوٹ کی دوبارہ سڑکوں و

دیگر راستوں کی تعمیرات کے بعد اپنے علاقے میں آکر ایک مرتبہ پھر رہائش اختیار کر لی، تباہی کا

شکار یہاں کے بازار سڑکیں علاقے محلے تو دوبارہ بن ہی گئے اور اجڑے ہوئے گھروں میں پھر سے

انسانوں نے سکونت اختیار کرلی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی زندگی کے مسائل کم ہونے

کی بجائے مزید بڑھتے ہی رہے چند روز قبل اتفاق سے بالاکوٹ میں کچھ روز کے لئے ٹہرنا پڑا اس

دوران وہاں کے مقامی لوگوں سے ملنا ملانا اور بات چیت کا موقع ملا،مقامی لوگوں نے اپنی

زندگی کے تلخ واقعات کیساتھ ساتھ اپنے چند مسائل سے بھی آگاہ کیا ظاہر ہے ہر جگہ کچھ نہ

ایسا ناروا سلوک مگر کیوں؟

کچھ مسئلے تو ہوتے ہی ہیں لیکن!! ان مسائل کے علاوہ انہوں نے ایک ایسے مسئلے کو میڈیا پر

اجاگر کرنے کی درخواست کی کہ میں تو حیران ہی رہ گیا کہ “آخر ایسا کیوں” یہ سن کر بہت

افسوس بھی ہوا کیونکہ کسی بھی ریاست کے باشندوں کے ساتھ مسلسل عرصہ دراز سے ایسا

ہونا حکومت و اعلی حکام کی جانب سے ظلم و زیادتی کی عجیب مثال ہے انہوں نے بتایا کہ

محکمہ واپڈا کے اہلکار میٹر ریڈرز اول تو میٹر ریڈنگ کے لیے اکثر آتے ہی نہیں تاہم مہینے بعد

گندگی سے صحیح بل ملنا خوش قسمتی کی علامت

بھاری بھر کم بلز انکے کھاتے میں ڈال دیئے جاتے ہیں اور وہ بل یہاں کے رہائشیوں کو موصول ہونے

کی بجائے ان بجلی بلوں کو گندگی کے ڈھیر پر یا نالے میں پھینک دیا جاتا ہے جبکہ بلز تقسیم کرنے

والا عملہ ڈھونڈنے سے بھی دکھائی نہیں دیتا ہاں مگر اکثر نالیوں یا گند کے ڈھیر پر کاغذ کے ٹکڑوں

کی صورت میں بلز نظر آتے ہیں اگر کسی کو اسکے نام بغیر پھٹا ہوا بل مل جائے تو یہ اسکی خوش

قسمتی کہلاتی ہے، جبکہ دیگر رہائشیوں کے نصیب میں ہر مہینے تکلیف لکھ دی جاتی ہے کیونکہ بلز

جمع کرانے کے لئے اس کی کاپی ہونا لازم ہے جس کے حصول کے لئے لوگوں کو ضلع مانسہرہ جانا

پڑتا ہے، بالاکوٹ سے ضلع مانسہرہ کا فاصلہ تقریبا پچیس سے تیس کلومیٹر کا ہے اور آنے جانے کا

کرایہ بھی اچھا خاصا بنتا ہے جبکہ مقررہ تاریخ گزر جانے پر جرمانہ بھی ادا کرنا پڑتا ہے، ایسی

صورتحال میں اگر کوئی بل جمع نہ پائے تومحکمہ واپڈا کا عملہ بجلی منقطع کرنے پہنچ آتا ہے اور وہ

*ملک ریاست مدینہ نہ بن سکا زندگیاں اجیرن بنادی گئیں*

ایک نہیں سنتے، انکا رویہ بھی انتہائی غیر مناسب ہوتا ہے، انہوں نے مزید بتایا کہ محکمہ واپڈا کی

جانب سے عرصہ دراز سے جاری اس ناروا سلوک اور ناکردہ جرم کی پاداش میں مالی نقصان، وقت

=-،-= خیبر پختونخوا سے متعلق مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

کا ضیاع جیسی سزا مسلسل برداشت کرتے کرتے یہ لوگ شدید ذہنی الجھن کا شکار ہیں انکا کہنا ہے

کہ حکومت ریاست مدینہ تو بنانے سے رہی لیکن انکی زندگیاں اجیرن کرکے رکھ دی گئیں ہیں

کیونکہ یہاں کی آبادی کی اکثریت دیہاڑی دار، محنت کش، کھیتی باری کرنیوالوں پر مشتمل ہے

وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلی محمود خان نوٹس لیں

ضلع مانسہرہ کی تحصیل بالاکوٹ کے رہائشیوں نے وزیراعظم پاکستان عمران خان، وزیر اعلی

خیبرپختونخوا سمیت دیگر اعلی حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ تمام تر صورتحال پر تحقیقات

کرائیں اور محکمہ واپڈا کے زمہ داروں سے اس ظالمانہ و مجرمانہ فعل پر قرار واقعی سزا دیں

علاؤہ ازیں انہوں نے کہا کہ پاکستانی شہری ہونے کے ناطے ہمارے دیگر مسائل کا بھی ازالہ کریں

ڈویژنل نمائندہ خصوصی کی طرف سے موصول ویڈیو کلپ

=قارئین=ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply