چینی صوبہ ہینان میں 2500 سال قدیم پہلی سکے ڈھالنے والی ورکشاپ دریافت

چینی صوبہ ہینان میں 2500 سال قدیم پہلی سکے ڈھالنے والی ورکشاپ دریافت

Spread the love

ژینگ ژو(جے ٹی این آن لائن دلچسپ و عجیب نیوز) سکے ڈھالنے والی ورکشاپ

طویل ترین جدوجہد کے بعد آخر کار چین کے ماہرین آثار قدیمہ نے دنیا کی سکے

ڈھالنے کی سب سے قدیم ترین ورکشاپ جو تقریبا 2 ہزار 500 سال پہلے قائم

ہوئی، چین کے وسطی صوبے ہینان میں دریافت کر لی ہے۔ ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کا

استعمال کرتے ہوئے چینی ماہرین آثار قدیمہ نے تصدیق کی ہے کہ ہینان کے

صوبائی دارالحکومت ژینگ ژو کے مغربی حصے شنگ یانگ سٹی میں گوآنز

ہوآنگ کے کھنڈرات میں کانسی کو ڈھال کر برتن بنانے والی ورکشاپ میں 640-

550 قبل مسیح میں دھات کے معیاری سکے بنانے کا کام شروع کیا گیا جو دنیا میں

سکے بنانے والی اب تک کی معلومات کے مطابق قدیم ترین ورکشاپ ہے۔

=–= ایسی ہی مزید دلچسپ و عجیب خبریں =–= پڑھیں =–=

سکے ڈھالنے والی ورکشاپ

چینی ماہرین آثار قدیمہ نے مزید بتایا کہ مزید کھدائی کے دوران سکوں کی تیاری

سے متعلق چاراقسام کے آثار بھی دریافت ہوئے ہیں، جن میں تیار شدہ سکے،

استعمال شدہ اور غیر استعمال شدہ سکوں کے سانچوں کے ساتھ ساتھ بیرونی

سانچے بھی شامل ہیں۔ ماہرین آثارقدیمہ نے کئی ایک گڑھے بھی دریافت کئے

جہاں بڑی مقدارمیں کانسی کے برتن بنانے کے دوران بچ جانے والے فضلے کو

دبایا گیا تھا، ایک گڑھے سے دو تیارشدہ دھات کے سکے بھی برآمد ہوئے ہیں۔

=–= معیشت و کاروبار سے متعلق مزید خبریں (=–= پڑھیں =–=)

سکے ڈھالنے والی ورکشاپ

ماہرین کے مطابق سکوں کو تجارت میں استعمال کیا جاتا تھا اور کئی جگہوں پر

پایا جا سکتا تھا، لیکن موسم بہار اور خزاں کے دور میں جب دھات کی کرنسیوں

نے ابھی مقبول ہونا شروع کیا تھا، ٹکسالوں کی تعداد ظاہر ہے کہ انتہائی محدود

تھی۔ یہ دریافت یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ چین دنیا میں کرنسی کی ابتدائی ترقی کی

تاریخ میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔

سکے ڈھالنے والی ورکشاپ ، سکے ڈھالنے والی ورکشاپ ، سکے ڈھالنے والی

ورکشاپ

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply