سپریم کورٹ کا اہل گلگت بلتستان کو بنیادی آئینی حقوق فراہم کرنے کا حکم

Spread the love

سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے گلگت بلتستان کے عوام کو بنیادی آئینی حقوق فراہم کرنے کا حکم دےدیا۔فیصلے میں کہا گیا کہ گلگت بلتستان کی عدالتیں آئین پاکستان کی تابع ہیں جبکہ سپریم کورٹ کا دائرہ کار بھی گلگت بلتستان تک نافذالعمل ہے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت پر کیس کی سماعت کی اور 7جنوری کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔فیصلے میں عدالت نے گلگت بلتستان کے عوام کو بنیادی آئینی حقوق فراہم کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی موجودہ حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، جس کے تحت کشمیر پر رائے شماری تک گلگت بلتستان کے عوام کو بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پاکستان اور بھارت اپنے زیر انتظام علاقوں کو زیادہ سے زیادہ حقوق دینے کے پابند ہیں، عدالت نے مثال کےلئے 1999 کے الجہاد کیس کا حوالہ دیا جس میں سپریم کورٹ گلگت بلتستان کو بنیادی حقوق فراہم کرنے کا حکم دے چکی تھی۔فیصلے میں عدالت نے قرار دیا سپریم کورٹ آف پاکستان کے اختیارات گلگت بلتستان میں بھی نافذ العمل ہیں، سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود نہیں کیا جاسکتا اور گلگت بلتستان کا کوئی بھی قانون سپریم کورٹ میں چیلنج ہوسکتا ہے۔عدالت نے ہدایت کی کہ وفاق کی سفارش پر صدر پاکستان مجوزہ عدالتی حکم کو نافذ کریں اس کے ساتھ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے گلگت بلتستان کے شہریوں کو مبارکباد دیتے ہوئے اس فیصلے کو تاریخی قرار دیا۔

Leave a Reply