سپریم کورٹ نے فرقہ ورانہ دہشت گردی میں ملوث ملزمان کو نوٹسز جاری کردیے

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سپریم کورٹ نے فرقہ ورانہ دہشت گردی میں ملوث ملزمان کو نوٹسز جاری کردیے، جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ پشاور ہائیکورٹ نے مذاق بنایا ہے، ریکارڈ دیکھے بغیر فیصلے ہو رہے ہیں،فیصلے ریاست کے لئے ہو رہے ہیں یا کسی اور کے لئے؟۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں فرقہ ورانہ دہشت گردی میں ملوث ملزمان کیخلاف مقدمہ کی سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے ملزمان شہزاد کیانی، تیمور فریدون، خالد عمر اور راجہ مصطفی کو نوٹسز جاری کردیے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ صوبائی ایپکس کمیٹی کے ذریعے یہ مقدمات وفاقی حکومت کو بھیجے گئے لیکن پشاور ہائیکورٹ نے ریکارڈ دیکھے بغیر ہی مقدمہ فوجی عدالت کی بجائے دہشت گردی عدالت میں چلانے کا حکم دیا۔جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے ریکارڈ دیکھے بغیر فیصلہ دیا، سمجھ نہیں آتا ہائیکورٹ کس کے ساتھ ہے، ریکارڈ دیکھے بغیر فیصلے پر فیصلے ہو رہے ہیں، فیصلے ریاست کے لئے ہو رہے ہیں یا کسی اور کے لئے؟، آوٹ آف وے جاکر ہائیکورٹ فیصلہ کرے تو کیا کر سکتے ہیں، ہائیکورٹ نے مذاق بنایا ہوا ہے۔ملزمان کے وکیل نے اپنے موقف میں کہا کہ ملزمان کے مقدمات فوجی عدالت کو طریقہ کار کے مطابق نہیں بھیجے گئے۔عدالت نے ملزمان کو نوٹس جاری کرکے کیس کی سماعت 15 دن کے لئے ملتوی کردی۔ یاد رہے ملزمان پر 2016 میں ایکسیئن کے فرقہ ورانہ قتل کا الزام ہے اور پشاور ہائیکورٹ نے یہ کیس دہشت گردی کی عدالت میں چلانے کا حکم دیا تھا۔ حکومت نے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی ہے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply