سنہرا جمعۃ المبارک

Spread the love

سانحہ کرائسٹ چرچ کے بعد نیوزی لینڈ کی حکومت اور وزیر اعظم نے تاریخ میں

اپنا نام سنہرے حروف میں درج کرالیا ، گزشتہ جعمہ کو شہرکی دو مساجد پر

دہشتگرد حملوں کے باعث ملک میں پائی جانےوالی ہیجانی کیفیت کو ختم کرنے

اور مسلم کمیونٹی کو مکمل طور پر اپنائیت کا احساس دلانے کیلئے سانحہ کے

ٹھیک ایک ہفتہ بعد یعنی دہشتگردی کے واقعہ کے دوسرے جعمہ کو دنیا بھرکے

مسلمانوں سے یکجہتی کرتے ہوئے جہاں پورے نیوزی لینڈ کے سرکاری ٹی وی

اورریڈیو پر براہ راست اذان نشرکی گئی،وہیں ہیگلے پارک میں جمعہ کی اذان کے

بعد شہدائ کے غم میں 2 منٹ کی خاموشی اختیارکی گئی، نمازجمعہ کی ادائیگی

کے بعد وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن اوردیگروزرا سمیت مختلف مذاہب کے افراد

مسلمانوں سے اظہاریکجہتی کیلئے پارک میں موجود رہے۔

نیوزی لینڈ کی النورمسجد کے پیش امام نے خطبہ جمعہ میں کہا نیوزی لینڈ کی

سوچ نے شیطانی نظریے کے تحت نقصان کی کوشش ناکام بنادی، نفرت اورانتہا

پسندی کوشکست ہوگئی۔ سانحہ کرائسٹ چرچ نیوزی لینڈ کیلئے نئی زندگی ثابت

ہوا، ہمارے دل ٹوٹے ہیں لیکن ہم نہیں ٹوٹے جبکہ نیوزی لینڈ کوتوڑا نہیں جاسکتا،

ہم ایک ہیں اورنیوزی لینڈ کے عوام کا اظہاریکجہتی غیرمعمولی ہے۔پیش امام نے

وزیراعظم نیوزی لینڈ سے اظہاریکجہتی اوراتحاد کا مظاہرہ کرنے پرشکریہ ادا

کرتے ہوئے کہا اسلام دشمنی ایک دن کی بات نہیں، آپ کی قیادت دنیا بھرکیلئے

سبق ہے، کوئی ہمیں تقسیم کرے ہم ایسی اجازت نہیں دیں گے۔

اس موقع پر وزیراعظم نیوزی لینڈ جیسنڈا آرڈرن نے بھی ہیگلے پارک میں نماز

جمعہ کے بعد حضورپاکؐ کی حدیث مبارک پڑھ کرسناتے ہوئے خطاب کا آغاز کیا۔

اور کہا حضورؐ نے فرمایا جو ایمان رکھتے ہیں، ان کی باہمی رحم دلی، ہمدردی

اوراحساس ایک جسم کی مانند ہوتا ہے، اگرجسم کے کسی ایک حصے کو بھی

تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم درد محسوس کرتا ہے۔ وزیراعظم نے حدیث پڑھنے

کے بعد مسلمانوں سے یکجہتی کا اظہارکرتے ہوئے کہا نیوزلینڈ آپ کے ساتھ دکھ

میں شریک ہے، ہم سب ایک ہیں۔

دوسری جانب کرائسٹ چرچ سانحے میں شہید ہو نے والے نعیم راشد اورطحہ نعیم

کی میتیں ورثا کے حوالے کردی گئیں، میتوں کو پاکستانی اورنیوزی لینڈ کے قومی

پرچموں میں لپیٹا گیا۔ اس موقع پرنعیم راشد کی والدہ، بیوہ اوربھائی بھی موجود

تھے۔دونوں شہدا کی میتوں کو پاکستانی اورنیوزی لینڈ کے قومی پرچموں میں لپیٹا

گیا جبکہ مقامی نوجوانوں نے ہیروکا کردارادا کرنے والے باپ بیٹے کومنفرد انداز

ماؤری قبائل کا جنگی رقص’’ ہاکا‘‘ کے ذریعے خراج عقیدت و تحسین پیش کیا

اس رقص میں نوجوان سینہ ٹھوک کر پاؤں زمین پر مارتے اور دشمن کو للکارتے

ہیں۔ بعدازاں نیوزی لینڈ کی مساجد میں دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے آٹھ

پاکستانی شہداء کو کرائسٹ چرچ کے قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا، نماز جنازہ

میں غمزدہ خاندانوں کے افراد نے بھی شرکت کی۔ دونوں ممالک نے شہداء کے

ورثاء کو تمام سفری سہولتیں فراہم کیں۔ شہید اریب احمد کا جسد خاکی چند روز

میں پاکستان لایا جائے گا۔

مسلمانوں سے اظہار یکجہتی پر نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کو

سوشل میڈیا پر جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنا بھی شروع ہو گئی ہیں،میڈیا

رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم کو ٹوئٹر پر ایک بندوق کی تصویر بھیجی گئی،

جس کے ساتھ یہ کیپشن درج تھا اس کے بعد آپ کی باری ہے۔ تاہم اس دھمکی

آمیزٹویٹ کی مختلف لوگوں کی جانب سے رپورٹ کرنے کے بعد اکاؤنٹ کو معطل

کردیا گیا۔اس کے علاوہ جیسنڈ آرڈرن اور نیوزی لینڈ پولیس کو مخاطب کرتے

ہوئے پوسٹ کی گئی دیگر تصویر میں اگلے آپ ہیں لکھا ہوا تھا۔ ٹوئٹر کی جانب

سے معطل کیے گئے اکاؤنٹ پر اسلام مخالف مواد اور سفید فام نفرت انگیز تقاریر

موجود تھیں۔اس حوالے سے پولیس کی ترجمان نے بتایا پولیس ٹوئٹر پر کیے جانے

والے تبصروں سے باخبر ہے اور تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں .

نیوزی لینڈ کی حکومت اور وزیر اعظم جیسنڈآرڈرن نے اپنے قول فعل سے جس

طرح دہشتگردی کو ہرگز ہر گز ناقابل قبول قرار دیا ہے ،امت مسلمہ کو بھی

چاہیے کہ وہ ایسے غیر مسلم امن و معتدل مزاج رہنمائوں کے ہاتھ مضبوط کرے

تاکہ بدی کی قوتوں کو ان کے مزموم عزائم میں ناکامی و نامرادی ہی ہاتھ لگے

ورنہ امن امن کی زبانی گردان سے کسی صورت امن قائم نہیں ہوسکتا ،

دنیا میں دہشتگردی نے کیوں اور کیسے جنم لیا یہ تو ایک طویل اور نہ ختم ہونے

والی بحث ہے لیکن اس پر قابو کیسے پایا جا سکتا ہے اور ختم کیسے کیا جا سکتا

ہے یہ نیوزی لینڈ کی نڈر و باہمت خاتون رہنمائ جیسنڈآرڈرن نے بتا دیا ہے ،

کیونکہ وہ آنے والے کل سے نہ صرف واقف ہیں بلکہ اس پر ایمان بھی رکھتی ہیں

22 مارچ 2019 کے دن کو روشن وسنہرا یوم قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا.

کیونکہ اس دن دنیا کے دو ایسے بڑے مذاہب کے پیروں کاروں نے ایک ہونے

کا عملی مظاہرہ کیا جن کی تاریخ میں صلیبی جنگیں رقم ہیں ،مگر یہ بھی مسلمہ

حقیقت ہے کہ زمانہ آخر میں ان ہی دونوں مذاہب کے پیروں کاروں نے دجال

جسے صہیونی طاقتیں اپنا نجات دہندہ قرار دیتی ہیں کو واصل جہنم کرنا پے .

Leave a Reply