115

سنگین غداری کیس کا فیصلہ موخر کیا جائے،حکومت اور پرویز مشرف کے وکیل کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواستیں،فل بنچ آج سماعت کرے گا

Spread the love

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ،آئی این پی)سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین

غداری کیس میں خصوصی عدالت کے محفوظ شدہ فیصلے کو روکنے کے لیے

وفاقی حکومت نے وزارت داخلہ کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست

دائر کردی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے غداری کیس کا فیصلہ موخر کرنے کی

درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی ، فل بنچ (آج)منگل کو پرویز مشرف اور

وزارت داخلہ کی درخواستوں کی سماعت کرے گا۔ سماعت چیف جسٹس اطہر من

اللہ، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل بنچ کریگا ۔اسلام

آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں حکومت نے موقف اپنا یا کہ

حکومت کو موقع ملنے اور نئے استغاثہ ٹیم کو تعینات کرنے تک خصوصی عدالت

کو کاروائی سے روکا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ سنگین غداری کیس میں پرویز

مشرف کے شریک ملزمان کو ٹرائل میں شامل ہی نہیں کیا گیا، استغاثہ کو 23

اکتوبر کو ڈی نوٹی فائی کیا گیامگر 24 اکتوبر کو بغیر اختیار کے مقدمہ کی پیروی

کی گئی۔حکومت کا کہنا تھا کہ کیس میں استغاثہ نے تحریری دلائل بھی جمع

کرائے جس کا اسے اختیار نہ تھا، خصوصی عدالت نے نئی استغاثہ ٹیم کو نوٹی

فائی کرنے کا موقع دیے بغیر حتمی فیصلے کی تاریخ مقرر کر دی۔درخواست میں

کہا گیا کہ وفاقی حکومت کو استغاثہ کو تبدیل کرنے کا اختیار ہے، خصوصی

عدالت کا سنگین غداری کیس کا فیصلہ محفوظ کرنے کا 19 نومبر کا حکم نامہ

کاالعدم قرار دیا جائے،عبوری ریلیف کے طور پر خصوصی عدالت کا فیصلہ

معطل کیا جائے اور خصوصی عدالت کو حتمی فیصلہ جاری کرنے سے روکا

جائے۔وزارت داخلہ نے موقف اپنایا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل درست نہیں کی

گئی تھی اور نہ ہی شکایت مجاز فرد کی جانب سے داخل کرائی گئی تھی، اس

معاملے کو بھی قانون کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے استدعا کی

کہ ‘پرویز مشرف کو صفائی کا موقع ملنے تک خصوصی عدالت کو فیصلہ دینے

سے روکا جائے۔دوسری درخواست میں سابق صدر پرویز مشرف کے وکیل نے

استدعا کی ہے کہ ان کے موکل کو صفائی کا موقع ملنے تک خصوصی عدالت کی

کارروائی معطل کی جائے۔

Leave a Reply