0

سندھ حکومت ڈیپوٹیشن ملازمین 6 ماہ میں واپس بھیجنے کا حکم

Spread the love

سپریم کورٹ نے سندھ میں ملازمین کی ڈیپوٹیشن کے معاملے میں سندھ حکومت کو تمام مقدمات چھ ماہ کی مدت میں نمٹا نے اور وفاقی محتسب برائے ہراسگی خواتین یاسمین عباسی کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ کے جج کو توہین عدالت نوٹس کیس میں اٹارنی جنرل اور صوبائی حکومتوں سے قانون کی تشریح کے حوالے سے جواب طلب کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق ڈیپوٹیشن کے معاملے پر جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل بنچ تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ، جسٹس گلزار نے ریمارکس دئیے سندھ حکومت مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے، وہ بندہ کون ہے جس نے یہ سب کیا ہے؟

یہ قوانین ان کیلئے کوئی اہمیت نہیں رکھتے، ملازمین ڈیپوٹیشن پر آئے ان کو واپس ان کے محکموں میں بھیجیں، سندھ حکومت کے پاس فیصلے کو ماننے یا انکار کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔

سندھ میں ملازمین کی ڈیپوٹیشن کے معاملے کی سماعت کرنیوالے بنچ کے سربراہ نے استفسار کیا وہ قانون دکھائیں جس کے تحت کسی کو انڈکٹ کیا جا سکے،

وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا اس موقع پر ایسا ممکن نہیں کچھ ملازمین اب گریڈ 20میں ہیں۔ جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا یہ تمام بھرتیاں کب ہوئیں؟ وکیل افتخار گیلانی نے بتایا یہ بھرتیاں 1994ء سے 1997ء کے درمیان ہوئیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا ان تمام ملازمین کو پراجیکٹ ملازمین کے طور پر انڈکٹ کیا جا سکتا تھا۔ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا یہ ملازمین صرف ایک پراجیکٹ کیلئے نہیں بلکہ واپڈا کے جنرل ملازمین تھے۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا آرٹیکل 187اس پر لاگو ہو گا، ملازمین متعلقہ فورم پر اپنے مقدمات چیلنج کر سکتے ہیں۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہم الگ الگ درخواستیں نہیں سن سکتے، درخواست گزار سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد مانگ رہے ہیں۔ فیصلے میں درج ہے یہ درخواست گزارنا ڈیپوٹیشن پر آئے تھے نہ واپڈا میں تھے بلکہ سندھ حکومت کے ملازمین تھے،

بعدازاں عدالت عظمی نے سندھ میں ملازمین کی ڈیپوٹیشن کے معاملے میں سندھ حکومت کو تمام مقدمات چھ ماہ کی مدت میں نمٹا نے کا حکم دیدیا اور سماعت ملتوی کر دی .

Leave a Reply