سندھ حکومت اپنے ذرائع آمدن میں اضافہ کر رہی ہے، مراد علی شاہ

Spread the love

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہاہے کہ این ایف سی کے تحت سندھ کو براہ راست منتقلی، تقسیم شدہ پول اور منتقلی میں تاخیر سے فنڈز ملتے ہیں۔سندھ حکومت کے اپنے آمدنی پیدا کرنے کے ذریعے ہیں جن کو ہم بڑھاتے جا رہے ہیں، مالی سال2017-18میں وفاقی حکومت نے627 بلین روپے دینے تھے لیکن 575 روپے دیئے،مالی سال2016-17 میں بھی661 بلین روپے کی بجائے 529بلین روپے دیئے گئ48%D2%8%پA9B%D1%8%و8C9%D2%8%ر848%D ی8%E ڸ%سѯ D85ظا %D ی8 %1 ی8%1%ػت BA9׌ بی %D ف % اجلاس کی تیاری کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ ممتاز شاہ، ایڈووکیٹ جنرل، سیکریٹری خزانہ اور مالیاتی ماہرین نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ سندھ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ این ایف سی کے تحت سندھ کو براہ راست منتقلی، تقسیم شدہ پول اور منتقلی میں تاخیر سے فنڈز ملتے ہیں۔ سندھ حکومت کے اپنے آمدنی پیدا کرنے کے ذریعے ہیں جن کو ہم بڑھاتے جا رہے ہیں۔سندھ خود16 فیصد نان ٹیکس،20 فیصد سندھ ڈولپمنٹ آف انفراسٹریکچر، 26 فیصد سروسز پر جی ایس ٹی اور 22 فیصد صوبائی آمدنی پیداکرتا ہے۔ وفاقی حکومت سروسز پر سیلز ٹیکس کی مد میں سندھ کو 2006 میں 4 بلین روپے،-10 2009 میں 7 بلین روپے اور 2010-11 میں 17 بلین روپے دیئے تھے۔سندھ حکومت نے 2011-12 سے خود سروسز پر سیلز ٹیکس جمع کرنا شروع کیا۔ سندھ سال 2011-12 میں 28 بلین روپے سے زیادہ کی کلیکشن کی جو 2017-18 میں 100 بلین روپے تک پہنچ گئی۔سندھ حکومت نے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ روڈ سیکٹر سے شروع کیا اور اس کے بعد تعلیم، صحت اور پاور سیکٹر میں بھی پی پی پی موڈ پر کام کر رہے ہیں۔سال 2012-13 سے 2017-18 تک سندھ حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں 18.1فیصد کا اضافہ کیا ہے۔سندھ حکومت گڈز پر سیلز ٹیکس جمع کرنا چاہتی ہے۔وزیراعلی سندھ نے کہاکہ گڈز پر سیلز ٹیکس کا وفاق صوبوں کو ہدف دے۔صوبے وفاق کی طرف سے کلیکشن کریں گے اور وہ سروس چارجز وصول کرنے کے بعد ساری رقم وفاقی حکومت کو دیں گے۔

Leave a Reply