Kud Kalami by Journalist Imran Rasheed Khan

سفید ریش بابا جی — جو مجھے رُلا گیا

Spread the love

سفید ریش بابا جی

صوبہ خیبرپختونخوا کے شہری علاقے ہوں یا مضافاتی، اراضی، دکانیں، مارکیٹیں

گھر، بنگلے یا شہر خموشاں (قبرستان) کوئی بھی جگہ قبضہ مافیا سے محفوظ نہیں

نظر آتی، زمینوں، جائیدادوں پرقبضہ کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے،

جب کہ اپنے حق کے حصول کی خاطر تھانوں، کچہریوں، اعلیٰ افسران و سیاسی

شخصیات کے دفاتر کے مسلسل چکر کاٹنے کے باوجود وہاں سے مایوس لوٹنے

والے متاثرین اپنی فریاد وزیراعظم عمران خان اور دیگر حکام بالا تک پہنچانے

اور داد رسی کیلئے بالآخر پریس کلب کا رخ کرتے ہیں-

=-،-= سفید ریش بزرگ اور کے یو جے الیکشن

رواں ماہ 16 نومبر کو پریس کلب میں خیبر یونین آف جرنلسٹس کے انتخابات

تھے، بحیثیت ووٹر اور سپورٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کیلئے آنیوالے

صحافی دوستوں کو کلب کے مین گیٹ پر ہی مل رہا تھا، بعض دوستوں کیساتھ

گپ شپ لگاتے اندر آنا اور پھر واپس باہر جانا پولنگ کے اختتام تک جاری رہا،

=–= مزید تجزیاتی رپورٹس، کالمز اور بلاگ ( =–= پڑھیں =–= )

اس دوران میری نظر گیٹ کے قریب بیٹھے ایک معمر شخص پر پڑی جو ہر آنے

جانیوالے کو سوالی نگاہوں سے تک رہا تھا، ہاتھ میں ڈھیر ساری تصاویر، کاغذوں

سے بھرا لفافہ تھامے، اس سفید ریش سادہ لوح بزرگ کی تلخئ حیات اور زمانے

کی بے رحمی، اس کے چہرے پر نمایاں تھی، سو اس پاس چلا گیا تاکہ جاں سکوں

آخر ماجرہ کیا ہے، سلام ، دعا کے بعد گفتگو کا آغاز روایتی طور پر حال احوال

پوچھتے ہوئے کیا تو اس کی جانب سے جواب کچھ یوں ملا،

=-،-= بیٹا بڑی امید لیکر آیا ہوں، میری حکام تک بات پہنچا دیں

بیٹا حال یہ ہے کہ در بدر کی ٹھوکریں کھانے کے بعد، یہاں اس امید کیساتھ آیا ہوں

کہ آپ لوگ میری آواز ریاست کے زمہ داروں تک پہنچانے میں مدد کرو گے،

جس سے شاید مجھے انصاف مل جائے، یہاں بہت سارے لوگوں کا آنا جانا لگا ہوا

ہے، لیکن زیادہ تر لوگ ایک دوسرے کیساتھ ملنے ملانے میں مصروف نظر آ

رہے ہیں، میں نے سر ہلاتے ہوئے جواب دیا، جی ہاں آج یہاں الیکشن ہے، ویسے

آپ کا مسئلہ کیا ہے؟ تو بابا جی نے کانپتے ہاتھوں سے پلاسٹک کا شاپر کھولا اور

کاغذات دکھانے اور مسئلے کی تفصیلات بتانے لگا، تاہم اس دوران اس سے کچھ

کاغذ زمین پر بھی گر گئے، جنہیں اٹھانے میں بابا جی کی مدد کیلئے میں نیچے

جھکا اور پھر وہیں زمین پر بیٹھ کر ان سے مسئلے کی آگاہی لینا شروع کر دی-

=-،-= کلام الہی پر فیصلے کے باوجود گھر ہتھیا لیا گیا

ورسک روڈ پر واقع شاہی بالا سے متصل علاقے برج ناصر خان کلے کے رہائشی

معمر شخص گل خان نے بتایا کہ ان کی زمین گاؤں کے دو مقامات پر ہے، دونوں

میں تھوڑا ہی فاصلہ ہے، ایک جگہ زمین پر کافی عرصہ پہلے قبضہ کر لیا گیا،

جب کہ دوسری جگہ ان کی اراضی پر تقریبا پانچ ماہ پہلے 30 ہزار روپے قرضہ

ادا نہ کرنے پر قبضہ کیا گیا ہے، جس کے بعد علاقائی جرگے میں کلامی الٰہی پر

طے پائے فیصلے کے مطابق مجھے میری ہی زمین میں سے تقریباً ایک کنال

اراضی واپس کی گئی، تاہم کچھ عرصہ بعد زبردستی میرے گھر کی چار دیواری،

کمروں کی دیواریں اور چھت توڑ کر باہر والے حصے پر بھی قبضہ کر لیا گیا۔

انہوں نے بات چیت کے دوران روتے ہوئے جب مجھے اپنے بازو اور سر پر لگے

زخم دکھاے تو میری بھی آنکھیں پُرنم ہو گئیں، تاہم اپنے جذبات پر قابو پایا اور بابا

جی کو تسلی دیتے ہوئے اگلا سوال کیا

=-،-= دیکھیں مظلوم بابا جی کی ویڈیو فریاد

صوبائی دارالحکومت پشاور کے ورسک روڈ پر واقع شاہی بالا سے متصل علاقے

برج ناصر خان کلے کے رہائشی معمر شخص گل خان پر ظالم سماج کی طرف

سے کئے گئے ظلم و ستم کی داستان کا کچھ حصہ ہمارے فیس بک پیج پر ویڈیو

رپورٹ میں دیکھ، سن چکے ہوں گے، لہذا وہ تفصیلات یہاں شامل کئے بغیر آگے

بڑھتے ہیں- بابا جی نے پہلے والی اراضی پر قبضہ کرنیوالے گروہ کیخلاف کیس

اور اپنے حق کی خاطر جدوجہد کے بارے میں مزید بتایا کہ مقامی تھانہ، پولیس

افسران کے دفاتر اور سیاسی شخصیات کے پاس بار ہا فریادی بن کر گیا، لیکن

کسی نے بھی کوئی مدد نہیں کی، مگر مجھے سب سے زیادہ وکیلوں کی طرف

سے تکالیف اور اذیت کا سامنا رہا-

=-،-= وکیل نے بھی دھوکہ کیا، فیس لیتا رہا، کیس داخل ہی نہ کیا

بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض وکیل دھوکہ دہی کے

زریعے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں، جس کی زندہ مثال وہ خود ہیں

کہ چار سال تک مسلسل عدالت جاتے آتے رہے، وکیل ان سے وقت فوقتاً اپنی فیس

بھی وصول کرتا رہا، تاہم چار سال بعد معلوم ہوا کہ ابھی تک وکیل کی جانب سے

عدالت میں ان کا کیس ہی داخل نہیں کرایا گیا۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان،

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیف جسٹس پاکستان، چیف جسٹس پشاور ہائی

کورٹ اور وزیراعلیٰ کے پی کے محمود خان سے درخواست کی، کہ وہ میرے

ساتھ ہونیوالی ناانصافی کی خود چھان بین کرائیں، تاکہ مجھ غریب و لاچار انسان

کو حق مل سکے۔ درد بھری آہ کیساتھ بابا جی یہ کہہ کر چُپ ہو گئے، اپنی مقبوضہ

اراضی اور گھر کے کاغذات کی فوٹو کاپیاں مجھے تھمائیں اور چل دیئے-

=-،-= خیبر پختونخوا سے مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

میں وہیں زمین پر کافی دیر بیٹھا سوچتا رہا کہ جب موت آنی ہے تو سوائے نیک و

بد اعمال ساتھ جانے ہیں اور باقی سب کچھ یہیں رہ جانا ہے تو پھر ایک انسان

دوسرے انسان کیساتھ ایسی ناانصافی، ظلم کیوں کر روا رکھے چلے آ رہا ہے؟،

لیکن مقام افسوس یہ ہے کہ ہمارے یہاں قانون کی عمل داری اور نظام انصاف اس

قدر کمزور ہیں کہ فریادی کو داد رسی کیلئے پریس کلب کا سہارا لینا پڑتا ہے-

سفید ریش بابا جی ، سفید ریش بابا جی ، سفید ریش بابا جی ، سفید ریش بابا جی

سفید ریش بابا جی ، سفید ریش بابا جی ، سفید ریش بابا جی ، سفید ریش بابا جی

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply