سفری سہولت ،لین دین کے علاوہ ڈالر خریدنا ہوس زر،ذخیرہ اندوز ملعون ،کمائی حرام،مفتی منیب

Spread the love

اسلام آباد،کراچی (اپنے رپورٹر سے ) مفتی تقی عثمانی کے بعد چیئرمین اسلامی

نظریاتی کونسل قبلہ ایاز نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میںجو ڈالر کی ذخیرہ

اندوزی کر رہے ہیں وہ حرام کمائی کھا رہے ہیں۔چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل

کا کہنا تھا ملکی مفادکونقصان پہنچانیوالوں پراللہ کاعذاب ہے، اسلام ذخیرہ اندوزی

کی اجازت نہیں دیتا، ڈالر ذخیرہ کرنا،عوام کیمفادکیخلاف کام کرنیکی اجازت

شریعت نہیں دیتی۔قبلہ ایاز نے کہا ہمیں بحیثیت قوم مل کر اس بحران کامقابلہ

کرناہوگا، ملکی مفاداولین ترجیح ہونی چاہئے، ملکی معیشت سے فائدہ پوری قوم کو

ہوگا۔تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان کے صدر اور رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین

مفتی منیب الرحمن نے کہاہے کہ جب کسی چیز کی ملک وقوم کو شدیدضرورت ہو

اور ذاتی منافع خوری کے لیے اُسے خرید کر ذخیرہ اندوزی کرنا شریعت کی رُو

سے منع ہے ،غیر ملکی زرِ مبادلہ ،لین دین بنیادی ضروریات نہیں،اس لئے اس پر

ٹوٹ پڑنا محض ہوسِ زَر ہے ، انتہائی ناپسندیدہ فعل ہے ۔البتہ غیر ملکی سفری

ضروریات کے لیے ضرورت کے مطابق زرِ مبادلہ رکھنا درست ہے۔ بدھ کو

جاری بیان میں مفتی منیب الرحمن نے ڈالر کی قیمت میں غیر معمولی اضافے کے

حوالے سے تفصیلی بیان شق وار جاری کیاکہ جن کے پاس غیر ملکی کرنسیوں

کے خرید وفروخت کا لائسنس ہے ، اُن کا کاروبارجائز ہے ،اگر کسی کے پاس

حکومتی لائسنس نہیں یہ منافع خوری اور ناجائز ہے۔ پاکستان ڈالر کی قلت کا شکار

ہے ۔جب کسی چیز کی ملک وقوم کو شدیدضرورت ہوتو ذاتی منافع خوری کے

لیے اُسے خرید کر ذخیرہ اندوزی کرنا شریعت کی رُو سے منع ہے ، کیونکہ

رسول اللہؐ کا فرمان ہے تاجر خوش بخت ، ذخیرہ اندوز ی کرنے والا ملعون ،

خطاکار ، جس نے مسلمانوں پر ذخیرہ اندوزی کی اللہ اُس پر کوڑھ، افلاس مسلّط

کردے گا ۔واضح رہے کہ مُطلقاً اشیائے ضرورت کا ذخیرہ جمع کرنا منع نہیں ہے

، ملک کے اندر لین دین مقامی کرنسی میں ہوتاہے ، اس لیے غیر ملکی زرِ مبادلہ

پر ٹوٹ پڑنا محض ہوسِ زَر ہے۔

Leave a Reply