0

سعودی عرب معاشی اصلاحات ‘خواتین ملازمین میں ریکارڈ اضافہ

Spread the love

سعودی عرب میں گزشتہ چند سال سے معاشی اصلاحات پروگرام کی وجہ سے جہاں بیرون ممالک کے افراد کو ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔وہیں حیران کن طور پر مقامی افراد کی جانب سے ملازمتیں کرنے میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔سعودی حکومت کے اصلاحاتی پروگرام کے تحت ملک بھر میں زیادہ سے زیادہ ملازمتوں کے مواقع مقامی افراد کو دیے جانے کا منصوبہ ہے، جس کے تحت اب ریکارڈ تعداد میں مقامی نوجوان ملازمتیں کرنے لگے ہیں۔سعودی عرب میں گزشتہ 2 سال میں جہاں مرد حضرات ملازمین کی تعداد میں اضافہ ہوا، وہیں خواتین کی تعداد میں بھی ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا۔سعودی حکومت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک بھر کے ملازموں کی نصف تعداد خواتین پر مبنی ہے۔ سعودی عرب کے محکمہ شماریات کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ایک سال سے کم عرصے کے دوران سعودی عرب میں 2 لاکھ 60 ہزار ملازمین کا اضافہ ہوا۔اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں سیلز اور اس طرح کی دیگر نوکریوں میں 2 لاکھ 60 ہزار افراد کو ملازمتیں ملیں، جن میں سے 48 فیصد ملازمتیں خواتین کی دی گئیں۔رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ 2 لاکھ 60 ہزار ملازمین میں سے ایک لاکھ 25 ہزار سے زائد ملازمین خواتین تھیں۔محکمہ شماریات کے مطابق 2017 کی پہلی سہ ماہی میں 44 ہزار سعودی عرب کے افراد نے ملازمتین حاصل کی تھیں اور 2018 کی تیسری سہ ماہی تک ملازموں کی تعداد میں 20 فیصد اضافہ ہوا۔گزشتہ برس کی تیسری سہ ماہی تک سعودی عرب کے تمام علاقوں میں خواتین ملازمین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا۔دوسری جانب خبر رساں ادارے سعودی گزٹ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اس وقت سعودی عرب میں خواتین ملازمین کی مجموعی تعداد بڑھ کر 6 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی میں خواتین کی خود مختاری اور ملازمتوں کے حوالے سے منعقدہ ایک سیمینار میں ریاست مکہ کے منسٹری برانچ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل نوال عبداللہ التھبیان نے بتایا کہ سعودی عرب کی خواتین ملازمین نہ صرف محنت سے آگے بڑھ رہی ہیں بلکہ وہ ایسے کام بھی سر انجام دے رہی ہیں جو ان کے لیے چیلنج تھے۔انہوں نے مزید بتایا کہ سعودی حکومت نے خواتین کو ملازمتیں فراہم کرنے کے لیے 344 ارب ریال کی سرمایہ کاری سے 499 نئے منصوبے شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔

Leave a Reply