halat e hazra jtnonline 170

سعودی عرب اور ایران کے مابین کشیدگی کے خاتمے کی نوید ممکن؟

Spread the love

(تجزیہ:ابو رجا حیدر) سعودی عرب ایران کشیدگی

برادر اسلامی ممالک ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی ختم اور دونوں

ممالک کو مذاکرات کی میز پر لا کر باہمی اختلافات اور غلط فہمیاں دور کرانے

کیلئے پاکستان نے اپنا کردار ادا کرنا شروع کردیا جبکہ اسلام آباد کیساتھ عراق

سمیت دیگر چند دوست ممالک بھی ریاض اور تہران کے مابین کشیدگی میں کمی

لانے کیلئے بھی اپنا کردار ادا کرنے میں لگ گئے تاکہ عالمی امن کو لاحق

خطرات کو ٹالا جا سکے-

کشیدگی خاتمے کی کوششوں میں تیزی

امریکی خبر رساں ادارے نیو یارک ٹائمز میں شائع خبر کے مطابق سعودی عرب

اور ایران کشیدگی ختم کرانے کیلئے کوششوں میں تیزی آ گئی ہے، مشرق وسطیٰ

کے دونوں ممالک میں کافی عرصے سے تعلقات کشیدہ ہیں جبکہ چند روز قبل

سعودی آئل کمپنی آرامکو کو ڈرون حملوں سے نشانہ بنائے جانے کے بعد ایسے

خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ دونوں ممالک کے مابین کسی بھی وقت جنگ

شروع ہو سکتی ہے، تاہم اس دوران سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کا

ایک انٹرویو جس میں انہوں نے کہا میں ایران کیساتھ لڑائی نہیں چاہتا کیونکہ جنگ

عالمی معیشت برباد کر دے گی۔ اس دوران وزیراعظم پاکستان عمران خان اقوام

متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل سعودی عرب گئے تھے، جہاں انہوں

نے سعودی عرب کی قیادت سے باہمی تعلقات، ریاض تہران کشیدگی، مقبوضہ

کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سمیت دیگر باہمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا

اور جب وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے جدہ سے

سیدھا امریکہ پہنچے تو یہاں انہوں نے انکشاف کیا کہ سعودی عرب نے ایران

کیساتھ کشیدگی ختم کرانے کیلئے انہیں ثالثی کی درخواست کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ پر جنگ کے منڈلاتے بادل

نیو یارک ٹائمز کی خبر کے مطابق ایک پاکستانی اہلکار نے شناخت مخفی رکھتے

ہوئے امریکی اخبار کو یہ بھی بتایا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے عمران

خان کو کہا ریاض تہران کیساتھ کسی بھی طور جنگ نہیں چاہتا، آپکو ثالثی کا

اختیار دیتے ہیں تاکہ موجودہ کشیدہ صورتحال ختم اور تعلقات معمول پر آسکیں

اور دنیا کو جنگ کے خدشات سے بچایا جا سکے ورنہ دوسری صورت میں عالمی

معشیت سنگین بحران سے دوچار ہو سکتی ہے جس کے بعد اقوام متحدہ کے جنرل

اسمبلی اجلاس سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے برادری ہمسایہ

ملک اسلامی جموری ایران کے صدر حسن روحانی جو خود بھی جنرل اسمبلی

کے اجلاس میں شرکت کیلئے نیویارک آئے ہوئے تھے ملاقات کی تھی جبکہ

اجلاس کے بعد پاکستان کے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے نیویارک

سے وطن واپسی سے قبل اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف سے بھی

’خصوصی‘ ملاقات کی تھی۔

مزید پڑھیں: امریکہ،سعودی عرب کی ایران کیساتھ کشیدگی اورعالمی برادری

وزیراعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے چند روز بعد عراقی وزیر

اعظم عادل عبدالمہدی نے بھی سعودی ولی عہد سے ملاقات کی تھی جس کے

حوالے سے عرب خبر رساں ادارے نے عراقی ذرا ئع کے حوالے سے بتایا تھا

کہ سعودی عرب نے ایران کیساتھ کشیدگی ختم کرانے کیلئے عراقی وزیراعظم

سے بھی کردار ادا کرنیکی درخواست کی تھی اور اس موقع پر عراقی وزیراعظم

عادل عبد المہدی نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ایرانی صدر روحانی کو

بغداد میں براہ راست ملاقات کی تجویز بھی دی جبکہ اس دوران تہران حکومت نے

بھی کہا تھا اسے سعودی عرب نے مذاکرات کیلئے مختلف ذرائع سے ایران کو

پیغامات بھجوائے ہیں، تاہم سعودی عرب نے ایسی خبروں کی سختی سے تردید کی

تھی۔

سعودی ولی عہد، ایرانی قیادت کے موقف میں تبدیلی

محمد بن سلمان نے ولی عہد بننے کے بعد ہی سے ایران کو مشرق وسطیٰ کے تمام

مسائل کی جڑ قرار دیا تھا اور 2017 میں انہوں نے کہا تھا ایران کا اصل ہدف

سعودی عرب ہے لیکن وہ سعودی سرزمین پر جنگ شروع ہونے کا انتظار نہیں

کریں گے بلکہ ایران کو میدان جنگ بنائیں گے، اب سعودی پالیسی میں بظاہر

تبدیلی کے ضمن میں نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ سعودی عرب میں تیل کی

تنصیبات پر حملوں کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کیخلاف کسی فوجی کارروائی

سے گریز کیا جبکہ سعودی عرب کا ملکی سکیورٹی یقینی بنانے کیلئے امریکہ پر

انحصار ہے، لیکن امریکہ کی جانب سے ایران کےخلاف عسکری کارروائی سے

گریزاں ہونے کے واقعے نے سعودی حکام کو ایران کیساتھ اپنے تعلقات پر نظر

ثانی کرنے پر مجبور کردیا۔

خلیجی ریاستوں کی دانشمندی اور صائب مشورہ

دوسری جانب ریاض کے خلیجی اتحادی بھی ایران اور سعودی عرب کے درمیاں

کشیدگی ختم کرنے کیلئے سفارتی راستے اختیار کرنے کا کھل کر اظہار کرنے

کیساتھ ساتھ ایران سے براہ راست مذاکرات کیلئے بھی رضا مند ہیں کیونکہ تہران

کی خواہش اور کوشش یہ بھی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل کے

اتحادیوں کی تعداد میں اضافہ نہ ہواور ایرانی صدر حسن روحانی اس ضمن میں

دبے الفاظ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں خلیجی ممالک

کو کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران آپکا پڑوسی ہے، وقت پڑنے پر آپ اور ہم تنہا

ہونگے، ہم ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں، امریکہ نہیں جو ایران کی جانب سے

بھی باہمی اختلافات مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر طے کرنے اور کشیدگی ختم کرنے

کا واضح اشارہ تھا-

ریاض، تہران کی “خواہشِ امن” بڑی پیش رفت

دونوں برادر اسلامی ممالک کے مابین دونوں ہی کی خواہش پر پاکستان اورعراق

سمیت دیگر دوست ممالک کی جانب سے کشیدگی ختم کرانے اور تعلقات میں

بہتری لانے کیلئے سفارتکاری کی کوششوں کا آغاز ہوچکا ہے تو امید کی جاتی

ہے کہ دونوں ممالک موجودہ عالمی سیاسی و معاشی صورتحال سامراجی قوتوں

کی چالوں کا ادارک کرتے ہوئے اپنے اپنے موقف میں لچک پیدا کرنے سمیت

“انائوں” کے خول سے باہر نکل کر اپنے ممالک اور عوام کے استحکام کو سامنے

رکھتے ہوئے باہمی اختلافات جو غلط فہمیوں کے سوا کچھ نہیں کو دور کرنے کا

کھلے دل سے مظاہرہ کریں گے، تبھی جا کر پاکستان، عراق و دیگر دوست ممالک

کی کوششیں بارآور ہونگی ورنہ نشستند گفتند برخاستند کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا

بلکہ دونوں ممالک سمیت دنیا اور بالخصوص مسلم ممالک کی تکالیف و مشکلات

میں مزید اضافہ ہوگا جو کسی بھی طور ایران اور سعودی عرب نہیں چاہیں گے-

امریکی صدر ٹرمپ کی احمقانہ عالمی سیاست

سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ دونوں برادر ممالک نے پاکستان کو اس قابل

سمجھا کہ وہ ان دونں کے مابین اختلافات کے خاتمے میں اخلاص کیساتھ کردار ادا

کرسکتا ہے اور اس کا کریڈیٹ وطن عزیز کی موجودہ سیاسی و عسکری قیادت کو

تو جاتا ہی ہے لیکن امریکی صدر ٹرمپ کی احمقانہ عالمی سیاست بھی اس کا بڑا

سبب ہے جو مزید خوشی و مسرت کا ساماں ہے کیونکہ اسلامی ممالک ایک

دوسرے پر انحصار کی بجائے اغیار کو اپنا دوست سمجھتے چلے آ رہے ہیں مگر

ہر بار دھوکا کھا بیٹھتے ہیں تاہم اب نظر آ رہا ہے کہ مستقبل میں وہ ایسا نہیں کریں

گے تاکہ دھوکا دہی سے بچ سکیں-

سعودی عرب ایران کشیدگی

Leave a Reply