سعودی عرب میں اہرامِ مصر سے پرانے حیرت انگیز آثار قدیمہ کی بہتات

سعودی عرب میں اہرامِ مصر سے پرانے حیرت انگیز آثار قدیمہ کی بہتات

Spread the love

ریاض(جے ٹی این آن لائن دلچسپ و عجیب نیوز) سعودی عرب اہرامِ مصر

سعودی وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللہ نے کہا ہے کہ ایک امریکی تحقیقی

مطالعے کے مطابق سعودی عرب کے شمال مغربی علاقے میں آثار قدیمہ کی اہم

دریافت سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ عظیم الجثہ پتھری ڈھانچے دنیا کے

قدیم ترین تاریخی ورثہ شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات اپنے ایک ٹویٹ میں بتائی

اور مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے سعودی شہزادے نے کہا مذکورہ آثار کی

عمر 7000 برس سے زیادہ ہے۔

=.= یہ بھی پڑھیں، سعودی عرب میں موجود پُراسرار غاروں کی حقیقت آشکار

Ancient of Saudi Arab

امریکی مطالعے میں محققین کے حوالے سے یہ دلچسپ انکشاف بھی کیا گیا کہ

سعودی عرب میں چٹان سے بنے ہزاروں قدیم ڈھانچے درحقیقت مصر میں واقع

اہرام اور برطانیہ میں واقع پتھری دائروں سے زیادہ پرانے ہیں۔ تحقیقی مطالعے

کی ملفہ اور پرتھ میں ویسٹرن آسٹریلیا یونیورسٹی میں آثار قدیمہ کی سائنسدان

میلیسا کینیڈی کے مطابق تحقیق میں 1000 سے زیادہ پتھری ڈھانچوں کا مطالعہ کیا

گیا۔ سعودی عرب میں یہ آثار 2 لاکھ مربع کلومیٹر یا 77000 مربع میل سے زیادہ

کے رقبے پر پھیلے ہوئے ملے۔ یہ تمام پتھری ڈھانچے شکل میں ایک دوسرے

سے بہت زیادہ ملتے ہیں۔ تحقیقی مطالعے کے مرکزی ملف ہیو تھامس نے واضح

کیا کہ بعض قدیم ڈھانچوں کی لمبائی 1500 فٹ سے زیادہ ہے تاہم یہ نسبتا تنگ

ہیں۔ یہ ڈھانچے چٹانوں کی بنیادوں کے علاوہ پہاڑی اور علاقوں اور نسبتا نشیبی

علاقوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔

=–= ایسی ہی مزید دلچسپ و عجیب خبریں =–= پڑھیں =–=

بعض محققین کا خیال ہے یہ عظیم الجثہ ڈھانچے کسی سواری کو ایک جانب سے

دوسری جانب لے جانے کے لیے بنائے گئے۔ کینیڈی اور تھامس کے مطابق انہوں

نے جن ڈھانچوں کا سروے کیا ان میں ایک ایسا ڈھانچہ بھی تھا جس کو 12 ہزار

ٹن سیاہ مرمر پتھروں کو منتقل کر کے تیار کیا گیا۔ اس مشقت طلب کام میں یقینا

دسیوں مہینے لگ گئے ہوں گے۔ یہ بات جانی نہیں جا سکی ہے کہ پرانے لوگوں

نے یہ پتھری ڈھانچے کیوں تیار کیے تھے۔ البتہ کینیڈی کے قیاس کے مطابق ان

میں سے بعض کو صرف ایک بار استعمال کیا گیا۔

=قارئین=کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں</a

واضح رہے کہ آثار قدیمہ کے ان تحقیقی مطالعوں کی فنڈنگ العلا روئل کمیشن کی

جانب سے کی جاتی ہے۔ یہ کمیشن سعودی عرب کی حکومت نے قائم کیا تھا۔ اس

کا مقصد مملکت کے شمال مغرب میں واقع العلا کے علاقے میں تاریخی ورثے کا

تحفظ ہے۔ العلا میں کئی قدیم تاریخی تعمیرات پائی جاتی ہیں۔

سعودی عرب اہرامِ مصر ، سعودی عرب اہرامِ مصر

Leave a Reply