سعودی عدالت میں صحافی جمال خاشقجی قتل کیس کی سماعت

Spread the love

سعودی عرب کے اٹارنی جنرل نے صحافی جمال خاشقجی قتل کے مقدمے میں

دوران سماعت 11 مبینہ قاتلوں کی سزائے موت کا مطالبہ کردیا، ریاض کی عدالت

میں 11 ملزمان اپنے وکلا کے ہمراہ پیش ہوئے۔مذکورہ کیس سے متعلق اٹارنی

جنرل نے بتایا کہ سعودی عرب نے جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق شواہد کی

فراہمی کے لیے ترکی سے دو مرتبہ درخواست کی تاہم استنبول کی جانب سے

کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔واضح رہے کہ 2 اکتوبر 2018 کو اس وقت عالمی

میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہے جب وہ ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی

عرب کے قونصل خانے میں داخل ہوئے لیکن واپس نہیں آئے، بعد ازاں ان کے

حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ انہیں قونصل خانے میں ہی قتل کر دیا گیا ہے۔

اس حوالیسے بتایا گیا کہ ’11 ملزمان کے نام تاحال جاری نہیں کیے گئے‘۔خیال

رہے کہ جمال خاشقجی عالمی اشاعتی ادارے واشنگٹن پوسٹ کے لیے لکھاری

تھے۔ترک حکام کے مطابق 59 سالہ جمال خاشقجی کو قتل اور ان کی لاش کے

ٹکڑے کرنے کی غرض سے 15 سعودی افراد استنبول پہنچے تھے۔رپورٹس کے

مطابق ان کی باقیات برآمد نہیں ہو سکے جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ ان کی

لاش کو تیزاب میں زائل کردیا گیا۔دوسری جانب امریکی سینٹرل انٹیلی جنس

ایجنسی (سی آئی اے) نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ’قومی امکان ہے کہ

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ہی جمال خاشقجی کے قتل کا حکم دیا ہو‘۔سی

آئی اے کے الزام کے تناظر میں گزشتہ نومبر میں سعودی اٹارنی جنرل نے

سعودی ولی عہد کی قتل میں ’ملوث‘ ہونے کا امکان بھی رد کردیا تھا۔

Leave a Reply