سعودی خواتین کیلئے علیحدہ ساحل، مفرورخادماؤں کو ملازمت دینے پر جرمانہ

سعودی خواتین کیلئے علیحدہ ساحل، مفرورخادماؤں کو ملازمت دینے پر جرمانہ

Spread the love

ریاض(جے ٹی این آن لائن خواتین نیوز) سعودی خواتین علیحدہ ساحل

سعودی عرب میں خواتین کیلئے علیحدہ ساحل بنانے پر کام شروع کر دیا گیا ہے،

ساحل پر سبزہ زاروں کے علاوہ ریستوران، قہوہ خانے، سپر مارکیٹ اور مختلف

قسم کی سہولتیں مہیا کی جائیں گی۔ سعودی میڈیا کے مطابق الجبیل انڈسٹریل سٹی

کی بلدیاتی کونسل نے جبیل میں خواتین کیلئے پہلا علیحدہ ساحل کورنیش سی فرنٹ

کے شمال میں بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس ضمن میں چیئرمین بلدیاتی

کونسل نائف الدویش کے مطابق ساحل کا ڈیزائن تیار کر لیا گیا، اس پر 90 روز

کے اندر کام شروع کر دیا جائیگا جو ہمارے سیاحتی منصوبوں میں سے ایک ہو

گا، اس حوالے سے 5 سالہ منصوبہ تیار کر لیا ہے۔

=-= ایسی ہی مزید معلومات پر مبنی خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

خواتین کیلئے پہلا علیحدہ ساحل سعودی وژن 2030ء کا حصہ ہے، اس کا مقصد

بلدیاتی کونسل کی سرمایہ کاری کو نئی جہت دینا اور زندگی کا معیار بلند کرنا ہے۔

چیئرمین ںائف الدویش کا مزید کہنا تھا کہ یہاں پرائیوسی کا خصوصی طور پر خیال

رکھا جائیگا، یہ الجبیل شہر کی آبادی سے قریب ہو گا اور اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ

الجبیل انڈسٹریل سٹی کے باشندے آسانی سے ساحل پہنچ سکیں گے اور وہاں سیر

کر سکیں گے۔

=-= کسی شخص کوغیر قانونی مملکت لانا، نوکری دینا بھی قانون شکنی

سعودی عرب کے معروف وکیل نایف المرشدی نے خبردار کیا ہے کہ مفرور

خادماﺅں اور گھریلوملازمین کو روزگار دینے پر بھاری جرمانہ اور جیل کی سزا

ہو سکتی ہے۔ سعودی عرب میں بالخصوص ماہ رمضان میں خادماؤں اور گھریلو

ملازمین کو ملازمت پر زیادہ رکھا جاتا ہے اس حوالے سے سعودی وکیل نے تنبیہ

کی ہے کہ ملازمین کو چانچ پڑتال کے بعد روزگار دیا جائے، گھر میں کام کرنے

والی خادمائیں یا ملازمین مفرور ہوئیں تو سخت کارروائی ہو گی۔ قواعد کی خلاف

ورزی پر 10 لاکھ ریال جرمانہ اور دو برس تک قید کی سزا ہے۔ کسی بھی غیر

ملکی کوغیر قانونی طور پر مملکت لانا اور اسے نوکری فراہم کرنا قانون شکنی

ہے، ایسا کرنیوالوں پر بھی بھاری جرمانہ ہوتا ہے۔

سعودی خواتین علیحدہ ساحل

=قارئین=ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں</a

Leave a Reply