سری لنکا ایسٹر پر دھماکوں سے لرز اٹھا، 207 ہلاک، 460 زخمی، ملک بھر میں کرفیو نافذ

Spread the love

کولمبو(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں ) سری لنکا میں دارالحکومت کولمبو سمیت

مختلف شہروں میں مسیحی براردی کے مذہبی تہوارایسٹر کے موقع پر3 گرجا

گھروں اور3 ہوٹلوں میں یکے بعد دیگرے 8 دھما کوں کے نتیجے میں 207 افراد

ہلاک اور 460 سے زائد زخمی ہوگئے، ہلاک ہونے والوں میں امریکی وبرطانوی

شہریوں سمیت 35 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ سری لنکن صدر متھری پالا سری

سینا نے عوام سے صبر و تحمل اور حکومت سے تعاون کرنے کی اپیل کرتے

ہوئے ملک بھر میں صبح 6 تا شام 6 بجے تک کرفیو نافذ جبکہ آج اورکل عام

تعطیل کا اعلان کر دیا۔ حکام کے مطابق صدر نے یہ اقدام ممکنہ احتجاجی

مظاہروں اور امن عامہ کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے اْٹھایا ہے۔ سری لنکن

حکام کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں 8 مقامات پر بم دھماکے کیے گئے

جن میں کولمبو کے 3 ہوٹلز دی شینگریلا، سینامن گرانڈ اور کنگز بری اور ایک

چرچ جبکہ باٹی کالوا اور کاٹوواپٹیا شہر میں بھی ایک ایک چرچ کو نشانہ بنایا

گیا، ایسٹر تہوار کے باعث گرجا گھروں اور ہوٹلوں میں رش کی وجہ سے زیادہ

جانی نقصان ہوا۔ چرچزمیں دھما کے اس وقت ہوئے جب لوگ دعا میں مصروف

تھے، ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ اور سیکیورٹی اداروں کو الرٹ کردیا گیا ہے۔

سری لنکا میں خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد سے تشدد کے بعض واقعات نظر

آئے جس میں بودھ مذہب کی سنہالا برادریوں کی جانب سے مساجد اور مسلمانوں

کی املاک کو نشانہ بنایا گیا اور اس کے بعد ملک میں گذشتہ سال ماہ مارچ میں

ایمرجنسی کی صورت حال کا اعلان کیا گیا تھا۔ سری لنکن پولیس کے مطابق

دھماکوں کی جگہ کو گھیرے میں لیکر شواہد جمع کر لیے ہیں، نوعیت کا تعین

کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ مدد کے لیے حساس علاقوں میں فوج بھی

موجود ہے، تاہم حکام کے مطابق سات افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔ سری لنکا کے

وزیرِ دفاع نے روان وجے وردنے کہا ہے دھماکوں کے پیچھے کسی ایک گروہ

کا ہاتھ لگتا ہے۔ دہشت گردوں کی شناخت ہو چکی ہے۔ہم ’ہر اس انتہا پسند گروپ

کے خلاف تمام ضروری کارروائی کریں گے جو ہمارے ملک میں کام کر رہا ہے

ہم ان کے پیچھے جائیں گے چاہے وہ جس بھی مذہبی انتہا پسندی کے پیروکار ہیں۔

کارروائی کریں گے،سری لنکن وزیراعظم رانیل وکریمے سنگھے نے دھماکوں

کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا مشکل کی اس گھڑی میں عوام اتحاد قائم

رکھیں اور افواہیں پھیلانے سے گریز کریں۔ ادھرپاکستان نے سری لنکا میں تاریخ

کی بدترین دہشتگردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے پاکستان دکھ کی گھڑی

میں سری لنکا کے ساتھ کھڑا ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا وزیراعظم، وزیر

خارجہ، حکومت اور عوام سری لنکا کے متاثرین دہشتگردی کے غم میں برابر

کے شریک اورزخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا گو ہیں۔ دریں اثنا وزیرخارجہ

شاہ محمود قریشی نے سرلنکن وزیراعظم سے رابطہ کرکے دہشتگردانہ واقعات

کی مذمت کی اورانہیں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ،جبکہ سری لنکا نے

بحق افراد کی شناخت کے لئے پاکستان سے مدد مانگ لی،جس پر محکمہ صحت

پنجاب نے فرانزک ماہرین کی ٹیم سری لنکا بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وائس

چانسلر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز ڈاکٹر جاوید اکرم نے تین رکنی فرانزک ٹیم

تشکیل دیدی جس کی قیادت ڈاکٹر ہمایوں تیمور کریں گے۔ فرانسیسی خبر رساں

ادارے کو حاصل دستاویزات کے مطابق سری لنکا کے پولیس چیف نے 10 روز

قبل خبردار کیا تھا ملک کے مختلف علاقوں میں قائم مسیحی عبادت گاہوں کو خود

کش بمبار نشانہ بنا سکتے ہیں۔ انٹیلی جنس معلومات میں کہا گیا تھا ‘غیر ملکی

انٹیلی جنس ایجنسی سے رپورٹ دی ہے کہ نیشنل توحید جماعت (این ٹی جے)

کولمبو میں معروف مسیحی عبادت گاہوں اور انڈین ہائی کمشنر پر حملے کا

منصوبہ بنا رہی ہے۔

Leave a Reply