سوشل میڈیا صارفین کو خود مختار بنانے کیلئے ” پراجیکٹ لبرٹی “ کا آغاز

سرکاری ملازمین پربڑی پابندی عائد کر دی گئی ،خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہ

Spread the love

سرکاری ملازمین پر پابندی

لاہور(جے ٹی این آن لائن نیوز) وفاقی حکومت نے بظاہر سرکاری معلومات اور دستاویزات لیک

ہونے سے روکنے کیلئے تمام سرکاری ملازمین کو سوشل میڈیا کے استعمال سے روک دیا۔میڈیا

رپورٹ کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی

سرکاری ملازم، حکومت کی اجازت کے بغیر کسی میڈیا پلیٹ فارم میں شرکت نہیں کر سکتا، ہدایات

کا مقصد کسی سرکاری ادارے کی طرف سے حکومتی پالیسی پر عوامی ردعمل، خدمات میں بہتری

کیلئے تجاویز لینے اور ان کی شکایات کے ازالے کیلئے سوشل میڈیا کے تعمیری و مثبت استعمال کی

حوصلہ شکنی نہیں ،تاہم ایسے ادارے اس بات کی پابندی کریں کہ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے

جارحانہ، نامناسب اور قابل اعتراض تبصروں کو باقاعدگی سے ہٹایا جائے۔نوٹیفکیشن میں سرکاری

ملازمین کو گورنمنٹ سرونٹس (کنڈکٹ)رولز 1964 کے تحت تفصیلی ہدایات دی گئی ہیں، ان رولز

کے تحت سرکاری ملازمین کی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سمیت مختلف میڈیا فارمز میں شرکت کی

نگرانی کی جاتی ہے۔مزید کہا گیا کہ رولز کا رول 18 سرکاری ملازم کو کسی دوسرے سرکاری

ملازم یا نجی شخص یا میڈیا سے سرکاری معلومات یا دستاویز شیئر کرنے سے روکتا ہے۔سرونٹس

رولز کے رول 22 کا حوالہ دیتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کہا یہ سرکاری ملازم کو میڈیا پر یا

عوامی سطح پر کوئی بھی ایسا بیان یا رائے دینے سے روکتا ہے جس سے حکومت کی بدنامی کا

خطرہ ہو۔نوٹیفکیشن میں تمام سرکاری ملازمین کو خبردار کیا گیا ہے کہ کسی ایک یا زائد ہدایات کی

خلاف ورزی بددیانتی کے مترادف ہوگی اور غفلت برتنے والے ایسے سرکاری ملازم کیخلاف سول

سرونٹس (ایفی شینسی اینڈ ڈسپلن )رولز 2020 کے تحت تادیبی کارروائی کی جائے گی، ایسے حاضر

سروس سرکاری ملاز مین کیخلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائیگی جو اس سوشل میڈیا گروپ

کے منتظم ہوں جس میں کسی طرح کی خلاف ورزی ہوئی ہو۔نوٹیفکیشن کے مطابق رولز 21، 25،

25 اے اور 25 بی سرکاری ملازمین کو نظریہ پاکستان و سالمیت یا کسی حکومتی پالیسی یا فیصلے

کیخلاف خیالات کے اظہار سے روکتے ہیں۔نوٹیفکیشن میں سرکاری ملا زمین کو کسی بھی سوشل

میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسے خیالات کے اظہار سے روکا گیا ہے جن سے قومی سلامتی یا دیگر ممالک

سے دوستانہ تعلقات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو یا پبلک آرڈر، شائستگی یا اخلاقیات، توہین عدالت یا

ہتک عزت یا کسی جرم کی ترغیب دینا یا فرقہ وارانہ عقائد کا پرچار کرنے سے کسی طرح کے

نقصان کا اندیشہ ہو۔نوٹیفکیشن میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سرکاری ملازمین کو مزید ہدایت دی ہے کہ

وہ سرکاری معلو مات کے غیر مجاز انکشاف میں ملوث نہ ہوں۔

سرکاری ملازمین پر پابندی

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply