khabar aai Hy jtnonline

سرکاری افسران، ملازمین کی بیرون ملک رخصت پر پابندی کیوں؟

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

-.-.-.-.- سرکاری افسران، ملازمین -.-.-.-.-

لاہورسے جتن آن لائن کے رپورٹر نے آج ایک خبر دی کہ حکومت پنجاب نے سرکاری افسروں اور ملازموں کی بیرون ملک رخصت پر عائد پابندی ختم کر دی ہے۔ پابندی اٹھانے کا فیصلہ وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار کی ہدایت پر کیا گیا۔ سرکاری افسروں اور ملازموں کی بیرون ملک رخصت پر پابندی گزشتہ ماہ 28 اکتوبر کو لگائی گئی تھی۔ طاہر خورشید پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ نے بیرون ملک رخصت پر عائد پابندی ختم کرنے کا مراسلہ جاری کر دیا ہے۔ دوسری طرف سرکاری حلقوں نے وزیراعلیٰ کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے اس سے حکومت اور بیوروکریسی کے مابین اعتماد سازی کیساتھ ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ میں بہتری آئے گی-

عام آدمی کی آواز، وقت کی پُکار، ورنہ مکافات عمل تو سب کا جاری …..

شیخو جی نے خبر پڑھنے کے بعد ٹھنڈی سانس لی اور کہا سرکاری ملازم تو میں بھی ہوں، موجودہ پی ٹی آئی حکومت آنے کے بعد سے ملک میں جاری احتساب کے عمل سے حکومت اور بیوروکریسی ہی نہیں ملک کے ہر شعبے میں بے یقینی کی کیفیت طاری ہے- ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ احتساب کے عمل سے انصاف اور قانون کی بالادستی نظر آتی- ملک کے عوام قدرے اطمینان کا سانس لیتے، ان کی تمام یوٹیلٹی سہولیات جو گزشتہ حکومتوں کی وجہ سے پوری نہیں ہو پا رہی تھیں ساری نہیں تو کم از کم دو چار ہی پوری کر دی گئی ہوتیں-

یہ بھی پڑھیں : احتساب ہو تو ایسا، نظام ہو تو ایسا؟ ۔۔ جانیئے اور پھر فیصلہ خود کریں

جن میں اول احتساب بلا امتیاز ہوتا دکھائی دیتا، جو کہ ایسا نظر ہی نہیں آ رہا- اس کی وجہ قومی احتساب بیورو کا طریقہ کار ہے، ورنہ اس عرصہ میں اس سارے عمل کو عوام میں ایسی پذیرائی مل گئی ہوتی کہ کوئی اسے ختم کرنے یا ڈی ریل کرنے کی سعی کرتا تو سب سے پہلے اس کی راہ میں عام آدمی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جانے کیلئے تیار نظر آتا- ہمارے قومی احتساب بیورو کے سربراہ کو ایسے پر جوش خطابات یا میڈیا ٹاکس کرنے کی ضرورت پیش ہی نہ آتی- ساتھ ہی بھلا ہو ہماری سیاست کا جس قدر بھونڈے انداز میں پروان چڑھائی گئی اور پھر اب تو کیا کہنے ؟ رہی سہی کثر اس نے نکال دی-

ہم عوام برابر کے ضرور قصور وار ہیں! ….. لیکن

آج ہم من حیث القوم جس دوہرائے پر کھڑے ہیں بے شک اس میں ہم عوام برابر کے ضرور قصور وار ہیں- لیکن ارباب اختیار کا ملکی نظام کو یوں اپنی من مرضی سمجھ لینا کسی طور درست اور نہ ہی اب اسے جاری رکھنے کی گنجائش ورنہ مکافات عمل تو شروع ہو چکا- مرضی آپ کی بادشاہ لوک ہیں، ہم کیا کہہ سکتے ہیں- کیونکہ بقول شاعر …. یہ اور بات تقدیر لپٹ کر روئی ….. ورنہ باوز تو تجھے دیکھ کے پھیلائے تھے

سرکاری افسران، ملازمین

Leave a Reply