سرورِ کائنات، رحمت للعالمین احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ْ کا ظہور و صال

سرورِ کائنات، رحمت للعالمین احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ْ کا ظہور، و صال

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(تحریر:—- ابو رجا حیدر) سرورِ کائنات رحمت للعالمین

فخرِ موجودات، سرور کونین، خاتم النبین، رحمت للعالمین آنحضرت محمد مصطفی

کی ذات پر ہزاروں درود و سلام، کا آج جشنِ ظہور پُر نور منایا جا رہا ہے۔ دنیا

بھر میں اربوں مسلمان اور دیگرمذاہب کے لوگ بھی آنحضور کی شان و شوکت

اور عظمت کے گرویدہ ہیں۔ آپ وہ ذاتِ پاک ہیں کہ جب دنیا جہالت اور گمراہی

کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی، لوگ بتوں کی پوجا کرتے، نوزائیدہ بچیوں کو

زندہ دفن کر دیتے، چوری، ڈاکہ ، شراب نوشی، سودی کاروبار، جوا بازی،

جھوٹ، فریب اور غریبوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم تھا تو آپ ایک آفتابِ درخشاں

بن کر ان اندھیروں کو ختم کرنے کیلئے اس دنیا میں تشریف لائے۔

=—= سرورِ کائنات، رحمت للعالمین کی پرورش اور تحفظ

آپ کے والد ماجد حضرتِ عبداللہ علیہ السلام آپْ کے ظہور سے چند ماہ قبل ہی اس

دارِ فانی سے رحلت فرما گئے تھے آپْ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ سلام العلیہ

بھی رسول اکرمْ کے بچپن ہی میں انتقال فرما گئیں جس کے بعد چچا حضرت ابو

طالب علیہ السلام نے آپْ کی پرورش کی حضرت ابو طالبّ شیر خدا حضرت علی

کرم اللہ وجہہ کے والد محترم تھے جنہوں نے ہر مشکل میں اپنے بھتیجے حضرت

محمدْ کا ساتھ دیا۔ آنحضور شروع سے ہی ایک باوقار، سنجیدہ اور متین شخصیت

کے مالک تھے۔ مکہ مکرمہ میں آپ صادق اور امین کے لقب سے معروف تھے۔

نوجوانی کے عالم میں تجارت کا پیغمبری پیشہ اپنایا اور حضرتِ خدیجتہ الکبریٰؓ

سلام العلیہ جو عرب کی ایک ثروتمند اور مالدار خاتون تھیں، انہوں نے اپنا مال

تجارت کیلئے آنحضور کے سپرد کیا۔

=—= سرورِ کائنات، رحمت للعالمین کی تجارت ، شادی ، نکاح خواں

آپْ جب تجارت سے وآپس تشریف لائے تو حضرت خدیجہ سلام العلیہ ان کی دیانت

اور امانتداری سے بے حد متاثر ہوئیں اور آپ کی اعلیٰ شخصی صفات کی بدولت

آپ کو شادی کا پیغام بھیجا آپ ْ نے اپنے چچا حضرت ابو طالب علیہ السلام سے

اس ضمن میں مشورہ کیا انہوں نے بھی آپ کو رضامندی کا جواب دینے کا کہا اور

یوں آپ نے خصرت خدیجہ الکبریٰ سلام العلیہ کا رشتہ قبول فرما لیا۔ خصرت ابو

طالب علیہ السلام نے آپ کا نکاح پڑھایا- ام المومنین حضرت خدیجہ سلام العلیہ نے

زندگی بھر تمام مشکلات میں آنحضور کا ساتھ دیا۔ جب آپ پر وحی نازل ہوئی اور

آپ گھر تشریف لائے اور حضرت خدیجتہ الکبریٰ کو تمام واقعہ سنایا تو وہ بلا

تردد آپ پر ایمان لائیں-

=—= سرورِ کائنات، رحمت للعالمین کا ابدی معجزہ

آنحضورْ کے دیگر معجزات میں قرآن مجید فرقانِ حمید آپ کا سب سے بڑا معجزہ

ہے۔ یہ وہ کتابِ ہدایت ہے جو رہتی دنیا تک تمام انسانوں کیلئے مشعلِ راہ ہے اور

زندگی کے تمام مسائل پر روشنی ڈالتی ہے۔ اسی کتاب میں اللہ تعالیٰ کے ننانوے

اسماء الحسنیٰ ہیں اور رسول اکرم کو بھی ان کے مختلف ناموں سے نہ صرف

مخاطب کیا گیا بلکہ بہت سی سورتوں کے نام بھی آپْ کے ناموں پر ہیں۔

=—= سرورِ کائنات، رحمت للعالمین کواہلِ قریش کی طرف سے مشکلات

جب آنحضور نبوت کے منصب پر فائز ہوئے اور مکہ والوں کو پیغام حق پہنچایا تو

آپ کے راستے میں بے پناہ مشکلات پیش آئیں، مگر آپ نے اپنے اسوۃ حسنہ سے

انہیں دائرہ اسلام میں داخل کیا۔

=—= سرورِ کائنات، رحمت للعالمین کاحجتہ الوداع

فتح مکہ کے بعد اعلان کیا گیا کہ آنحضورْ اس سال حج کا فریضہ سرانجام دیں گے

اس لئے جتنے بھی مسلمان ان کیساتھ فریضہء حج ادا کرنا چاہیں وہ اس کی تیاری

مکمل کرلیں۔ آپ نے 8 ذی الحجہ کو منیٰ میں پہنچ کر قیام فرمایا اور 9 ذی الحجہ

کو عرفات میں خطبہ حجتہ الوداع ارشاد فرمایا جو بین الاقوامی طور پر حقوق

انسانی کا سب سے بڑا چارٹر ہے۔ آپ نے فرمایا کہ گورے کو کالے پر عربی کو

عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اور فضیلت کا معیار صرف تقویٰ اور پرہیز گاری

ہے۔ آپ نے اس خطبے میں مسلمانوں کو ایک مکمل ضابطہ حیات سے آگاہ کیا اور

ان کیلئے احکامات و ضوابط جاری فرمائے۔

=—= سرورِ کائنات، رحمت للعالمین کا خطبہ غدیر خم

حج بیت اللہ کی تکمیل کے بعد واپسی پر خم غدیر کے مقام پر جہاں سے مکہ کو

تمام اطراف سے آنیوالے داخل حدود شہرہوتے یا واپسی پر اپنی اپنی منزلوں کی

جانب الوداع ہوتے پہنچے تو اللہ تعالی کی وحی آئی اور آیت ” الیوم اکملت لکم”

نازل ہوئی تو آپ نے اعلان فرمایا تمام حجاج کرام کو یہاں اکٹھا کرو، رب تعالیٰ کا

اہم پیغام دینا ہے، چنانچے سوا لاکھ کم بیش حجاج کرام جمع ہوئے آپ نے اونٹوں

کے پلانوں کا ممنبر بنوایا، اس پر چڑھ کر پہلے خطبہ دیا، تمام حاضرین سے اپنے

کردار، اخلاق کی گواہی لی اور پھر حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا ہاتھ

اپنے ہاتھ میں لے کر بلند فرمایا ” جس جس کا میں مولا اُس اُس کا علی مولا”

=—= سرورِ کائنات، رحمت للعالمین کا وصال

ماہ صفر المظفرمیں آپ کی طبیعت ناساز ہونا شروع ہوئی۔ درمیان میں کہیں کچھ

آرام آ جاتا تھا۔ ایک روز مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں مقیم تمام قبائل آپ کی

عیادت کیلئے آئے تو آپ نے ان سے فرمایا کاغذ قلم لاؤ میں تمہیں وہ نسخہ لکھ

دوں کہ تم میرے بعد کبھی گمراہ نہ ہوگے- مگر وہاں موجود حضرت عمرنے کہا

ہمارے لئے قرآن ہی کافی ہے، جس پرآپ نے انتہائی دکھی ہو کر عیادت کیلئے

آنیوالوں کو چلے جانے کا کہا- جس کے چند لمحوں بعد ہی آپ کا وصال ہو گیا-

=—= سرورِ کائنات، رحمت للعالمین کے وصال پر اعلان حضرت عمر و ابوبکر

تمام مسلمان اور صحابہ کرام کو اسکا یقین نہیں آتا تھا اور اضطراب کی کیفیت

طاری تھی۔ اس پر حضرت عمر فاروقؓ نے اپنی تلوار نکالی اور اعلان کیا کہ

کوئی یہ نہ کہے کہ آپ وصال فرما گئے ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کہا

آنحضور بشریت کے مقام پر فائز تھے اور آپ کا وصال ہونا ہی تھا۔ یہ کہہ وہ وہاں

سے چلے گئے، مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے تجہیز

و تدفین کی، آپْ کے جنازے میں تاریخ کے مطابق 7 سے 12 افراد شریک ہوئے،

باقی اصحاب ساعدہ بو سقیفہ میں خلیفہ بنانے میں مصروف رہے. جب طے ہو گیا

تو واپس آئے اور اعلان خلافت کرنے کیساتھ ساتھ خضرت علی ابن علی علیہ

السلام سے کہا ہمیں سرکار دو عالم ْ کے جنازے کی اطلاع کیوں نہیں دی، مولا

علی نے فرمایا کیا آپ لوگوں کو معلوم نہیں تھا-‌

=—= (‌‌ ‌ جنازے کی مزید‌ تفصیل جاننے کیلئے یہاں کلک کریں)

=—= یہ بھی پڑھیں، سرورِ کائنات رحمت للعالمین کا مکمل خطبہ خم غدیر
=–= قارئین =-: ہماری کاوش پسند آئی ہو گی،اپ ڈیٹ رہنے کیلئے ہمیں فالوکریں

سرورِ کائنات رحمت للعالمین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply