trump

سرمایہ داروں کو نوازنے کی پالیسیاں، ٹرمپ کی مقبولیت میں انتہائی کمی

Spread the love

واشنگٹن (خصوصی رپورٹ) امریکہ میں 3 نومبر 2020ء میں ہونیوالے صدارتی

انتخابات میں سرمایہ داروں اور طاقتوروں کو نوازنے کی پالیسی صدر ٹرمپ کی

شکست کا باعث بن سکتی ہے۔ امریکی عوام کی اکثریت یہ بھی سمجھتی ہے

گزشتہ انتخابات میں روس کی مدا خلت اور ٹرمپ ٹیم کیساتھ سازباز کی تحقیقات

کرنیوالی میولر رپورٹ جو دو سال بعد منظر عام پر آئی، اس میں خاص تحریف

کرکے حقائق کوچھپا نے کی کوشش کی گئی۔ خصوصی تفتیش کار رابرٹ میولر

نے آخر میں اس بات کی بھی تحقیقات کی کہ صدر ٹرمپ نے تحقیقات پر اثر انداز

ہو نے اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی یا نہیں؟ رپورٹ میں

صدر کو پوری طرح بری الذمہ قرار نہیں دیا گیا۔ ’’اے بی سی‘‘ ٹی وی کے ایک

تازہ سروے کے مطابق 58 فیصد ووٹرز سمجھتے ہیں صدر ٹرمپ نے تحقیقات کی

راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی اور انہوں نے اس تحقیقات کے سلسلے میں

عوام کے سامنے جھوٹ بولا ۔ سروے کے نتائج میں بتایا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ہیلتھ

کیئر اور امیگریشن پالیسی کی وجہ سے غیر مقبول ہوگئے ہیں۔ سروے میں شرکت

کرنیوالوں میں سے 55 فیصد افراد نے بتایا وہ آئندہ انتخابات میں ٹرمپ کو ووٹ

نہیں دیں گے۔ 44 فیصد افراد کا کہنا تھا وہ ہیلتھ کیئر پالیسی کو ناپسند کرتے ہوئے

ٹرمپ کو ووٹ نہیں دیں گے جبکہ 31 فیصد نے صدر ٹرمپ کی حمایت کی۔ ’’اے

بی سی‘‘ کے سروے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیمو کریٹک پارٹی کے ارکان

پارٹی کے نامزد امیدواروں کی حمایت کریں گے جبکہ ریپبلکن پارٹی کے 15

فیصد ووٹرز ٹرمپ کے حق میں ووٹ نہیں دینا چاہتے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے

پارٹی وابستگی سے بالاتر ہوکر امریکی عوام اور خصوصاً کم حیثیت والے افراد

میں یہ سوچ تقویت پکڑ رہی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ سرمایہ داروں اور طاقتوروں

کو نوازنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس بناء پر وہ آئندہ انتخابات میں ٹرمپ

کیخلاف ووٹ دے سکتے ہیں۔ ملکی نظام پر کم آمدنی اور کم حیثیت والے عوام

کے کنٹرول کا سیاسی فلسفہ ’’پاپولزم‘‘ کہلاتا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے یہ

تصور غیر شعوری طور پر عوام میں جڑیں پکڑ رہا ہے، جس کا خاص طور پر

گزشتہ انتخابات میں ڈیمو کریٹک امیدوار نہ بننے والے سینیٹر برنی سینڈرس

پرچار کرتے تھے۔ وہ اس دفعہ پھر ڈیمو کریٹک ٹکٹ کے امیدوار ہیں۔ ’’پاپولزم‘‘

کی اصطلاح استعمال کئے بغیر بھی یہ تصور اسلئے فروغ پا رہا ہے کہ صدر

ٹرمپ نے جو خود ایک سرمایہ دار بزنس مین ہے، مسلسل طاقتور صاحب حیثیت

افراد کو سہولتیں فراہم کرنے میں مصروف ہے جس کا منفی ردعمل آئندہ انتخابات

میں محسوس ہوگا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے اگر صدر ٹرمپ مواخذے سے بچ

گئے اور انہیں اپنی ریپبلکن پارٹی کا ٹکٹ مل بھی گیا تو وہ اپنی پالیسیوں کی عدم

مقبولیت کے باعث 2020ء کا صدارتی انتخاب جیت نہیں پائیں گے۔

Leave a Reply