0

سرفراز اوراپنوں کی دشمنی

Spread the love

(تحریر:۔۔شاہ نواز رانا)
ڈربن کے گراﺅنڈ میں دوران میچ ایک آواز ابھری”ابے کالے تیری امی آج کہاں بیٹھی ہیں کیا پڑھوا کر آیا ہے تو“اس جملے نے کرکٹ میں ایک بھونچال پیدا کر دیا ،یہ جملہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کی زبان سے ادا ہوا۔غور طلب بات یہ ہے یہ جملہ انہوں نے ساﺅتھ ا فر یقہ کے کھلاڑی کو اپنی طرف متوجہ کرکے نہیں بلکہ انہوں نے گیند پکڑتے ہوئے سلپ میں کھڑے بابر اعظم سے کہا،کمنٹیٹر نے اردو میں بولے گئے جملے کو سمجھنے کےلئے رمیض راجہ سے ترجمہ پوچھا ،جنہوں نے معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اس کے انگلش میں الفاظ دہرانے سے منع کردیا ، اس کے بعد کرکٹ دیکھنے والے دنیا کے دیگر ممالک میں اور ساﺅتھ افریقہ میں اتنا مسئلہ نہیں بنایا گیا ہو گا جتنا پاکستان کے میڈیا نے اس کو ہوا دی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سرفراز پر آئی سی سی کی جانب سے چار میچوں کی پابندی لگا دی گئی،یہاں یہ امر قابل ذکر ہے سرفراز نے میچ کے فوراً بعد افریقہ کے کپتان فاف ڈوپلیسس اور سیاہ فارم کھلاڑی اینڈری فیلکوا سے ملاقات کی اور اپنے حوالے سے صفائی بھی پیش کی،سرفراز کی معذرت کو کپتا ن اور کھلاڑی نے قبول کرتے ہوئے اس معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کیا،لیکن پاکستان کے چند سپورٹس چینلز نے سرفراز کے اس جملے کو اپنی ریٹنگ کا ذریعہ بنایا اور اس پر خوب لے دے کی۔
دکھ کی بات یہ ہے ہم اپنے ہاتھوں سے اس سے پہلے بھی تین بڑے کھلاڑیوں کو ضائع کر چکے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم عقل کے ناخن نہیں لیتے،دنیا کے تمام کرکٹ کھیلنے والے ممالک کی مثالیں موجود ہیں کہ ان کے کھلاڑیوں نے دوسرے کھلاڑیوں بالخصوص ایشین کھلاڑیوں پر نازیبا الفاظ بھی استعمال کیے ،گندی گندی گالیاں دیں لیکن ان ممالک کے بورڈز نے اپنے کھلاڑیوں کا بھرپور دفاع کیا اور انہیں بڑے جرمانے اور سز ا ﺅں سے بچا کر رکھا،ان کے مقابلے میں پی سی بی ان مواقعوں پر ہمیشہ کمزور ثابت ہوااوراس نے اپنے کھلاڑیوں کا مقدمہ کبھی بھی بھر پور انداز میں نہیں لڑا،یہاں اس جملے کا جو سرفراز نے ادا کیا پس منظر دیکھا جائے تو انہوں نے اپنے اس جملے میں ماں کی عظمت کو بیان کیا ،انہوں نے جب یہ جملہ ادا کیا تو اس سے ظاہر یہ تھا اس کھلاڑی کو ماں کی دعا کے سبب بڑے چانسز مل رہے ہیں یعنی ماں کی دعائیں بڑے وقت میں ہمیشہ سا تھ دیتی ہیں اور یہی کچھ گراﺅنڈ میں ہوتا دکھائی دے رہا تھا،لیکن جب اپنے ہی دشمن ہو جائیں تو پھر باہر سے دشمن ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں پڑ تی ،پاکستان میں کئی نامور کھلاڑیوں جن میں شعیب اختر بھی شامل ہیں انہوں نے سرفراز کےلئے جو نہیں کہنا تھا ،کہا اور اس کو مجرم ثابت کرنے کےلئے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا ،حالانکہ شعیب اختر کا ماضی کئی تنازعات سے بھر پور رہا ہے کبھی اپنے کھلاڑی کو بیٹ دے مارا ،کبھی مخالف ٹیم کے کھلاڑی کو آﺅٹ کرنے کے بعد گالیوں سے تواضع کی ،اگر وہ چاہتے تو سرفراز کے اس جملے کو مثبت انداز میں دنیا کے سامنے پیش کر سکتے تھے،لیکن ہم ایک احساس کمتری کا شکار قوم سے تعلق رکھتے ہیںاور اس کا اظہار ہم اکثر کرتے رہتے ہیں،اس موقع پر لیجنڈ وسیم اکرم کی یقیناً تعریف کرنا پڑے گی جنہوں نے اپنے محب وطن ہونے کا ثبوت دیا اور سرفراز کا بھر پور ساتھ دیا ایک وسیم اکرم کے علاوہ کسی کو اتنی زحمت نہ ہو سکی کہ وہ سرفراز کے دفاع میں کچھ کہہ سکیں۔
پی سی بی کا طرہ امتیاز یہ ہے انہوں نے سرفراز کو فوراً وطن واپس بلا لیا جبکہ ان کی سزا ساﺅتھ افریقہ میں ہی ختم ہو جانی تھی ان پر لگنے والی چار میچز کی پابندی دو ایک روزہ اور دو ٹی ٹوئنٹی میچز کے بعد ہی ختم ہو جاتی اور وہ آخری ٹی ٹوئنٹی میچ کےلئے ٹیم کو دستیاب ہو جاتے،لیکن انہیں وطن واپس بلا لیا گیا جو ان کےساتھ ہی نہیں کرکٹ کےساتھ بھی زیادتی ہے ،یہ درست ہے سرفراز ان دنوں اچھی فارم میں نہیں لیکن ہمیں ماضی میں ان کی بہترین کارکردگی کو بھی اتنی جلدی فراموش نہیں کرنا چاہیے انہوں نے جو کارنامے ماضی میں سر انجام دیے انہیں بھلایا نہیں جا سکتا ،ابھی ایک بہت بڑی کرکٹ باقی ہے جو پاکستان نے کھیلنی ہے اور اس کےلئے ہمیں اپنے کھلاڑیوں کو اعتماد دینا ہو گا جن میں سرفراز بھی شامل ہیں ایک جانب ہمارا بورڈ سرفراز کو ورلڈ کپ تک کپتان بنانے کی بات کرتا ہے دوسری جانب اس کے اعتماد کو اپنے رویوں سے کمزور کر رہے ہیں۔

Leave a Reply