سرحد چیمبر آف کامرس کا صنعتی پالیسی20ء عملدرآمد کمیٹی پر بڑا سوال

سرحد چیمبر آف کامرس کا صنعتی پالیسی20ء عملدرآمد کمیٹی پر بڑا سوال

Spread the love

پشاور( بیورو چیف عمران رشید خان) سرحد چیمبر آف کامرس

Journalist Imran Rasheed

سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیر باز بلور نے صوبائی صنعتی

پالیسی 2020ء کے نفاذ کے حوالے سے قائم کردہ 15 رکنی کمیٹی میں سرحد

چیمبر کو نظر انداز کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار اور مذکورہ کمیٹی کو یکسر

مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرحد چیمبر کے صنعتکاروں اور متعلقہ سٹیک

ہولڈرز کو اعتماد میں نہ لینے سے صنعتی پالیسی کے اہداف حاصل کرنا مشکل ہی

نہیں بلکہ ناممکن ہو جائیگا۔ صوبائی حکومت سابقہ صنعتی پالیسی 2016ء کو نافذ

کرنے میں ناکام رہی ہے تو موجودہ پالیسی 2020ء کو کیسے نافذ العمل کروائے

گی؟۔ نجی شعبے کے ساتھ مشاورت اور تعاون کے بغیر کاروبار کے لئے سازگار

ماحول کی فراہمی اور صنعتی ترقی کسی صورت بھی ممکن نہیں بنائی جا سکتی۔

=–= معیشت و کاروبار سے متعلق مزید خبریں (=–= پڑھیں =–=)

گذشتہ روز سرحد چیمبر میں صنعتکاروں کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے

سرحد چیمبر کے صدر شیر باز بلور نے کہا کہ صوبائی حکومت نے صنعتی

پالیسی 2020ء کی باضابطہ منظوری دی ہے جس کا مقصد صنعتی ترقی پلان کے

تحت خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں قائم صنعتی بستیاں کو اسپیشل اکنامک

زون کا درجہ دیا جائے گا اور بیمار صنعتی یونٹوں کی بحالی کے لئے اقدامات

کئے جائیں گے، تاہم سرحد چیمبر، صنعتکاروں اور متعلقہ سٹیک ہولڈرز سے

باہمی مشاورت کے بغیر مذکورہ صوبائی پالیسی بے سود ثابت ہو گی۔ اس ضمن

میں بنائی جانیوالی کمیٹی میں بھی صنعتکاروں کو نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔ کیا

صوبائی صنعتی پالیسی 2020ء صرف حکومت اور سرکاری اعلیٰ افسران تک

محدود رکھی گئی ہے؟۔ سرحد چیمبر کے صدر نے کہا کہ صنعتی پالیسی کے

حوالے سے متعلقہ سٹیک ہولڈرز بالخصوص سرحد چیمبر اور صنعتکاروں کو

اعتماد میں نہ لینے اور مذکورہ کمیٹی میں نمائندگی نہ دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔

=-،-= خیبر پختونخوا سے متعلق مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں بیمار صنعتی یونٹوں کی بحالی کے لئے متعلقہ

سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا اشد ضروری ہے اسی صورت میں ہی صنعتی

پالیسی 2020ء کے تحت رکھے گئے اہداف آئندہ دس سالوں کے دوران بخوبی

طریقہ سے حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے

یکطرفہ اقدامات کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ باہمی مشاورت اور تجاویز

کی روشنی میں پالیسیوں کو مرتب کی جائیں جس کے ذریعے مثبت نتائج برآمد ہوں

گے۔ حکومت ایک جانب صنعتکاروں اور فیکٹری مالکان کو انڈسٹریل قوانین اور

کم از کم اجرت 21 ہزار روپے کے نفاذ پر زور دے رہی ہے لیکن انہیں پالیسیوں

کے مرتب کرنے اور ان کے نفاذ کے حوالے سے کمیٹی میں نمائندگی بھی نہیں

دے رہی ہے جو حکومت کی دوغلی پالیسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

=-،- پڑھیں= کے پی صنعتی پالیسی 2020ء ایکشن پلان، عملدرآمد کمیٹی

سرحد چیمبر کے صدر شیر باز بلور نے کہا کہ پالیسیوں کے تسلسل اور اہداف کو

حاصل کرنے کے لئے صنعتکاروں کو متعلقہ کمیٹیوں کو بھرپور نمائندگی دی

جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی تنقید کی ہے کہ مذکورہ صوبائی صنعتی پالیسی

2020ء میں اہم نکات کو پالیسی کا حصہ نہیں بنایا گیا جس کے ذریعے صحیح

معنوں میں صوبہ بھر میں صنعتی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا۔

سرحد چیمبر آف کامرس ، سرحد چیمبر آف کامرس ، سرحد چیمبر آف کامرس

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply