سربراہ بحریہ ٹاﺅن ملک ریاض حسین کو چیف جسٹس پاکستان کی پیشکش

Spread the love

سپریم کورٹ میں جعلی اکاﺅنٹس کیس کی سماعت کے دوران بحریہ ٹا ﺅ ن کے مالک ملک ریاض عدالت میں پیش ہوئے جن سے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے استفسار کیا آپ کا نام ہر جگہ کیوں آجاتا ہے جس پر ملک ریاض نے جواب دیا میں پاکستان میں کام کر رہا ہوں نام تو آئے گا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے آپ ان لوگوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں جن کے نام جعلی اکا ﺅ نٹس کیس میں آئے ہیں۔ملک ریاض نے عدالت سے کہا میں نے 2005 میں بحریہ آئیکون کے لیے زمین خریدی تھی اور اس وقت صوبے یا وفاق میں آصف علی زدردای یا ان کی جماعت کی حکومت نہیں تھی بلکہ پورے ملک میں جنرل (ر)پرویز مشرف کی حکومت تھی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے اس معاملے کو نیب کی جانب بھیج دیتے ہیں۔انہوں نے ملک ریاض کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ کو کہا تھا آپ ایک ہزار ارب روپے ڈیم فنڈ میں جمع کروادیں، تو معاملات نمٹا دیتے ہیں جس پر ملک ریاض نے کہا اتنا تو میں نے گزشتہ2 دہائیوں میں کمایا نہیں جتنا عدالت مانگ رہی ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے آپ نے اربوں روپے کی جائیدادیں بنائی ہیں، چلیں پھر 500ارب ہی دےدیں کچھ پیسے تو واپس کریں جبکہ جائیدادیں اور علی ریاض کا گھر بھی آپ لے لیں۔ملک ریاض نے بحریہ آئیکون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا شکر کریں میں نے پاکستان میں پہلی مرتبہ 66منزلہ عمارت تعمیر کی,، بعدازاں سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاونٹس کیس کی سماعت آئندہ پیر تک ملتوی کردی۔

Leave a Reply