0

ساہیوال واقعہ، سی ٹی ڈی کارروائی کا طریقہ کار درست نہیں تھا، ایڈیشنل سیکرٹری کا اعتراف

Spread the love

ساہیوال واقعے پر ایڈیشنل ہوم سیکرٹری نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے سامنے اعتراف کیا اور کہا کہ تسلیم کرتے ہیں کہ انسداد دہشت گردی کارروائی کا طریقہ درست نہیں تھا۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس چیئرمین مصطفیٰ نواز کھوکھر کی زیرصدارت ہوا جس کے دوران ایڈیشنل ہوم سیکرٹری پنجاب فضیل اصغر نے کمیٹی کو ساہیوال واقعے پر بریفنگ دی۔اس موقع پر ایڈیشنل ہوم سیکرٹری پنجاب نے کہا کہ انسداد دہشتگردی کارروائی کا طریقہ درست نہیں تھا، دیکھنا چاہیے تھا کہ کار کے اندر کون بیٹھا ہے، اگر بچے ہیں تو کسی منزل پر پہنچ کر دیکھتے۔ایڈیشنل ہوم سیکرٹری پنجاب نے کہا خدشات کے باوجود یہ تسلیم کرتے ہیں کہ غلط کیا گیا۔فضیل اصغر نے جے آئی ٹی رپورٹ کا نتیجہ کمیٹی کے سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ رپورٹ ابھی تک مکمل نہیں ہوئی، اب تک یہ واضح ہے کہ خلیل اور اس کی فیملی بے گناہ تھی، ایڈیشنل ہوم سیکرٹری پنجاب نے کہا کہ مجھے معلوم ہے جے آئی ٹی رپورٹ میں ذیشان دہشتگرد ثابت ہوگا اور باقی لوگوں کو بے گناہ قرار دیا جائے گا، آپریشن کے طریقہ کار کو غلط قرار دے کر آپریشن کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی تجویز کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک بات ثابت شدہ ہے کہ ذیشان کے دہشت گردوں کیساتھ روابط تھے کیونکہ ذیشان کی عدیل کیساتھ سیلفی اور عدیل کی ذیشان کے گھر آمدکے2 ثبوت ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ذیشان کی آلٹو گاڑی جو اوپن ٹرانسفر تھی اس کا اصل مالک عدیل تھا، دونوں کے فون اور ان کی گفتگو اور میسجز بھی ثبوت ہیں جبکہ 13 جنوری کو دونوں کی گاڑیوں نے اکٹھے ساہیوال کا سفر کیا تھا۔۔اس موقع پر چیئرمین کمیٹی نے ایڈیشنل ہوم سیکرٹری پنجاب سے سوال کیا کہ بچے نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کے والد نے پیسے بھی آفر کیے، اگر اس کا بیان درست ہے تو آپ کا بیان غلط ہے جس پر ایڈیشنل ہوم سیکرٹری پنجاب فضیل اصغر نے کہا بچے کا بیان صدمے کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے۔سینیٹر بیرسٹر سیف نے کہا واقعے کے فوری بعد آنے والے بیان کی قانونی حیثیت بہت زیادہ قابل قبول ہے، آپ بچے کے بیان کو اتنا ہلکا نہ لیں۔بیرسٹر سیف نے سوال کیا کہ گاڑی سے ملنے والی جیکٹس اور اسلحہ کہاں ہے، اگر وہ اب تک سامنے نہیں آیا تو ثبوت بدلے جاچکے ہیں، اگر آپ کا مقصد صرف مارنا تھا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کلنگ سکواڈ بنے ہوئے ہیں، آپ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ دہشتگردوں کو مارتے ہیں، کیا پتہ کہ ان میں سے بھی اکثر بے گناہ ہوں۔سینیٹر بیرسٹر سیف نے کہا راؤ انوار بھی ایسا ہی کرتا تھا، پتہ نہیں وہ کیسے دہشت گرد مارتا تھا جن کی طرف سے ایک فائر بھی نہیں ہوتا تھا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایکشن ایبل انٹیلی جنس معلومات کے باوجود 17 یا 18 جنوری کو کاروائی کیوں نہیں کی۔

Leave a Reply