nine eleven terror watch list

سانحہ11 /9, 19 ویں برسی، امریکہ سوگوار اور سابق سی آئی اے ایجنٹ کے بھیانک حقائق

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

واشنگٹن،ڈیلس (جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ) سانحہ 9/11 برسی

پورے امریکہ میں نائن الیون کی 19 ویں برسی انتہائی سوگوار فضاء میں منائی

گئی۔ 11 ستمبر2001ء کو ا مریکہ میں دہشتگردی کا ایک بڑا واقعہ پیش آیا تھا

جس میں تقریباً تین ہزار افراد جاں بحق اور لاتعداد زخمی ہوئے تھے۔ اس

سلسلے میں ملک بھر سو گوار تقریبات منعقد ہوئیں۔ امسال سانحہ نائن الیون کی

برسی کی اہمیت یہ رہی کہ یہ ایک ایسے وقت منائی گئی جب امریکہ کرونا

وائرس کی زد میں آیا ہوا ہے۔

بائیولوجیکل جنگ کا تجربہ کیسا رہا ….. ؟ ———————————————–

صدرٹرمپ اور ان کے حریف ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جوبیڈن دونوں نے

ریاست پنسلوینیا میں طیارہ گرنے کے یادگار مقام فلائٹ 93 نیشنل میمو ر یل کا

الگ الگ دورہ کیا اور وہاں تقریبات میں خطاب کیا۔ صدر ٹرمپ نے اس میموریل

پر ہونے والی تقریب میں دہشتگردی کا شکار ہونے والے افراد کی قربانیوں کو

خراج عقیدت پیش کیا اور انہیں غیر معمولی قرار دیا۔ انہوں نے اس طیارے کے

چالیس مسافروں اور عملے کے ارکان کو بہت اچھے الفاظ میں یاد کیا، جنہوں

نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر دہشتگردوں کو قابو کرلیا۔ جس کے نتیجے میں

طیارہ ٹارٹگ تک نہ پہنچ سکا اور راستے میں گر کر تباہ ہوگیا۔

افغان طالبان امریکہ کے درمیان قطر میں تاریخی معاہدے پر دستخط —————————————————————-

امریکی صدر ٹرمپ نے نائن الیون کی دہشتگردی کا نشانہ بننے والے تمام افراد

کا ذکر کرتے ہوئے اپنے اور اپنی اہلیہ کی طر ف سے ان کے لواحقین کیلئے

مکمل حمایت اور ہمدردی کے الفاظ سے مخاطب کیا۔ انہوں نے خاص طور پر ان

سات ہزار سے زائد فوجی بیروز کا ذکر کیا جنہوں نے اس سانحے کے بعد

دہشتگردی کےخلاف مہم میں جانیں قربان کیں۔

ٹرمپ کا اعتراف، متاثرہ ممالک کو امریکہ کیخلاف عالمی عدالت جانا چاہیئے! ——————————————————————-

ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جوبیڈن نے پنسلوینیا پہنچنے سے پہلے نیویارک میں

منعقدہ تقریب میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وہ آج کے دن اپنی انتخابی مہم

معطل کر رہے ہیں کہ آج صرف قربانیاں دینے والے افراد کو یاد کیا جائےگا۔ نیو

یارک میں ایک تقریب میموریل پلازہ کے قریب گراﺅنڈ زیرو اور دوسری اس سے

کچھ فاصلے پر منعقد ہوئی۔ کرونا وائرس کے باعث احتیاطً تقریب کو دو حصوں

میں تقسیم کیا گیا۔

امریکی عدالت نے ٹیرا رزم واچ لسٹ غیر آئینی قرار دیدی ———————————————————-

دوسری طرف امریکی شہر ڈیلس میں نائن الیون کی مناسبت سے سابقہ ایف بی

آئی ایجنٹ لبنانی نژاد امریکی علی صوفان کی متنازعہ کتاب ”دی بلیک بینرز ڈی

کلاسیفائیڈ “پر بحث کے دوران بھیانک حقائق سامنے آ گئے۔ امریکا میں ورلڈ

افیئرز کونسل ڈیلس کے زیرانتظام نائن الیون کے حوالے سے ایک اہم گفتگو کا

اہتمام کیا گیا۔ گفتگو کا موضوع عالمی شہرت یافتہ سابقہ ایف بی آئی ایجنٹ

لبنانی نژاد امریکی علی صوفان کی متنازعہ کتاب ” دی بلیک بینرز ڈی کلاسیفائیڈ

“ تھا، اس کتاب کے مطابق نائن الیون کے بعد سی آئی اے کے جسمانی اور ذہنی

تشدد کے تفتیشی طریقے نے نہ صرف کارروائی کے مرحلے کی شفافیت کو

نقصان پہنچایا بلکہ سی آئی اے کا یہ پروگرام بری طرح سے ناکام بھی ہوا۔

ماہ ستمبر اورافغانستان، امن کی نوید یا سیراب؟ ———————————————-

علی صوفان نے اس کتاب میں سی آئی اے کی پرتشدد حکمت عملی کو تنقید کا

نشانہ بنایا جن میں زیرحراست افراد پر واٹر بورڈنگ، انہیں سونے نہ دینا، ذہنی

دباﺅمیں رکھنا، مسلسل شورمیں رکھنا، اوربرہنہ رکھنا جیسے غیر انسانی عوامل

شامل ہیں۔ صوفان کے مطابق اس پرتشدد تفتیش کے نتیجے میں انہیں کوئی قابل

قدر معلومات فراہم نہیں ہوئیں بلکہ قیدیوں نے تشدد سے تنگ آ کر وہ کہا کہ جو

انکے خیال میں افسران سننا چاہتے تھے۔ اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے ابن

الشیخ اللبی کا نام لیا اورکہا کہ تشدد میں کی گئی تفتیش کے نتیجے میں اللبی نے

صدام حسین اور اسامہ بن لادن کے بڑئے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے

ہتھیاروں پر ساتھ کام کرنے کی ڈیٹیل فراہم کی جس کا حوالہ کولن پاول نے اپنی

اقوام متحدہ کی تقریر میں بھی دیا جسکی وجہ سے عراق کی جنگ شروع ہوئی۔

نیویارک میں حملے کا منصوبہ ناکام، اسامہ کا مداح بنگالی دہشتگرد گرفتار —————————————————————-

سالوں کی جنگ کے بعد جب عراق سے کچھ نہیں ملا اور اللبی سے پوچھا گیا

کہ اس نے جھوٹ کیوں بولا تھا تواسکا جواب تھا ”دن رات کے تشدد سے بچنے

کے لیے“۔ صوفان کا کہنا تھا کہ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا

کہ نائن الیون سے پہلے القاعدہ میں کل چارسو لوگ شامل تھے جبکہ آج انکی

تعداد چالیس ہزارسے بھی زیادہ ہے خاص طورپرعراق کی جنگ اس تعداد میں

اضافے کا سبب بنی ہے۔ اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے انٹرنیشنل سکیورٹی کے فیلو

ڈاکٹر اسفندیار میر نے اس کتاب کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سینسر شپ کے

بغیر اس کتاب کا دوبارہ شائع ہونا علی صوفان کی بہت بڑی فتح ہے۔ انہوں نے

یہ بھی کہا کہ اس حوالے سی (ڈی) سینٹر ڈائین فائینسٹین کی سیاسی کوششوں

کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے جسکی وجہ سے یہ ممکن ہو پایا۔

امریکہ افغانستان سے بھاگ رہا ہے ————————————-

نائن الیون کے بعد خود افادیت، تشدد اور جنگوں کو اس مسئلے کے حل کا جواز

بنا کر پیش کیا گیا مگر بیس سال میں امریکا میں رائے عامہکا توازن جذباتی

ردعمل سے بہت حد تک شفٹ ہوا ہے۔ صوفان کی یہ کتاب 2011ء میں پہلی

دفعہ منظر عام پر آئی تھی مگر سی آئی اے نے اس کتاب کے بیشترمواد کو

کلاسیفائیڈ قرار دے کراس پر کالی لکیریں پھیردی تھیں، صوفان کے مطابق سی

آئی اے نے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے اپنی طاقت کا غلط استعمال کیا

تھا۔ مگر یہ کتاب سنسر شپ کے باوجود شائع ہوئی۔ نو سال بعد 11/9 سے چند

روز قبل یہ کتاب سنسر شپ کے بغیر دوبارہ شائع کی گئی ہے۔ علی صوفان کے

مطابق امریکا کی تاریخ میں پہلی بار کسی انٹیلیجنس افسرکی کتاب سنسر ہوئی

اور پھر وہی کتاب نو سال بعد سنسرشپ کے بغیر دوبارہ شائع ہوئی۔ وہ اسے

آزادی اظہار رائے میں ایک سنگ میل قرار دیتے ہیں۔

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

صوفان کا کہنا تھا 11/9 کے حملے کو ایف بی آئی، سی آئی آے کی مدد سے

روک سکتی تھی مگرسی آئی اے نے اپنی معلومات ایف بی آئی کے ساتھ نہیں

بانٹیں جس کی وجہ سے آج ہم ایک مختلف دنیا میں رہ رہے ہیں۔ صوفان کے

کردار کو کئی فلموں میں ایک نڈر اور قابل افسر کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

صوفان دی صوفان گروپ کے سی ای او کے فرائض انجام دے رہے ہیں جو کہ

عالمی سطح پر سکیورٹی اور کنسلٹنسی فراہم کرتا ہے۔

سانحہ 9/11 برسی
سانحہ 9/11 برسی
سانحہ 9/11 برسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply