سانحہ کرائسٹ چرچ، دہشتگرد مقدمہ شہر سے باہرمنتقلی اپیل سے دستبردار

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ولنگٹن (جے ٹی این آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک) سانحہ کرائسٹ چرچ

نیوزی لینڈ میں 2019 میں مارچ کے مہینے میں مساجد پر حملہ کرکے 51 مسلمان

نمازیوں کو قتل کرنے کے دہشتگرد ملزم نے جمعرات کو اپنا مقدمہ اس شہر سے

باہر منتقل کرنے کی کوشش ترک کر دی جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ ہائیکورٹ نے

کرائسٹ چرچ میں مقدمے سے قبل سماعت کی تاکہ دہشتگرد ملزم برنین ٹرینٹ

کے مقدمے کی سماعت سائوتھ آئی لینڈ کے شہر سے منتقل کرنے کی مقدمہ کی

درخواست پر غور کیا جائے، لیکن جج کیمرون مینڈر نے کارروائی کے آغاز میں

اعلان کیا کہ ملزم نے درخواست واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے جو ابتدائی طور پر

امسال اگست میں دائر کی گئی تھی۔ فیصلے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ کرائسٹ چرچ، شہدا کی شناخت مکمل

28 سالہ آسٹریلوی شخص نے قتل کے 51 ، اقدام قتل کے 40 اور دہشتگردی کی

کارروائی میں ملوث ہونے کے الزامات قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ اسکا

مقدمہ اگلے برس دو جون کو کرائسٹ چرچ میں شروع ہوگا۔

یاد رہے سانحہ کرائسٹ چرچ پیش آنے کے بعد مسلمانوں سے یکجہتی کرتے

ہوئے پورے نیوزی لینڈ کے سرکاری ٹی وی اورریڈیو پر براہ راست اذان نشر

کی گئی، ہیگلے پارک میں جمعہ کی اذان کے بعد 2 منٹ کی خاموشی اختیارکی

گئی، وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن ظم نیوزی لینڈ جیسنڈا آرڈرن نے ہیگلے پارک میں

نمازجمعہ کے بعد حضورپاک صلیٰ اللہ و علیہ وآلہ وسلم کی حدیث مبارک پڑھ

کرخطاب کا آغاز کیا اورکہا سرکار دوعالم نے فرمایا جو ایمان رکھتے ہیں انکی

باہمی رحم دلی، ہمدردی اوراحساس ایک جسم کی مانند ہوتا ہے، اگرجسم کے

کسی حصے کو تکلیف ہو تو سارا جسم محسوس کرتا ہے۔ نیوزلینڈ آپکے ساتھ

دکھ میں شریک ہے-

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply