سانحہ کرائسٹ چرچ، عالمی امن کےلئے ایک اور لمحہ فکریہ

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نیوزی لینڈ جیسے دُنیا کی سیاست سے دور ملک میں دو مساجد پر گوروں کے

حملے نے اِس بیانیہ کو غلط ثابت کر دیا ہے کہ دہشت گردی میں صرف مسلمان

ملوث ہیں، بلکہ یہ حقیقت پھر ثابت ہو گئی ہے دہشت گردی کا سب سے بڑا نشانہ

خود مسلمان بنے ہیں اور آج بھی بن رہے ہیں۔ کرائسٹ چرچ کی مساجد میں اِس

حملے کو وہاں کے پولیس کمشنر نے منظم حملہ قرار دیا ہے، اِس کا مطلب ہے

اس کی منصوبہ بندی کی گئی اور ریکی بھی۔ صرف یہ کہنا کہ بنگلہ دیش کی

کرکٹ ٹیم نے ان مساجد میں نماز پڑھنے آنا تھا،بات کوکسی اور طرف لے جانے

کی کوشش ہے۔ حقیقت یہ ہے حملہ مسلمانوں پر کیا گیا اور اس کا ہدف بھی

مساجد میں آنے والے عام نمازی تھے۔ فیس بُک، ٹوئٹر اور گوگل نے اِس حملے

کی ویڈیوز پر پابندی لگا دی، یہ ویڈیوز خود حملہ آوروں نے اپنی ٹوپی میں لگے

کیمرے سے بنائیں اور انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کیا،اس سے اُن کی سفاکی اور

دیدہ دلیری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ یہ فیس بُک، ٹوئٹر، یو ٹیوب اور گوگل اُس

وقت ویڈیو ڈیلیٹ کرنے سے انکار کر دیتے ہیں، جب کوئی مسلمان کسی دہشت

گردی میں ملوث ہوتا ہے، بلکہ اُس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شیئر کرتے ہیں،

مگر یہاں چونکہ نشانہ مسلمان بنے ہیں اور دہشت گرد آسٹریلیوی گورے ہیں،

اِس لئے ویڈیوز بلاک کر دی ہیں۔ مغرب کا یہ رویہ درحقیقت اسلام دشمنی پر

مبنی ہے۔ وہ صرف مسلمانوں پر دہشت گردی کا لیبل لگاتے ہیں اور اس بات کو

تسلیم کرنے پر ہرگز تیار نہیں ہوتے کہ انتہا پسندی اُن کے اپنے اندر بھی موجود

ہے۔ امریکہ اور برطانیہ میں کالے اور گورے شہریوں کی طرف سے مسلمانوں

کو اکثر نشانہ بنایا جاتا ہے، تاہم صورتِ حال اتنی گھمبیر نہیں جتنی نیوزی لینڈ میں

نظر آئی ہے۔ مساجد میں گھس کر مسلمانوں کو عبادت کے دوران گولیوں سے

بھوننے کی یہ جسارت ایک بڑا سوالیہ نشان چھوڑ گئی ہے۔ مغرب نے اگر اِس

واقعہ کو کھلے دِل سے سفید فام دہشت گردوں کی کارروائی تسلیم نہ کیا اور اگر

مگر کا صیغہ لگا کر اس پر مٹی ڈالنے کی کوشش کی تو یہ خود اُن کے لئے

ایک بڑا خطرہ بن جائے گا، کیونکہ وہ مذہبی انتہا پسند جو مسلمانوں کے خلاف

ہیں، اسے ایک عام ہدف سمجھ لیں گے اور دوسری جگہوں پر بھی مسلمانوں کو

نشانہ بنائیں گے۔

نیوزی لینڈ دُنیا کا ایک پُرامن جزیرہ نما ملک ہے، پاکستانیوں نے اس کا زیادہ تر

ذکر کرکٹ کے حوالے سے سُن رکھا ہے۔ رچرڈ ہیڈلی کی بائولنگ آج بھی

لوگوں کو یاد ہے۔ یہاں اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے تبلیغی جماعتیں کئی دہائیوں

سے کام کر رہی ہیں اور یہاں اسلام بڑی تیزی سے پھیلا۔ آج نیوزی لینڈ کے طول

وعرض میں مساجد موجود ہیں اور مسلمان بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ صرف

پاکستانی یا اسلامی ممالک سے آئے ہوئے مسلمان نہیں، بلکہ مقامی شہری بھی

اسلام قبول کر چکے ہیں۔ یہاں کبھی مسلمانوں نے انتہا پسندی کا مظاہرہ نہیں کیا،

نہ ہی اپنے نظریات کی بنیاد پر عیسائیوں سے نفرت کی، مثالی ہم آہنگی رکھنے

کے باوجود کرائسٹ چرچ کی مساجد میں یہ حملے اِس بات کی نشاندہی کر رہے

ہیں کہ اسلام اور مسلمانوں سے نفرت کرنے والے دُنیا میں ہر جگہ موجود ہیں

اور موقع ملتے ہی اپنا غبار نکالتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جب بھی انتہا

پسندی کی بات کرتے ہیں تو مسلمان انتہا پسندوں کو درمیان میں لے آتے ہیں۔ اس

واقعہ کے بعد ان کا ردعمل کیا ہے؟ کیا وہ اسے بھی ایک انتہا پسندی کہیں گے،

جو مسلمانوں کے خلاف کی گئی یا اسے کوئی اور معنی پہنا دیں گے۔امریکہ آج

طالبان سے مذاکرات کر رہا ہے، امن کی بھیک مانگ رہا ہے، اسے یہ جواب

بھی دینا چاہیے کہ اس نے دُنیا کو انتہا پسندی کا شکار کیوں کیا؟… یہی طالبان

ایک زمانے میں اس کے پارٹنر تھے، انہیں ہر قسم کی سپورٹ اور وسائل امریکہ

فراہم کرتا تھا۔ پھر داعش بھی اسی نے بنائی اور اپنے مقاصد کے لئے استعمال

کی۔ دُنیا بھر میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی لہر امریکی پالیسیوں کی وجہ

سے پیدا ہوئی۔ صدر بش جونیئر نے تو نائن الیون کو تہذیبوں کے درمیان جنگ

کہہ دیا تھا۔ پھر سب کا یہ بیانیہ بن گیا کہ دُنیا میں جہاں کہیں انتہا پسندی ہے، اس

کے پیچھے مسلمانوں کا ہاتھ ہے۔ برطانیہ میں نسل پرست سفید فام مسلمانوں پر جو

حملے کرتے ہیں یا امریکہ کے مختلف شہروں میں کالے امریکیوں کے ہاتھوں

مسلمان قتل ہوتے ہیں، اس کا کوئی نوٹس نہیں لیتا۔ مغربی ممالک کا سارا زور اس

نکتے پر رہتا ہے کہ پاکستان کی مذہبی تنظیموں پر پابندی لگائے۔ پاکستانی مدارس

کے بارے میں طرح طرح کی افواہیں پھیلائی جاتی ہیں کہ وہاں دہشت گرد پیدا

کئے جاتے ہیں۔ابھی حال ہی میں مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دلوانے کے

لئے امریکہ، بھارت اور مغربی ممالک نے کوشش کی، جسے چین نے ویٹو

کرکے ناکام بنا دیا۔

ان ممالک نے کبھی اس بات کا اعتراف نہیں کیا کہ ان کے اندر بھی مذہبی جنونی

موجود ہیں،جو اسلام مخالف ہیں اور مسلمانوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ وہ

کسی ایک ملک تک محدود نہیں،بلکہ ان کا دائرہ دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے۔ نیوزی

لینڈ کا یہ سانحہ اس کی بدترین حالیہ مثال ہے۔ اگر ایسے واقعات ہوں گے تو کیا

ان کا ردعمل نہیں ہو گا؟… ردعمل تو ضرور ہو گا، لیکن اس کے باوجود اسلام

امن کا درس دیتا ہے۔ یہ بھی درس دیتا ہے کہ غیر مسلموں کی عبادت گاہوں اور

بستیوں کی بھی حفاظت کرو۔ ماضی بعید میں پاکستان کے اندر چرچوں پر حملے

ہوئے، لیکن قوم نے ان کی پوری مذمت کی اور مسلمانوں نے عیسائیوں سے

اظہار یکجہتی کیا۔ پاکستان دہشت گردی کا نشانہ بننے والا سب سے بڑا ملک ہے۔

اگر یہاں چرچ پر حملے ہوئے ہیں تو مساجد، امام بارگاہوں اور تعلیمی اداروں کو

بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس دہشت گردی میں غیر ملکی دہشت گرد بھی شامل تھے

اور بھارت نے ’’را‘‘ کے ذریعے بھی دہشت گردی جاری رکھی، لیکن ہم نے

کبھی ہمت نہیں ہاری، نہ ہی اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے

لئے حالات خراب ہو چکے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ دُنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ

دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں، ان کا ایجنڈا دُنیا میں افراتفری پھیلانا ہے۔ کچھ

طاقتیں تیسری عالمی جنگ کے لئے بھی مسلمانوں اور عیسائیوں نیز یہودیوں کو

ایک دوسرے سے لڑانا چاہتی ہیں۔ عالم اسلام میں نیوزی لینڈ کے واقعہ نے غم و

الم کی ایک لہر دوڑا دی ہے۔ معصوم اور پُرامن مسلمانوں کو نہایت بے دردی

سے نشانہ بنایا گیا۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے اسے نیوزی لینڈ کی تاریخ کا سب

سے بڑا سانحہ قرار دیا ہے،مگر صرف اتنا ہی کافی نہیں،انہیں مجرموں کو

گرفتار کر کے حقائق دُنیا کے سامنے لانے چاہئیں۔یہ منظم کارروائی چند لوگوں کا

کام نہیں، ضرورت اِس امر کی ہے کہ اس سانحہ کے پس پردہ جو ہاتھ ہیں، انہیں

سامنے لایا جائے۔یہ اِس لئے بھی ضروری ہے کہ ایسا نہ کیا گیا تو دُنیا بھر کے

مسلمانوں میں شکوک و شبہات جنم لیں گے اور یہ تاثر جائے گا کہ مسلمانوں کے

قتل عام پر مغرب کا رویہ بے حس سماج جیسا ہوتا ہے، یہی کچھ کسی گرجا گھر

یا یہودی عبادت گاہ میں ہوا ہوتا تو ان ممالک میں مقیم مسلمانوں پر عرصۂ حیات

تنگ ہو جانا تھا۔ ہر داڑھی والے کو دہشت گرد سمجھنے کے مناظر تو ہم کئی بار

دیکھ چکے ہیں۔دُنیا کو اگر دہشت گردی سے بچانا ہے تو متعصبانہ نہیں منصفانہ

طرزِ عمل اپنانا ہو گا۔ مغرب نے مسلمانوں کے خلاف اپنا بیانیہ تبدیل نہ کیا تو اُس

کے اپنے اندر ایک ایسی آگ بھڑک اُٹھے گی، جسے بجھانا مشکل ہی نہیں

ناممکن ہوتا ہے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply