سانحہ موٹروے کا ایک ملزم گرفتار، دوسرے کے لئے کوششیں جاری

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سانحہ موٹروے ملزم گرفتار

لاہور (جے ٹی این آن لائن نیوز ) موٹروے پر خاتون سے بد اخلاقی کے کیس میں

بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے دیپالپور سے گرفتار ملزم شفقت نے دوران تفتیش

خاتون سے بد اخلاقی کا اعتراف کر لیا ۔پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم

شفقت کا ڈی این اے بھی میچ کر گیا ہے۔ دوران تفتیش ملزم وقار الحسن نے ملزم

شفقت کے بارے میں معلومات دی تھیں۔ ملزم وقار الحسن نے خود کو سی آئی اے

پولیس کے حوالے کیا تھا۔ تاہم مرکزی ملزم عابد کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے

جا رہے ہیں۔اس سے قبل وقار الحسن کے برادر نسبتی عباس نے بھی اپنے آپ کو

شیخوپورہ پولیس کے حوالے کر دیا ۔ ملزم عباس وقارالحسن کے نام پر جاری

ہونے والی سم استعمال کر رہا تھا۔ اس نے شیخوپورہ میں خود کو پولیس کے

حوالے کیا۔ازخود گرفتاری دینے والے ملزم وقار نے دوران تفتیش بتایا تھا کہ ملزم

عابد کچھ عرصے سے شفقت نامی شخص کے ساتھ وارداتیں کرتا رہا ہے۔ شفقت

بہاولنگر کا رہائشی اور عابد علی کا دوست ہے۔ذرائع کے مطابق ملزم وقار الحسن

ابتدائی تحقیقات میں واقعے میں ملوث نہیں پایا گیا، اس کا ڈی این اے بھی میچ نہیں

ہوا، تاہم ملزم موقع پر موجود تھا یا نہیں؟ ابھی تصدیق ہونا باقی ہے۔دوسری جانب

خاتون سے بد اخلاقی کا مرکزی ملزم عابد علی تاحال گرفتار نہیں ہو سکا، پولیس

ملزم عابد علی کے قریبی عزیزوں سمیت 7 افراد کو حراست میں لے چکی ہے۔

گرفتار ملزم شفقت نے دوران تفتیش انکشاف کیاہے کہ مرکزی ملزم عابد نے

شیخوپورہ میںبھی ڈکیتی کے دوران خاتون کو اخلاقی کا نشانہ بنایا لیکن اس کے

خلاف صرف ڈکیتی کا مقدمہ درج ہوا ، وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزار اور

آئی جی پنجاب انعام غنی نے بھی واقعہ کے ایک ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کی

ہے ۔پولیس نے شفقت نامی شخص کو دیپالپور سے گرفتار کیا ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب

سردار عثمان بزدار نے ٹوئٹ پر واقعہ میں ملوث ایک ملزم کی گرفتاری کی

تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ شفقت نے اعتراف جرم کر لیا ہے ۔ مرکزی ملزم عابد

کی گرفتاری کیلئے بھی ٹیمیں کوشاں ہیں اور اسے بھی جلد گرفتار کر لیا ہائے گا۔

آئی جی پنجاب انعام غنی نے کہا ہے کہ اللہ کے فضل وکرم، جائے وقوعہ سے

ملنے والے شواہد کے سائنسی تجزیے اور تفتیش کی روشنی میں پنجاب پولیس نے

لاہور سیالکوٹ موٹر وے بد اخلاقی کیس کے ملزموں میں سے ایک ملزم شفقت
علی ولد اللہ دتہ سکنہ ہارون آباد، ضلع بہاولنگر کو گرفتار کر لیا ہے ۔ انہوں نے

مزید کہا کہ ملزم شفقت علی کا ڈی این اے جائے وقوعہ سے حاصل شدہ ڈی این

اے سے مطابقت رکھتا ہے ۔ آئی جی پنجاب نے مزیدکہاکہ جس طرح پنجاب پولیس

کی شبانہ روز کاوشوں سے ملزمان کی شناخت اور ملزم شفقت کی گرفتاری عمل

میں آئی ہے اسی طرح انشا ء اللہ مفرورملزم عابد ملہی کو بھی جلد گرفتار کرکے

قانون کے کٹہرے میں پیش کردیا جائے گا ۔ ملزم شفقت علی کی عمر 23سال ہے

جو مرکزی ملزم عابد علی کا قریبی ساتھی ہے۔ شفقت علی اور اس کا خاندان پہلے

بھی جرائم میں ملوث رہا ہے۔ملزم شفقت علی نے عابد کے ساتھ مل کر 11

وارداتیں کیں۔ملزم شفقت علی نے پولیس کو دئیے گئے اعترافی جرم میں بتایا ہے

کہ میں نے اور عابد نے مل کر موٹروے پر ڈکیتی کی تھی۔واقعے کا مرکزی ملزم

عابد علی جرائم میں میرا ساتھی ہے۔پہلے ہم نے ڈکیتی کی،بعدازاں خاتون کو بد

اخلاقی کا نشانہ بنایا۔موٹروے پر واردات کے بعد ایک رات قلعہ ستار گاؤں میں

گزاری۔معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد دیپالپور چلا گیا ۔جب کہ عابد علی والد

کے پاس چلا گیا تھا،عابد سے آخری رابطہ تین روز قبل ہوا۔ملزم نے مزید بتایا کہ

موٹروے کے قریب گھات لگا کر واردات کے لیے بیٹھے تھے۔واردات کے لیے

تینوں کو بلایا گیا لیکن بالا مستری واپس چلا گیا۔جب دیکھا کہ گاڑی میں صرف

خاتون اور بچے ہیں تو گاڑی کے پاس گئے اور گاڑی کے ارد گرد کئی چکر

لگائے۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ ملزمان

نے واردات کی رات گاڑی کے شیشے توڑے جس سے عابد کا ہاتھ زخمی ہوا۔

خاتون نے جب گاڑی کا شیشہ کھولنے سے انکار کیا تو پتھر کی مدد سے شیشے

توڑے۔ عابد کے زخمی ہاتھ کے خون کے قطرے بھی گاڑی کے شیشے پر تھے۔

عابد اور شفقت نے مل کر 11 واردتیں کی،واردات کی رات دونوں نے شراب پی

رکھی تھی۔دریں سانحہ موٹر وے کے معاملے پر سی سی پی او لاہور نے متنازع

بیان پر معافی مانگ لی۔ انہوں نے کہا بیان سے کسی کی دل آزاری ہوئی تو معافی

مانگتا ہوں، متاثرہ خاتون اور تمام طبقات سے معذرت چاہتا ہوں، میرے بیان کا

مطلب کوئی غلط تاثر دینا نہیں تھا۔

سانحہ موٹروے ملزم گرفتار

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply