سانحہ سیالکوٹ وطن عزیز کے دشمنوں کی چال سمجھنے کیلئے کافی

Spread the love

(تجزیہ:— عمران رشید خان) سانحہ سیالکوٹ کافی

Journalist Imran Rasheed

افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد 15 اگست 2021ء کو جب سے طالبان نے

کنٹرول سنبھالا ہے اس کے بعد وہاں کی بدلتی صورت حال کے پیش نظر پاکستان

میں اس کے اثرات سے نمٹنے کیلئے سکیورٹی مزید سخت کردی گئی، کیونکہ

ایسے ممکنہ قوی خدشات کا ذکر کیا جا رہا تھا کہ ملک میں ٹی ٹی پی ایک مرتبہ

پھر متحرک ہو جائے گی اور عالمی دہشت گرد تنظیم داعش کے ہمراہ ملک کی اہم

تنصیبات، عوامی مقامات پر دہشت گردانہ حملوں کے زریعے پاکستان میں امن و

امان کو سبوثاز کرنے کی کوشش کرے گی، تاہم حکومت نے سکیورٹی انتظامات

کرنا تو ایک طرف، ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کا عمل شروع کردیا اور اس کے

نتیجے میں ٹی ٹی پی کی جانب سے سیز فائر کا بھی اعلان کیا گیا، ان مذاکرات

میں افغان طالبان حکومت ثالث کا کردار ادا کر رہی ہے-

=ضرور پڑھیں= پاکستان کیخلاف ایک اور پراکسی وار تیار، مگر!

مذاکرات کب کہاں اور کس وقت ہوں گے، تاحال کسی بھی قسم کی پیش رفت کی

مصدقہ اطلاعات نہیں ہیں، جبکہ پاکستان کی جانب سے خیر سگالی کے جذبے کی

بناء پر تربیتی جیلوں سے ٹی ٹی پی کے 100 قیدیوں کی رہائی کی خبر بھی آئی

مگر افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان کی قیادت نے پاکستانی اخبار میں

چھپنے والی اس خبر کی تردید کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا، جبکہ مذکورہ

اخباری خبر کی بھی کسی جگہ سے تصدیق نہ ہوسکی، بہر حال اس ساری صورت

حال کا اگر جائزہ لیا جائے تو ملک میں اس دوران کوئی بہت بڑا دہشتگردانہ حملے

کا واقعہ بھی رونما نہیں ہوا، لیکن عالمی سطح پر ملک کی بدنامی کا ساماں حال

ہی میں ہے در پے ہونیوالے واقعات ضرور دکھائی دے رہے ہیں، جس سے صاف

ظاہر ہو رہا ہے کہ افغانستان سے انخلاء کے بعد عالمی طاغوتی طاقتیں پاکستان

میں مختلف نوعیت کی پراکسی وار کا باقاعدہ آغاز کر چکی ہیں، اور اس بات میں

کوئی شک نہیں کہ وہ افغانستان میں اپنی شکست کا ذمہ دار پاکستان کو ہی سمجھتی

ہیں، جس کا اظہار ماضی میں امریکہ کر چکا ہے-

=لازمی پڑھیں= گھناؤنی ویڈیو ہائی برڈ وار کا تسلسل، عوام رہیں ہوشیار

افغان سر زمین پر شکست خوردہ عالمی طاقتوں نے پاکستان سے بدلہ لینے کے

پینترا بدلتے ہوئے غیر روایتی طریقہ اپنایا ہے، اور انہوں نے اپنی بغل بچہ عالمی

دہشت گرد تنظیم کا رُخ اس طرف موڑنے کے بجائے، مذہبی کارڈ کے استعمال کو

ہی مناسب سمجھا، کیونکہ اچانک ملک کے مختلف حصوں میں نماز کی بیحرمتی

کے واقعے کا تسلسل سے جاری رہنا، مذہبی منافرت کا تشویشناک پھیلاؤ، جس کے

نتیجے میں خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں بڑے سانحہ کا رونما ہونا، اور اب

سیالکوٹ کی ایک فیکٹری میں سری لنکن شہری کو مبینہ توہینِ مذہب آڑ میں

بجائے پکڑ کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں دینے کے سفاکانہ

انداز میں قتل کرنے کے بعد لاش کو گھسیٹتے ہوئے سڑک پر لا کر سرعام آگ لگا

دینا اسی انتقامی سلسلے کا تسلسل معلوم ہوتے ہیں، ایسے پے در پے واقعات سے

جہاں دنیا بھر میں ہمیں بحثیت دہشت گرد قوم ثابت کرنے کی سازش کو عملی جامہ

پہنانے کی مزموم کوشش کی جارہی ہے وہیں پوری قوم کے سر شرم سے جھک

گئے ہیں-

=پڑھیں= خیبرپختونخوا پولیس وطن دشمنوں کیلئے آسان ہدف کیوں—؟

گو کہ وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے برادر ملک

سری لنکا سے انسانیت سوز واقعہ پر انتہائی شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے

زخموں پر مرحم رکھنے کی کوشش کی ہے، جبکہ اپنی سربراہی میں تحقیقات

کرانے، ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے،

لیکن ممکنہ طور پر ایسے واقعات کے رونما ہونے کے بارے میں ملکی سینئر

تجزیہ کاروں کے خبردار کرنے کے باوجود بھی حکومت کا اس اہم ترین پہلو کو

نظر انداز کرنا حیران کن اور کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے، حالانکہ افغانستان

سے امریکہ اور اس کی اتحادی نیٹو فورسز کے انخلاء سے قبل ہی حکومت نے

بذات خود کہا کہ فوری اور بغیر منصوبہ بندی کے انخلاء صرف افغانستان ہی نہیں

ہمسایہ ممالک کیلئے بھی نقصان دہ ثابت ہو گا- پھر کیوں کر تساہل پسندی سے کام

لیا جا رہا ہے؟-

=یہ بھی پڑھیں= افغانستان کی سول وار خطے کے لئے تباہ کن ہو گی

وطن عزیز میں عالمی طاغوتی قوتوں کی جانب سے غیر رسمی و غیر روایتی

انداز میں پراکسی وار کی ممکنہ تیاریوں کے حوالے سے ” جتن” (جے ٹی این آن

لائن) سینئر صحافی اور تجزیہ کار سید اظہر علی شاہ المعروف بابا گُل کا 25

ستمبر کو تجزیہ بعنوان

==> عالمی طاقتیں پاکستان میں پرانا مگر کامیاب تجربہ دہرانے کیلئے تیار<==

آن لائن کر چکا ہے- جس میں بابا گُل لکھتے ہیں کہ یہی عالمی طاقتیں پاکستان میں

اپنے ایک پرانے مگر کامیاب تجربے کو نئے سرے سے آزما رہی ہیں، اور وہ

تجربہ فرقہ واریت و مذہبی منافرت کا ہے، اور اگلے چند دنوں میں اس تجربے کے

بھیانک نتائج کا سامنے آنا یقینی نظر آ رہا ہے، جس کے بعد حکومتی شخصیات،

اداروں کے سربراہان اور علماء کرام ایک ہی بات کرتے نظر آئیں گے کہ اس کے

پیچھے بھی بھارت کی خفیہ ایجنسی” را ” اور ملک دشمن عناصر کار فرما ہیں،

مگر موجودہ وقت میں پاکستان کے یہ تمام حلقے خاموشی کیساتھ اس گیم کو دیکھ

کر لطف اندوز ہو رہے ہیں، ہمارا یہ اجتمائی طرز عمل بھی انہی تجربات کے نتائج

میں سے ایک ہے-

= یہ بھی پڑھیں= جنگ کا سائرن بج گیا ہے

کیا اس طرح دشمن طاقتوں کی واضح مزموم سازش سے با خبر کئے جانے کے

باوجود ہمارا آپس میں اندرونی اختلافات کو ہوا دینا درست فعل ہے، جبکہ ” ففتھ

جنریشن ہائبرڈ وار” سے متعلق سپہ سالار مسلح افواج پاکستان ایک عرصہ سے

متنبہ کرتے چلے آ رہے ہیں، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم من حیث القوم اسی وقت

سے الرٹ ہو جاتے اور دشمن کی ہر چال سے پہلے ہی ہمارے پاس اسکا توڑ ہوتا

مگر افسوس، ایسا سول سوسائٹی، مذہبی حلقوں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے

کسی قسم کا ہوم ورک دور دور تک نظر نہیں آ رہا، ورنہ نماز کی بیحرمتی، سانحہ

چارسدہ اور بالخصوص سانحہ سیالکوٹ کسی طور بھی رونما ہو کر وطن عزیز

کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ بن کر نہ اُبھرتے، تاہم ابھی بھی وقت ہے کہ ہم من

حیث القوم جاگ جائیں اور متحد ہو کر وطن عزیز کیخلاف دشمنوں کے تمام مزموم

عزائم خاک میں ملا کر رکھ دیں-

سانحہ سیالکوٹ کافی ، سانحہ سیالکوٹ کافی ، سانحہ سیالکوٹ کافی

سانحہ سیالکوٹ کافی ، سانحہ سیالکوٹ کافی ، سانحہ سیالکوٹ کافی

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply

%d bloggers like this: