ناراض بلوچوں سے مذاکرات

جب تک میں زندہ ہوں سانحہ سیالکوٹ جیسے واقعات نہیں ہونے دوں گا، عمران خان

Spread the love

سانحہ سیالکوٹ جیسے واقعات

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سانحہ سیالکوٹ میں

ملوث لوگوں کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ دین اور حضورؐکے نام پر ظلم کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں

گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں سانحہ سیالکوٹ کے دوران مشتعل ہجوم کی جانب

سے مبینہ توہین مذہب کے الزام کے بعد قتل ہونے والے سر ی لنکن منیجر پریانتھا کمارا کی یاد میں

وزیراعظم ہاؤس میں آنجہانی کے خاندان، سری لنکن حکومت اور عوام سے اظہاریکجہتی کی تقریب

سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں وفاقی وزرافوادچودھری، غلام سرورخان، حماداظہر، عمر

ایوب، شیریں مزاری اور علی محمد خان، معاون خصوصی علامہ طاہراشرفی اورعثمان ڈار، سری

لنکن شہری کوہجوم سے بچانے کی کوشش کرنیوالے ملک عدنان، سری لنکن ہائی کمشنربھی تقریب

میں شریک ہوئے۔سانحہ سیالکوٹ سے متعلق تعزیتی تقریب میں وزیراعظم عمران خان نے سری لنکن

شہری کو بچانے کی کوشش کرنے والے ملک عدنان کو تعریفی سند سے نوازا گیا۔۔وزیراعظم عمران

خان نے سیالکوٹ میں سری لنکن فیکٹری منیجر پریانتھا کمارا کو مشتعل ہجوم سے بچانے کی کوشش

کرنے والے ملک عدنان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ سیالکوٹ نے سب کو ہلا

کر رکھ دیا۔ افسوس ناک واقعے کے بعد ہمیں ملک عدنان کو دیکھ کرخوشی ہوئی۔ سانحہ سیالکوٹ

میں ملوث لوگوں کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ فیصلہ کیا ہے جنہوں نے دین کواستعمال کیا اعلان کررہا

ہوں ان کونہیں چھوڑنا۔مدینہ کی ریاست میں رحم اورانصاف تھا، ایسا کسی معاشرے میں نہیں ہوتا

خود الزام لگایا اور خود ہی سزا دے دی، سارے پاکستان نے سیالکوٹ میں تماشا دیکھا سب نے دیکھا

کہ ایک انسان راہ حق پر کھڑا ہے،آج سارا پاکستان یہ فیصلہ کر چکا ہے کہ اس طرح کا واقعہ ملک

میں نہیں ہونے دینا۔ امید ہے کہ تاریخ یاد رکھے گی کہ ایک انسان تھا جو حیوانوں کے سامنے کھڑا

ہوا۔وزیراعظم نے کہا کہ 23مارچ کے موقع پر ملک عدنان کو تمغہ شجاعت سے بھی نوازیں گے تاکہ

لوگوں کو معلوم ہو کہ ایسے بھی پاکستانی موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک آدمی کو دیکھ کو انسانیت

میں اعتماد بڑھا کہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر دوسرے شخص کی جان بچانے کی کوشش کی۔

جس نے بھی دیکھا سب کو احساس ہوا کہ ایک انسان راہ حق پر کھڑا ہے۔ ملک میں رول ماڈلز کی

ضرورت ہوتی ہے تاکہ لوگ انہیں فالو کریں۔ اخلاقی قوت جسمانی قوت سے بہت زیادہ طاقت ور ہوتی

ہے۔وزیراعظم نے اعلان کیا کہ سیالکوٹ کی کاروباری کمیونٹی نے ایک لاکھ ڈالر اکھٹے کیے ہیں

جو پریانتھا کمارا کے اہل خانہ کو دیے جائیں گے جبکہ فیکٹری نے ان کی تنخواہ ہمیشہ کے لیے

جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔عمران خان نے کہا کہ پوری قوم عاشق رسول ؐ ہے، ہمیں نبی ؐکی

سیرت پر چلنا ہوگا، اگرہم نبی ؐکی سیرت کو پڑھ لیں تو کوئی بھی ایسی حرکتیں نہ کرے، اسی لیے ہم

نے رحمت اللعامین اتھارٹی بنائی، ہمیں بچوں کونبی ؐ کی زندگی بارے بتانا ہو گا، ہمارے نبی ؐ دنیا کے

سب سے عظیم انسان تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جواسلام کے نام پربنا تھا، اس

طرح کی حرکتوں سے اوورسیزپاکستانی کسی کومنہ دکھانے کے قابل نہیں رہے، سیالکوٹ میں ہجوم

نے جو کچھ کیا بہت تکلیف ہوئی، ایسے واقعات کو بھارت میں بہت اٹھایا جاتا ہے، ، بھارتی میڈیا جب

ایسے واقعات دکھاتا ہے تو کہتا ہے پاکستان میں بھی ایسا ہوتا ہے، پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا اور جب

تک میں زندہ ہوں انشااﷲ ایسے واقعات نہیں ہونے دونگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ آرمی پبلک سکول کا

ایسا خوفناک واقعہ تھا جس کے بعد پاکستان نے دہشتگردی کی جنگ جیتی، سیالکوٹ میں پیش آنے

والا واقعہ بھی ایسا ہی ہے جس کے بعد سارے پاکستان نے متحد ہو کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس طرح

کا واقعہ آئندہ نہیں ہونے دینا۔ میکرو اکنامک مشاورتی گروپ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وز

یرِاعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے معاشی اعشاریئے اور زرِ مبادلہ کے ذخائر مستحکم

ہیں،اب معیشت پائیدار ترقی کی طرف گامزن ہے،بڑے پیمانے کی صنعت کی پیداوار، ویلیو ایڈیشن،

ریونیو اور برآمدات میں اضافہ واضح کرتا ہے کہ حکومتی معاشی پالیسیاں صحیح سمت میں جا رہی

ہیں، رواں مالی سال کے اختتام پر معاشی ترقی گذشتہ مالی سال سے بھی ذیادہ ہونے کی امید ہے۔

عمران خان نے اسلام آباد میں میکرو اکنامک مشاورتی گروپ کے اجلاس کی صدارت کی اجلاس میں

مشیر خزانہ شوکت فیاض ترین، وزیر توانائی حماد اظہر، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، معاونِ

خصوصی ڈاکٹر شہباز گل، گورنر اسٹیٹ بنک رضا باقر اور دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔ اجلاس

کو موجودہ ملکی معاشی و اقتصادی صورتحال، میکرواکنامک اعشاریوں میں بتدریج بہتری، ملکی

معیشت کو مزید مستحکم کرنے کیلئے جامع منصوبہ بندی اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی قیمتوں کے

باوجود معاشی ترقی کی شرح کو بڑھانے اور پائیدار بنانے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں

بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے اختتام پر پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح میں پچھلے سال کی نسبت

ایک فی صد مزید اضافے کا امکان ہے، ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر مستحکم ہیں، توانائی کے شعبے

میں اصلاحات کی بدولت گردشی قرضوں میں کمی واقع ہوئی ہے، ریونیو میں 35 فی صد اضافہ، جس

میں صرف ٹیکس کی مد میں ہی 32 فی صد اضافہ، برآمدات میں اضافہ، بڑے پیمانے کی صنعت کی

پیداور اور ویلیو ایڈیشن میں اضافہ خوش آئند ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں متوقع کمی کی

وجہ سے عوام تک ریلیف پہنچانے میں معاونت پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیرِ اعظم نے معاشی

مشاورتی گروپ کے اراکین کی تجاویز کا خیر مقدم کیا اور معاشی ریلیف کو عوام تک جلد پہنچانے

کے اقدامات اٹھانے کی ہدایات جاری کیں.

سانحہ سیالکوٹ جیسے واقعات

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply