سانحہ ساہیوال میں ایک کال پر بیگناہ لوگوں کو مار دیا گیا، سپریم کورٹ

Spread the love

سانحہ ساہیوال بیگناہ لوگوں

اسلام آباد(جے ٹی این آن لائن نیوز) سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت سے سانحہ ساہیوال کی رپورٹ

طلب کر تے ہوئے کہا ہے کہ ایک فون کال پر بے گناہ لوگوں کو مار دیا گیا، سمجھ نہیں آتا پنجاب

حکومت اور پولیس کیا کررہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں سانحہ ساہیوال میں قتل کے

ملزم پولیس اہلکار حافظ محمد عثمان کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی، کیس کی سماعت جسٹس

قاضی فائزعیسیٰ اور جسٹس یحییٰ آفریدی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔ ایڈیشنل پراسکیوٹر جنرل

عابد مجید مرزا عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عابد مجید مرزا سے استفسار کیا

کہ سانحہ ساہیوال کا کیا بنا؟، ساہیوال میں معصوم بچوں کو مارا گیا، صرف ایک فون کال پر بے گناہ

لوگوں کو مار دیا گیا، سمجھ نہیں آتا پنجاب حکومت اور پولیس کیا کررہی ہے، معصوم شہریوں کے

قاتلوں سے کوئی پوچھنے والا نہیں، بتائیں سانحہ ساہیوال میں پنجاب حکومت نے کیا کیا۔ ایڈیشنل

پراسکیوٹر نے جواب دیا کہ میرے خیال میں کیس ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے۔ عدالت نے ایڈیشنل

پراسکیوٹر جنرل پنجاب عابد مجید مرزا کو حکم دیا کہ سانحہ ساہیوال سے متعلق معلومات لیکر جواب

جمع کرائیں۔ عدالت نے قتل کے ملزم پولیس اہلکار حافظ محمد عثمان کی ضمانت منظور کرلی۔ پولیس

اہلکار حافظ عثمان پر ایک شہری کو گولی مارنے کا الزام تھا۔

سانحہ ساہیوال بیگناہ لوگوں

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply