سانحہ ساہیوال ، پنجاب حکومت کاجے آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ منظرعام پر نہ لانے کا فیصلہ

Spread the love

پنجاب حکومت نے سانحہ ساہیوال جے آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ منظر عام پر نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے، گزشتہ روزلاہورمیں میڈیا سے بات کرتے ہوئے صوبائی وزیرقانون بشارت راجہ کا کہنا تھا سانحہ ساہیوال کی ابتدائی رپورٹ منظر عام پر نہیں لاسکتے، جے آئی ٹی کی مکمل رپورٹ منظر عام پر لائی جائے گی، جے آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ کے تناظر میں جو اقدامات درکار تھے وہ اٹھالیے ہیں، جب تک جے آئی ٹی کی مکمل سفارشات نہیں آتی ابتدائی رپورٹ منظر عام پرنہیں لاسکتے جبکہ آج سانحہ ساہیوال کے حوالے سے امن وامان کی صورتحا ل پنجاب اسمبلی کے ایجنڈے پر رکھ لی ہے۔ میں اس بیان پر قائم ہوں آپریشن معلومات کی بنیاد پر کیا گیا، جو آپریشن ہوا وہ ایک انفارمیشن کی بنیاد پر کیا گیا، ہم چاہتے ہیں اس مقدمہ کا چالان جلد از جلد مکمل کرکے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جمع کروا دیں جبکہ جو لوگ قصور وار ہیں ان کے خلاف کارروائی کردی گئی ہے۔واضح رہے ساہیوال میں سی ٹی ڈی کی فائرنگ سے ماں، باپ اور بیٹی سمیت 4 افراد جاں بحق ہو گئے تھے جبکہ اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔میڈیا بریفنگ کے دوران ایڈیشنل چیف سیکرٹری فضیل اصغر کا کہنا تھا ساہیوال سانحہ میں ہلاک ہونے والے ذیشان کاتعلق کالعدم تنظیم سے ہے، 15 جنوری کو ذیشان کے دو ساتھیوں عثمان اور عدیل کو فیصل آباد میں سی ٹی ڈی نے ہلاک کیا، آپریشن انٹیلی جنس کی اطلاع پر کیا گیا، ذیشان کے ساتھیوں کےخلاف ایجنسیاں 2017 سے کام کر رہی تھیں، اس گروپ نے امریکی شہری سمیت متعدد افراد کو اغوا کیا تھا۔ ذیشان دہشت گرد گروپ کا حصہ تھا، پنجاب داعش چھوٹے چھوٹے گروپوں سے کام کرواتی ہے، بریفنگ میں ذیشان کی آڈیو سنائی گئی جس میں وہ فیصل آباد میں مارے جانےوالے عدیل حفیظ سے بات کررہا ہے۔انکا کہنا تھا ہر ساتویں اور آٹھویں روز ایسے دہشت گرد پکڑے گئے یا مارے گئے جبکہ ذیشان کا اس واقعہ سے پہلے کوئی پولیس ریکارڈ نہیں اور نہ ہی کوئی مقدمہ ہے،ادھرانسپکٹر جنرل پولیس پنجاب امجد جاوید سلیمی کا کہنا ہے کاﺅنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کا مستقبل ٹھیک ہے ،معاملہ مس ہینڈل کرنے والوں کو سزا ملے گی ۔سانحہ ساہیوال کی تفصیلی رپورٹ جب آئے گی عوام کے سامنے پیش کریں گے ۔

Leave a Reply