219

سانحہ ساہیوال، پولیس کا موقف سراسر جھوٹ ، عمیر خلیل

Spread the love

سانحہ ساہیوال میں جاں بحق ہونےوالے شہری خلیل کے بیٹے اور واقعے کے عینی شاہد 8 سالہ عمیر خلیل نے جوائنٹ انو یسٹی گیشن ٹیم کو تحریری بیان جمع کرادیا جس میں انتہائی دردناک انکشافات ہوئے ہیں،

بیٹے نے بتایا گاڑی کے اندر سے فائرنگ ہوئی نہ کو ئی دہشت گردی کا سامان ملا،پولیس جھوٹ بول رہی ہے ،نقاب پوش اہلکاروں نے انکل ذیشان کو مارنے کے بعد فون پر کسی سے بات کی او ر پھر دوبارہ فائرنگ کر کے پاپا ، ماما اور بہن کو بھی مار دیا ۔

تفصیلات کے مطابق سانحہ ساہیوال کے متاثرین نے جے آئی ٹی کو بیان قلم بند کرا دیا ہے، بیان دینے والوں میں جاں بحق خلیل کا عینی شاہد بیٹا 8سالہ عمیر خلیل بھی شامل ہے

عمیر جلیل کے بیان کی کاپی منظر عام پر آگئی ہے ۔ بچے عمیر خلیل نے بیان میں بتایا ہم لوگ ماں نبیلہ، پاپا خلیل، بڑی بہن اریبہ، چھوٹی بہنیں منیبہ اور ہادیہ 8 بجے گھر سے نکلے، گاڑی قادر آباد پہنچی تو پیچھے سے کسی نے گاڑی پر فائر کیا، گاڑی فٹ پاتھ سے ٹکرا کر رک گئی،

پولیس کے دو ڈالے تیزی سے گاڑی کے پاس آ کر رکے، نقاب پوش اہلکاروں نے فائرنگ کر کے انکل ذیشان کو مار کرفائرنگ روک دی اور فون پر کسی سے بات چیت شروع کر دی،

ابو نے کہا جو چاہے لے لو لیکن ہمیں نہ مارو، معاف کردو، فون بند ہونے کے بعد اہلکار نے ساتھیوں کو اشارہ کیا جس پر انہوں نے دوبارہ فائرنگ شروع کر دی جس سے ابو ، ماما اور بہن جاں بحق ہو گئے، فائرنگ کے دوران پاپا نے مرنے سے پہلے منیبہ کو اور ماما نے مجھے اور ہادیہ کو اپنے گھٹنوں میں چھپالیا تھا،

فائرنگ کے بعد پولیس اہلکاروں نے مجھے اور دونوں بہنوں کو نکال کر دوبارہ گاڑی پر فائرنگ کی، پولیس والے ہم تینوں کو ڈالے میں ڈال کر لے گئے اور ویرانے میں پھینک کر چلے گئے۔

بچے عمیر خلیل نے جے آئی ٹی کو بتایا میں اور منیبہ گولی لگنے کی وجہ سے درد سے کراہتے رہے، ایک انکل نے ہمیں اٹھا کر پٹرول پمپ پر چھوڑ دیا، پولیس والے واپس آئے ہمیں اپنی گاڑی میں بٹھایا اور ہسپتال چھوڑ دیا، گاڑی کے اندر سے یا پھر موٹر سائیکل پر سے فائرنگ نہیں ہوئی،

پولیس جھوٹ کہتی ہے۔تحریری بیان کے مطابق عمیر نے مزید کہا یہ بھی جھوٹ ہے گاڑی میں سے کوئی دہشت گردی کا سامان برآمد ہوا، میرے نہتے بابا، ماما اور بہن کو مار کر پولیس والوں نے زیادتی کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں