0

سانحہ ساہیوال، متاثرہ خاندانوں کو اسلام آباد بلانے کا معاملہ معمہ بن گیا

Spread the love

سانحہ ساہیوال کے متاثرہ خاندانوں کو اسلام آباد بلانے کا معاملہ معمہ بن گیا۔سانحہ ساہیوال کے متا ثر ہ خاندانوں کو اسلام ااباد بلانے پر ایوانِ صدر، سینیٹ ترجمان اور قائمہ کمیٹی داخلہ سمیت پولیس کے الگ الگ مؤقف سامنے آگئے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو وفاقی دارالحکومت بلانے کی ذمہ داری کوئی بھی قبول کرنے کو تیار نہیں۔پولیس حکام کے مطابق قائمہ کمیٹی داخلہ نے ذیشا ن اور جلیل کے خاندان والوں کو طلب کیا تھا،جنہیں پولیس لے کر اسلام آباد گئی تھی، قائمہ کمیٹی داخلہ کی جانب سے دونوں خاندانوں کو بلا ئے جانے کا لیٹر موجود ہے۔پولیس حکام نے بتایا ذیشان اور جلیل کے خاندان والے سینیٹ کی بلڈنگ میں موجود رہے لیکن کمیٹی نے اندر نہیں بلایا، قائمہ کمیٹی داخلہ کی جانب سے کسی کو بھی طلب کیا جائے تو پولیس ہی لیکر جاتی ہے جبکہ صدرِ مملکت اور چیئرمین سینیٹ کے بلانے پر کبھی پولیس کسی کو لے کر نہیں گئی۔دوسری جانب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ کے چیئرمین رحمان ملک نے سوشل میڈیا پر بیان میں پولیس کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ نے سانحہ ساہیوال کے لواحقین کو کوئی نوٹس جاری نہیں کیا، ساہیوال واقعے کے متا ثرین اور مقامی کونسلرز کو آئندہ ہفتے نوٹسز جاری کیے جائیں گے۔ مقامی رکن قومی وصوبائی اسمبلی کو کمیٹی اجلاس میں بلایا جائے گا، وقوعے کے متاثرین کو سننا کمیٹی کے ایجنڈے میں پہلے سے شامل ہے۔متاثرین کو لاہور سے اسلام آباد لانے کیلئے ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا جارہا ہے ۔اس سے قبل گزشتہ روز سانحہ ساہیوال میں جاں بحق ہونیوالے خلیل کے بھائی جلیل کا کہنا تھا ان کی فیملی کو صدر مملکت عارف علوی اور چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی سے ملاقات کیلئے اسلام آباد بلا کر خوار کیا، اگر وہ نہیں ملنا چاہتے تھے تو بلایا کیوں تھا؟ دوسری جانب ایوان صدر اور سینیٹ ترجمان نے گزشتہ روز متاثرہ فیملی کیساتھ ملاقات طے کیے جانے کی تردید کردی۔

Leave a Reply