0

سانحہ ساہیوال، بیڈ گورننس، کمزور لیڈر شپ کا ایک اور ثبوت

Spread the love

(تجزیہ :جے ٹی این آن لائن )
معلوم نہیں ہم کب سدھریں گے ، ملک میں بھاشن دینے والوں کی بہتات ، عمل کرنےوالوں کا قحط تو ہے ہی ہمارے قانون نافذ کرنےوالے اداروں میں متعین حکام اور اہلکاروں کی بھی سوجھ بوجھ جواب دیتی جا رہی ہے ،ہفتہ کے روز صوبہ پنجاب کے شہر ساہیوال میں مقابلے کے نام پر جو ہوا اسے سادہ لفظوں میں وحشیانہ، تکلیف دہ، قابل شرم قرار دیا جاسکتا ہے۔ پولیس میں بہتری اور تبدیلی کے نعرے اس بھیانک وا قعہ کے بعد دم توڑ گئے، سانحہ نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ اگر مقتول واقعی داعش کا عہد ید ا ر تھا تب بھی اسے گرفتار کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی، ایک چھوٹی سی گاڑی جس میں خاتون اور بچے سوار تھے انہیں اس بےدردی و ظالمانہ انداز میں کیوں قتل کیا گیا۔ یوں لگتا ہے پنجا ب حکومت جو پہلے ہی اپنی بدانتظامی، کمزور انتظامی صلاحیت اور کمزور لیڈر شپ کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہے،بری طرح ایکسپوز ہوگئی ہے ۔ اس طرح تو اسرائیل اور مقبوضہ کشمیر میں بھی نہیں ہوتا، گو وہاں پر مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ دنیا کی بھیانک داستان ہے لیکن ہم تو خود کو مسلمان اور جمہوریت کے چیمپئن قرار دیتے ہیں، لیکن یوں لگتا ہے ہمارے اداروں کو ابھی تک تر بیت اور اس بات کا احساس دلانے کی ضر و رت ہے کہ یہ روانڈا، بیت المقدس یا سرینگر نہیں۔ مذکورہ واقعہ کا ایک اور تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ایک طرف شادی کا گھر ماتم کدہ بناتو دو سر ی طرف یہ اطلاع سن کر مقتول کی والدہ بھی چل بسی، پاکستان کی فضا میں پہلے ہی بہت بے برکتی ا و ر نحوست موجود ہے جب آپ دن دیہا ڑ ے کھلے عام سڑکوں پر وحشیوں کی طرح خاندانوں کے خون سے ہولی کھیلیں گے توبتایاجائے کیا معا شرے پر رحمت برسے گی؟ گو وزیراعظم کی ہدایت کے بعد معصوم وزیراعلیٰ کو ہوش آیا اور انہوں نے اہلکاروں کی گرفتاری کا حکم دےدیا ، ورثا سے بھی ملاقات کر لی ، لیکن جو قیامت ان پر گزر گئی اس کا اب کبھی مداوا نہیں ہو سکے گا۔ کاش سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے ملزموں کو پروموشن اور غیر ممالک میں تعیناتیوں کے بجائے فوری سزا ئیں دےدی گئی ہوتیں، افسوس کی بات یہ ہے ہمارے حکمران سیاستدان اداروں کے باا ختیا ر عہدیدار اور پولیس یہ سمجھتی ہے وہ تمام قوانین او ر جوابدہی سے آزاد ہیں۔ جب معاشرے میں انصاف بلکہ فوری انصاف ختم ہو جائے تو پھر ساہیوال جیسے ہی سانحات ہوتے ہیں۔ جے آ ئی ٹی تو بن گئی ہے لیکن ماضی قریب میں جے آئی ٹی کی تحقیقات کو بھی مشکوک قرار دیا جا چکا ہے ۔ اب سمجھ نہیں آتی کس پہ یقین کیا جائے۔ ہماری وزیراعظم عمران خان سے استدعا ہے وہ اپنی گرتی ساکھ کا خیال کرتے ہوئے اس با ر قوم تک سچ ضرور پہنچائیں، نہ صرف سچ بلکہ ذمہ داروں کو عبرتناک سزا دی جائے اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو مرنےوالوں کو اللہ تعالیٰ سے توانصاف مل ہی جائےگا لیکن 5 بے گناہوں کے خون کا بوجھ ان کے کاندھوں پر بھی رہے گا۔

Leave a Reply