0

سانحہ ساہیوال،خلیل،اہلخانہ بے گناہ ، ذیشان دہشتگرد قرار،جے آئی ٹی رپورٹ مکمل

Spread the love

سانحہ ساہیوال کی جے آئی ٹی رپورٹ مکمل ہوگئی ،خلیل اور اس کی فیملی بے گناہ جبکہ ذیشان کو دہشت گرد قرار دیدیا گیا ہے، جے آئی ٹی نے سی ٹی ڈی اہلکار قصور وار قرار دیکر ریکارڈ میں رد و بدل کرنے والے سی ٹی ڈی افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش کر دی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق سانحہ ساہیوال کی جے آئی ٹی رپورٹ مکمل کر لی گئی ہے جو آئندہ چند دنوں میں چالان کی صورت میں انسداد دہشتگردی عدالت میں جمع کروائی جائے گی۔ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں خلیل اور اس کی فیملی کو بیگناہ جبکہ ذیشان کو دہشتگرد قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ذیشان کے دہشتگردوں کے ساتھ روابط تھے، فرانزک ماہرین کو ذیشان کے فون سے دہشتگردوں سے رابطوں کے درجنوں پیغامات ملے ہیں۔ فرانزک ماہرین نے ذیشان کے موبائل سے حاصل ہونے والے اْن پیغامات کو دو صفحوں پر لکھا جو ذیشان اور دہشتگردوں کے مابین گفتگو کے پیغامات تھے اور ان دو صفحات کو جے آئی ٹی کے حوالے کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق ذیشان اکثر دہشتگردوں کو اپنے گھر میں پناہ بھی دیتا تھا۔ اور باہر سے تالا لگا کر جاتا تھا ، محلے میں یہی ظاہر کیا جاتا تھا کہ اندر کوئی نہیں ہے جبکہ کمرے کے اندر دہشتگرد موجود ہوتے تھے۔ انٹیلی جنس رپورٹ ذیشان سے متعلق تھی جس پر کارروائی کی گئی۔ رپورٹ میں اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ خلیل کی فیملی کو بچایا جا سکتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق سی ٹی ڈی اہلکاروں پر فائرنگ کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ گرفتار کیے گئے چھ سی ٹی ڈی اہلکار ہی فائرنگ میں ملوث تھے۔ سی ٹی ڈی نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ رپورٹ میں ریکارڈ میں رد و بدل کرنے والے سی ٹی ڈی افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کی گئی۔ جے آئی ٹی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ذیشان کے دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث ہونے کے جے آئی ٹی کے پاس واضح اور ٹھوس ثبوت ہیں۔ تفتیش کا دائرہ ذیشان کے دوستوں اور رشتہ داروں تک بڑھادیا گیا ہے ۔ جے آئی ٹی کی مکمل رپورٹ آئندہ چند دنوں میں انسداد دہشتگردی کی عدالت میں بطور چالان جمع کروادی جائے گی۔ یاد رہے کہ گذشتہ ماہ 19 جنوری کو سی ٹی ڈی نے ساہیوال میں کارروائی کرتے ہوئے ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں ذیشان ، خلیل ، خلیل کی اہلیہ نبیلہ اور ان کی بیٹی شامل تھے،جے آئی ٹی رپورٹ پنجاب حکومت کو جلد جمع کرائے جانے کا امکان، گاڑی سے فائرنگ کے شواہد نہیں ملے، اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، ذیشان پر اب بھی الزامات، تاہم خلیل کی فیملی کو بے گناہ قرار دیدیا گیا۔سانحہ ساہیوال کے ملزمان کو چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ جے آئی ٹی رپورٹ پنجاب حکومت کو جلد جمع کرائے جانے کاامکان ہے۔ تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ مقتول خلیل کی فیملی کو بچایا جا سکتا تھا۔ اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوت کیا۔ گاڑی سے فائرنگ کے شواہد نہیں ملے، ذیشان پر اب بھی الزامات برقرار ہیں۔ذرائع کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ذیشان گھر میں مشکوک افراد کو پناہ دیتا تھا۔ ذیشان کے فون میں مشکوک افراد سے رابطوں کے درجنوں پیغامات ملے۔ذیشان کے بھائی احتشام نے بھی مشکوک افراد کے گھر آنے کی تصدیق کی۔ ذرائع کے مطابق انٹیلی جنس رپورٹ بھی ذیشان ہی سے متعلق تھی۔ گرفتار 6 اہلکار ہی فائرنگ میں ملوث ہیں جبکہ گاڑی کے اندر سے فائرنگ کے شواہد نہیں ملے۔

Leave a Reply