سانحہ اے پی ایس کے ذمہ داروں سے مذاکرات کمزوری، سیاسی قیادت

سانحہ اے پی ایس کے ذمہ داروں سے مذاکرات کمزوری، سیاسی قیادت

Spread the love

پشاور(بیورو چیف، عمران رشید خان) سانحہ اے پی ایس

Journalist Imran Rasheed

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پیش آنیوالے سانحہ آرمی پبلک

سکول پشاور کو 7 برس بیت جانے کے باوجود بھی اس کے زخم آج بھی تازہ ہیں،

16 دسمبر 2014ء کو ملکی تاریخ کا سب سے دردناک واقعہ رونما ہوا جس میں 6

دہشت گردوں نے آرمی پبلک سکول پر حملہ کیا اور قوم کے معصوم بچوں کو

شہید کیا، درسگاہ کی دیواریں بارود کی بو سے آلودہ ہو گئیں۔ حملے کے فوراََ بعد

سکیورٹی فورسز نے سکول کا گھیراؤ کیا اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے 6

خود کش حملہ آوروں کو طویل آپریشن کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا۔ تاہم درندہ

صفت دہشتگردوں کے حملے میں 147 افراد شہید ہوئے جن میں 122 طلبہ، 22

سکول سٹاف ممبر اور تین سکیورٹی اہلکار شامل تھے۔ سانحہ میں دو بھائیوں میں

ایک شہید اور دوسرا شدید زخمی ہوا۔ زندہ بچ جانے والے بھائی کا کہنا ہے اس

المناک واقعہ نے اسے مشکل حالات سے لڑنے کا حوصلہ دیا- جبکہ معصوم بچوں

کی قربانی نے پوری قوم کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کیخلاف یکجا کر دیا-

=-،-= خیبر پختونخوا سے مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

سانحہ نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں نئی روح پھونکی جس کے نتیجے میں

نیشنل ایکشن پلان تشکیل دے کر قبائلی علاقوں سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا گیا۔

واقعے میں ملوث 9 دہشت گرد موقع پر ہی ہلا ک ہوئے جبکہ گرفتار 6 دہشتگردوں

میں سے 5 کو پھانسی دی جا چکی ہے، اور ایک کا کیس سپریم کورٹ میں زیر

سماعت ہے۔ پاک فوج نے پوری قوم کی حمایت سے د ہشتگردوں کا سر کچلنے

کے لئے فیصلہ کن جنگ کا آغاز کیا، 50 بڑے، 200 سے زائد چھوٹے آپریشن

کئے گئے، اور ان کے نتیجے میں 46000 مربع کلو میٹر کا ایریا کلیئر کیا گیا،

=-= پاکستان کی مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

جب کہ 18000 سے زائد دہشت گرد مارے گئے۔ ملک کے اندر جہاں آپریشن

ضرب عضب اور آپریشن رد الفساد کے ذریعے دہشت گردوں کا خاتمہ کیا گیا،

وہیں سرحد پار سے دہشت گردوں کی نقل و حر کت روکنے کیلئے 2611 کلو میٹر

بارڈر فینسنگ کا بیڑہ اٹھایا گیا۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت سات بڑی دہشت گرد

تنظیموں کا بھی قلع قمع کیا گیا۔ بلا شبہ مورخ لکھے گا پاکستانی قوم اور افواج ِ

پاکستان نے تمام تر چیلنجز کا جس بہادری سے مقابلہ کیا اس کی نظیر نہیں ملتی،

جبکہ وفاقی و صوبائی حکومتیں اور پاک فوج اب تک 1545 ملین روپے سے زائد

رقم شہداء اے پی ایس کے لواحقین اور متاثرین کی داد رسی پر خرچ کر چکی ہے۔

=-،-= معصوموں کے قاتلوں کو معاف کرنا ریاست کا حق نہیں ، اپوزیشن

ریاست کو یہ حق نہیں کہ وہ معصوم انسانوں کے قاتلوں کو معاف کرے، سانحہ

اے پی ایس کے قاتلوں، منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو کٹہرے میں لایا

جائے۔ 16 دسمبر قوم کو ایک دردناک دن کے طورپر ہمیشہ یاد رہے گا، جیسا کہ

قوم اے پی ایس کے شہداء کا سوگ منا رہی ہے، ہمیں واقعی اجتماعی خود شناسی

کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار سابق صدرمملکت اور پاکستان پیپلزپارٹی

کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو

زرداری، صدر مسلم لیگ ن اور قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی شہباز شریف جب

کہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز سے اپنے الگ الگ پیغامات میں کیا۔

=-،-= سانحہ کے ذمہ داروں کو سزاء ملنے تک قوم شہداء کی مقروض

سانحہ اے پی ایس کے سات سال مکمل ہونے پر سابق صدر آصف علی زرداری

نے اپنے پیغام میں کہا جب تک سانحہ کے مجرموں کو سزا نہیں دی جاتی قوم

معصوم شہیدوں کی مقروض رہے گی، یہ ایک ایسا زخم ہے، جس سے آج بھی

خون ٹپک رہا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان دہشت گردوں کو نیست اور نابود کرنے کا

عہد تھا، افسوس قوم سے کیے عہد پر من و عن عمل نہیں ہوا، دہشت گردوں سے

مذاکرات ریاست کو کمزور اور شرمندہ کرنے کے مترادف ہے، فوج کے بہادر

بیٹوں کو سلام جنہوں نے دھرتی کی خاطر جانوں کا نذرانہ دیا، پولیس و سکیورٹی

اداروں کے بہادر افسران کو بھی سلام ۔ سابق صدرمملکت نے کہا دہشت گرد کسی

طور بھی معافی کے مستحق نہیں، موقع ملا تو دہشتگردوں کو انصاف کے کٹہرے

میں لا کر عبرتناک سزا دی جائےگی، وطن سے دہشتگردوں کا ایسے صفایا کیا

جائے گا جیسے سوات میں کیا گیا تھا۔

=-،-= نیشنل ایکشن پلان پر سلیکٹیڈ نہیں مکمل عملدرآمد لازمی، بلاول

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سانحہ آرمی پبلک سکول کے

شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا سکول میں طلبہ اور اساتذہ کا قتل عام

کرنے والے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا

جائے۔ سانحہ اے پی ایس میں شہید ہونے والوں کے لواحقین سے اظہار یکجہتی

کرتے ہوئے انہوں نے کہا قوم آج تک سانحہ آرمی پبلک سکول کے درد سے نہیں

نکلی اور عوام معصوم روحوں سے انصاف کی منتظر ہے۔ میری پارٹی و خاندان

دہشت گردی کا شکار رہے ہیں اور میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کیخلاف اپنی

صدا بلند کرتا رہوں گا۔ نیشنل ایکشن پلان کے سلیکٹڈ نفاذ کو ترک کر کے اسے

مکمل طور پر نافذ کیا جانا چاہئے۔

=-،-= درد ناک سانحہ سے کیا ہم نے کوئی سبق سیکھا؟ ، شہباز شریف

مسلم لیگ (ن) کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ

اس وحشت ناک دن کی یاد پر ہمارے دل خون کے آنسو روتے ہیں، کیا ہم نے کوئی

سبق سیکھا اور اصلاح احوال کی راہ اپنائی ہے؟، ہمارے بچوں کے روشن اور

سنہری مستقبل کے لئے ہم کب اخلاص نیت کے ساتھ مل بیٹھیں اور اجتماعی دانش

بروئے کار لائیں گے؟، سوالات بہت ہیں لیکن ان کے جوابات معدود چند ہی ہیں؟۔

=-،-= ہمیں واقعی اجتماعی دانش کی ضرورت ہے، مریم نواز

جبکہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے ٹویٹ میں کہا جیسا کہ قوم

اے پی ایس کے شہداء کا سوگ منا رہی ہے، ہمیں واقعی اجتماعی خود شناسی کی

ضرورت ہے، اور بھی بہت کچھ ہے جو ہمیں بطور ریاست اور بطور شہری

کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اس طرح کا سانحہ کبھی نہ

دہرایا جائے۔ ہماری ترجیحا ت، پالیسیاں اور ذہنیت سب کو اسی کے مطابق نظر

ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

سانحہ اے پی ایس ، سانحہ اے پی ایس ، سانحہ اے پی ایس ، سانحہ اے پی ایس

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں
= نوٹ ==> ہماری نئی ویب سائٹ ” جتن اردو ” کا ضرور وزٹ کریں

Leave a Reply