سابق نائب سربراہ حقانی گروپ شیخ خالد کابل میں ساتھی سمیت مارے گئے

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک)افغانستان کے دارالحکومت کابل میں حقانی گروپ کے سابق

نائب سربراہ شیخ خالدحقانی سینئر رہنما سمیت ایک حملے میں جاں بحق ہو گئے۔

شیخ خالد حقانی پاکستانی طالبان کی قیادت میں اہم مقام رکھتے تھے ۔ انھیں افغان

صوبہ کنٹر میں ایک بڑے جنازے کے بعد سپردِ خاک کر دیا گیا۔میڈرپورٹس کے

مطابق طالبان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں دونوں افراد کی شناخت اور

ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی تاہم اس حوالے سے طالبان نے بہت کم تفصیلات

فراہم کی ہیں۔

دونوں رہنما مرکزی قیادت کے حکم پر کابل میں ایک خفیہ ملاقات کے لیے موجود

تھے اور بظاہر مشرقی صوبے پکتیکا سے دارالحکومت آئے تھے تاہم یہ واضح

نہیں کہ وہ کس سے ملنے والے تھے۔ذرائع کے مطابق ان افراد کی لاشیں

انٹرکانٹینینٹل ہوٹل کے قریبی علاقے سے ملیں۔ یہ وہ ہوٹل ہے جہاں حالیہ برسوں

میں دو مہلک حملے ہو چکے ہیں۔ادھرتحریکِ طالبان پاکستان کے ذرائع کا کہنا تھا

کہ ابتدا میں قیادت نے اس خبر کو چھپانے کا حکم دیا۔ پاکستانی طالبان کی جانب

سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ دونوں افراد کی ہلاکت امریکی فوج سے ہونے

والی ایک جھڑپ کے دوران ہوئی۔پاکستانی طالبان کے ذرائع کے مطابق کابل میں

ہلاک کیے جانے والے دونوں افراد کی لاشیں گروپ کے حوالے کی گئیں ۔

خالد منصور حقانی کون تھے؟

کابل میں قتل کیے گئے شیخ خالد حقانی کے بارے میں پاکستان میں کوئی خاص

نوٹس نہیں لیا گیا کیونکہ ان کی زندگی اور کردار کے بارے میں معلومات انتہائی

محدود تھیں۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ نوجوان شیخ خالد حقانی کالعدم تحریک طالبان

کے بانی سربراہ بیت اللہ محسود سمیت اس جماعت کے تین سربراہوں کے معتمد

خاص رہے ہیں۔

یکم نومبر 2013 کو حکیم اللہ محسود کی شمالی وزیرستان کے علاقے ڈانڈے درپہ

خیل میں ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد کالعدم جماعت میں باہمی اختلاف رائے

عروج پر تھا۔ اسی تناظر میں کالعدم تحریک طالبان کی شوریٰ میں طویل بحث کے

بعد سوات کے ملا فضل اللہ کو جماعت کا سربراہ تعینات کرنے کا معاملہ آیا تو

پچیس برس کے نوجوان شیخ خالد حقانی کو تعینات کیا گیا۔

شیخ خالد منصورحقانی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنے امیر ملا فضل اللہ

کی طرح ریاست پاکستان سے لڑائی کے تو حامی تھے مگر ملا فضل اللہ کے

برعکس سکولوں، ہسپتالوں اور عوامی مقامات پر حملوں کے ناقد بھی تھے۔

جوں ہی ملا فضل اللہ اور محسود عسکریت پسندوں کے درمیان امور طے پاِئے

شیخ خالد نے نائب کا عہدہ چھوڑ دیا۔ انھیں کالعدم جماعت کی مرکزی شوریٰ کا

رکن بنا دیا گیا تھا اور وہ افغانستان میں اپنی ہلاکت تک اسی عہدے پر فائز رہے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply