زینب الرٹ بل سینیٹ سے منظور ، مسلم لیگ ن ، جماعت اسلامی کے تحفظات

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)سینیٹ میں بچوں سے زیادتی کے مجرموں کو سزا سے متعلق زینب الرٹ

،ردعمل اور بازیابی بل 2020 کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔مسلم لیگ (ن)اور جماعت اسلامی

نے بل میں بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے پر عمر قید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل

کرنے کا مطالبہ کیا جس پر وفاقی وزیر پارلیمانی امور سینیٹراعظم خان سواتی نے بل میں ترامیم

لانے کی یقین دہانی کروا دی۔جماعت اسلامی کے امیرسراج الحق نے بھی بل کی منظوری کے دوران

احتجاجاً واک آئوٹ کیا۔لیگی سینیٹر جاوید عباسی نے اعتراض کیا کہ اگرثابت ہو کہ بچے کو زیادتی یا

قتل کیلئے اغوا کیاگیاتواس کی سزا عمر قید کی بجائے موت ہونی چاہیے،جماعت اسلامی کے سینیٹر

مشتاق احمد نے کہا کہ بل میں دفعہ 302اے کے تحت قصاص کو شامل کیا جائے، قصاص کے خاتمے

کیلئے عالمی دبا ئوہے لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔بل کے تحت بچوں کے خلاف جرائم پر زیادہ

سے زیادہ 14سال اور کم سے کم 7سال قید کی سزا ہوگی،بچوں کی گمشدگی پر پولیس2گھنٹے کے

اندر مقدمہ درج کرنے کی پابند ہوگی،عدالتیں بچوں سے متعلق جرائم کے مقدمات کا 3ماہ کے اندر

فیصلہ کریں گی،ڈائریکٹوریٹ جنرل زینب الرٹ، رسپانس و ریکوری بچوں کے حوالے سے مانیٹرنگ

کا کام کرے گا اور ہیلپ لائن 1099کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔بدھ کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین

صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور سینیٹر اعظم خان سواتی

نے زینب الرٹ ،ردعمل اور بازیابی بل 2020پیش کرنے کی تحریک ایوان میں پیش کی جس پر مسلم

لیگ (ن) کے سینیٹر جاوید عباسی نے اعتراض کیا کہ اس بل میں عمر قید کی سزا کم ہے، اگرثابت ہو

کہ بچے کو زیادتی یا قتل کیلئے اغوا کیاگیاتواس کی سزاموت ہونی چاہیے۔ جماعت اسلامی کے سینیٹر

مشتاق احمد نے بھی اعتراض کیا کہ بل میں سزائے موت کی دفعہ شامل کیوں نہیں کی گئی، بل میں

دفعہ 302اے کے تحت قصاص کو شامل کیا جائے، قصاص کے خاتمے کے لیے عالمی دبا ئوہے

لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ یہ کسی

جماعت کا مسئلہ نہیں ہے ، یہ پوری قوم کا غیر سیاسی مسئلہ ہے ، گزشتہ چند ماہ میں 3 ہزاربچوں

کے ساتھ زیادتی ہوئی، یہ سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ہم سب کے بچوں کا سوال ہے، قتل کی سزاتو پہلے

ہی قصاص ہے، آپ نے بچوں کے قتل کی سزا کو صرف جیل تک محدود کردیا ہے، یہ انصاف کا قتل

ہے، اس بل میں دفعہ 302اور دفعہ 201کو شامل کیا جائے۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ بل میں ترامیم

کا ایک طریقہ کار موجود ہے، بل کو ابھی منظور ہونے دیں، آپ ترامیم لے آئیں ہم منظور کروا لیں

گے۔وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ یہاں جو بھی باتیں کی گئیں وہ اہم ہیں مگر یہ بل پہلے

قومی اسمبلی میں سات ماہ رہا اب سینیٹ میں بھی اس کو کافی ٹائم ہوگیا ہے ، اس بل کو پاس ہونے دیا

جائے اس کے بعد اگر کوئی اس میں مزید بہتری چاہتا ہے تو اپنی ترامیم لے آئے ۔ سینیٹر اعظم خان

سواتی نے کہا کہ سراج الحق کی بات درست ہے میں ان سے وعدہ کرتا ہوں کہ اس میں ترامیم میں

لائوں گا ۔قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کے چیئرمین مصطفی نوازکھوکھر نے کہا کہ اس بل پر سات سے

آٹھ اجلاس ہوئے ، ہم نے بل پر انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی رائے لی ، اس وقت ملک میں رائج

قانون کے تحت فوری طور پر بچوں کی گمشدگی کے مقدمات درج نہیں ہوتے ، ہم نے بل میں بچوں

کی گمشدگی کے بعد دو گھنٹے کے اندر اندر پولیس کو مقدمہ درج کرنے کا پابند بنایا گیا ہے ، اگر اس

کی کوئی خلاف ورزی کرے گا تو اس افسر کو دو سال قید اور ایک لاکھ جرمانہ ہوسکے گا۔ بل کے

تحت عدالتیں تین ماہ کے اندر اندر بچوں سے متعلق جرائم کے مقدمات کا فیصلہ کرنے کی پابند ہوں

گی ۔ سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ سراج الحق کی بات ٹھیک ہے ،ایسے درندوں کو پھانسی دینی

چاہیے اور ان کو الٹا لٹکانا چاہیے ۔ اس بل کو مزید تاخیر کا شکار نہ کیا جائے بلکہ فوری طور پر

منظور کیا جائے ۔ اس کے بعد اس میں مزید بہتری کر لی جائے گی ۔ سینیٹر مشتاق نے کہا کہ جب

زیادتی کے بعد قتل ثابت ہوجائے تو پھر ملزم کو سزائے موت دینی چاہیے ، ہم بل کے مخالف نہیں ہم

صرف چاہتے ہیں کہ اس کو مزید بہتر بنایا جائے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہمارا مطالبہ صرف

یہی ہے کہ قتل ثابت ہونے کے بعد سزا پھانسی ہونی چاہیے ، حکومت کی جانب سے بعد میں اس بل

میں ترامیم لانے کی یقین دہانی کروائی گئی ہے مگر میں اس وقت اس بل کی منظوری کے دوران اس

کا حصہ نہیں بن سکتا اس لئے میں واک آئوٹ کر رہا ہوں ۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بل کی

شق وار منظوری کے بعد رائے شماری کے ذریعے بل کثرت رائے سے منظور کر لیا ۔ بل کے تحت

بچوں کے خلاف جرائم پر زیادہ سے زیادہ 14سال اور کم سے کم 7سال قید کی سزا ہوگی۔ قومی

کمیشن برائے حقوقِ بچگان کا نام تبدیل کر کے زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری ایجنسی کردیا جائے

گا۔بل کے مطابق کسی بھی بچے کے اغوایاجنسی زیادتی کے واقعہ کا مقدمہ درج ہونے کے تین ماہ

کے اندر اندر اس مقدمے کی سماعت مکمل کرنا ہوگی۔ پولیس بچے کی گمشدگی یا اغوا کے واقعہ کی

رپورٹ درج ہونے کے دو گھنٹوں کے اندر اس پر کارروائی کرنے کی پابند ہوگی۔ بل کے مطابق

وزیراعظم کی طرف سے گمشدہ اور لاپتہ بچوں کے حوالے سے ایک ڈائریکٹر جنرل تعینات کیا

جائے گا، ڈائریکٹر جنرل کے ساتھ افسران اور اہلکار بھی تعینات کیے جائیں گے،ڈائریکٹوریٹ جنرل

زینب الرٹ، رسپانس و ریکوری بچوں کے حوالے سے مانیٹرنگ کا کام کرے گا اور ہیلپ لائن

1099کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔ زینب الرٹ، ریسپانس اینڈ ریکوری بل کی نگرانی وفاقی چائلڈ

پروٹیکشن ایڈوائزری بورڈ کرے گا، کسی بھی بچے کے لاپتہ ہونے کی صورت میں پی ٹی اے

اتھارٹی فون پر بچے کے بارے میں پیغامات بھیجے گی اور بچہ گم ہونے کی صورت میں دو گھنٹے

کے اندر مقدمہ درج ہو گا۔اس قانون کا اطلاق ملک بھر میں ہو سکے گا۔دوسری طرف چیئرمین

سینیٹ نے حج فارم سے ختم نبوت کا حلف نامہ نکالنے کے حوالے سے معاملہ پر تحقیقات کے لئے

ارکان کی مشاورت کے بعد مذہبی امور کمیٹی یا خصوصی کمیٹی میں بھیجنے کا فیصلہ کیا جبکہ

سینیٹ میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا ہے کہ حج فار م میں ختم نبوت کا

حلف نامہ کے معاملہ پر انکوائری کے لئے تیار ہیں، اگر ایسی کوئی سازش ہوئی تو میں خود ناکام

بنائو ں گا اور سخت سزا دیں گے، آئین کے تحت ختم نبوت کا منکر کافر ہے ، یہ ہمارے ایمان کا

جزو لا ینفک ہے، کوئی آفیسر اور یا وزیر بے ایمانوں کو حج پر جانے کی اجازت نہیں دے سکتا، حج

فارم پر ختم نبوت کے حلف نامہ کا ایشو آیا تو سب سے پہلے وزیراعظم نے مجھے متنبہ کیا ، وزارت

کی ویب سائٹ پر حج فارم اصلی حالت میں موجود ہے، بنکوں کے مشورہ پرسہولت کے لئے جج

فارم کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا اور دوسرے حصہ میں حلف نامہ رکھا گیا، میں نے افسران سے

ناراضگی کا اظہار کیا تھا کہ اس حسا س معاملہ پر مجھے اعتماد میں کیوں نہیں لیا،، انہوں نے حسن

نیت سے کیا لیکن اعتماد میں لینا چاہیے تھا ، روپے کی قدر میں کمی اور سعودی حکومت کے

مختلف اخراجات کی مد میں اضافی چارچز کی وجہ سے حج مہنگا ہوا، ہمارا حج پیکج ڈالر کی مد

میں دیکھیں تو بھارت ، بنگلہ دیش اور کئی ممالک سے سستا ہے۔وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور

الحق قادری نے حج فارم سے ختم نبوت کے حلف نامہ نکالنے کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا

کہ دو دن قبل ختم نبوت کے حوالے سے حلف نامہ کا ایشو اٹھایا اور ارکان نے آواز اٹھائی، یہ سب کا

فریضہ تھی، نظریہ پاکستان اور ختم نبوت آپس میں جڑے ہوئے ہیں،آواز اٹھانے والوں کو خراج

تحسین پیش کرتا ہوں،

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply