tipu nuqta e nazer jtnonline

زندہ شہید قاسم سلیمانی اورمستقبل کی ایرانی حکمت عملی – – ؟

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زندہ شہید قاسم سلیمانی

شہرت کی چکا چوند سے دور رہنے والی وہ شخصیت جنہیں چند سال پہلے تک بہت سے ایرانی شہری راہ چلتے پہچان نہیں سکتے تھے اب وہ ڈاکومنٹریوں، خبروں اور پاپ گیتوں کا نہ صرف موضوع ہیں بلکہ انکی شہادت کا بدلہ ایرانی قوم کا مقصد واحد بن گیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے شہید جنرل قاسم سلیمانی 11 مارچ 1957ء کو ایران کے صوبہ کرمان کے ایک گاؤں میں ایک کسان کے ہاں پیدا ہوا- غربت کے باعث کسمپرسی کی حالت میں تعلیم حاصل کی- وہ 12 سال کی عمر میں گاؤں چھوڑ کر کرمان شہر آ گئے۔ مزید پڑھیں

1979ء میں انقلاب ایران کے بعد پاسداران انقلاب میں شمولیت

جنرل قاسم سلیمانی کچھ عرصہ ایک مستری کے شاگرد رہے اور پھر کرمان واٹر آرگنائزیشن میں کنٹرکٹر بن گئے۔ کام کاج سے فارغ ہوتے تو جم چلے جاتے،راتوں کو امام خمینی کے خطابات سننا ان کا پسندیدہ کام تھا۔ 1979ء میں انقلاب ایران کے بعد قاسم سلیمانی پاسداران انقلاب کا حصہ بن گئے۔ ابتدا میں شمال مغربی ایران میں کرد علیحدگی پسندوں کا صفایا کیا۔ 80ء کی دہائی میں عراق کیخلاف جنگ میں 41 ویں ڈویژن کی کمانڈ کی۔ انہوں نے عراقی فوج سے ایران کے کئی علاقے خالی کروائے۔ یوں پاسداران انقلاب میں وہ تیزی سے نام بنانے والے کمانڈر بن گئے۔

عراقی صدر صدام حسین کو ہٹانے میں بھی کام دکھایا

Sulamani 18

80 کی دہائی میں قاسم سلیمانی پاکستانی جنرل اسلم بیگ سے بڑی عقیدت سے ملے۔ انہوں نے صدام حسین کو ہٹانے میں بھی کام دکھایا- قاسم سلیمانی ایران میں رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے بعد سب سے طاقتور سمجھے جاتے تھے۔ وہ حالیہ برسوں میں اس وقت کھل کر سامنے آئے جب انہیں داعش کیخلاف کارروائیوں کی بدولت عوامی مقبولیت ملی۔ 62 سالہ جنرل قاسم سلیمانی پاسدارانِ انقلاب میں شمولیت کے بعد تیزی سے ترقی کی منازل طے کرتے گئے۔

ایران عراق جنگ میں جنرل قاسم سلیمانی نے اپنا نام بنایا

Iran Soleimani Coffins of Gen. Qassem Soleimani.

1980ء سے 1988ء تک جاری رہنے والی ایران عراق جنگ میں جنرل قاسم سلیمانی نے اپنا نام بنایا اور ترقی کرتے ہوئے سینئر کمانڈر بن گئے۔ 1998ء میں قدس فورس کا سربراہ بننے کے بعد جنرل قاسم سلیمانی نے بیرونِ ملک خفیہ کارروائیوں کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں ایران کے اثر و رسوخ کو بڑھانا شروع کیا، انہوں نے اپنے اتحادی گروہوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی۔ ایران کی حامی ملیشیاﺅں کا نیٹ ورک تیار کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اپنے کیریئر کے دوران جنرل قاسم سلیمانی نے سابق عراقی صدر صدام حسین کیخلاف شیعہ گروپوں کی مدد کی۔ لبنان میں حزب اللہ اور حماس کی بھی بھرپور مدد کرتے رہے- انہیں اس بات کا کریڈٹ بھی جاتا ہے کہ انہوں نے شامی صدر بشارالاسد کیخلاف 2011ء میں شروع ہونیوالی بغاوت سے نمٹنے کیلئے حکمت علمی بنا کر دی۔ ایران کی اس مدد اور روسی فضائی مدد سے ہی بشارالاسد کو باغیوں کیخلاف جنگ کا پانسہ پلٹنے میں مدد دی۔

عراق اور شام میں داعش کی پسپائی کا باعث بھی بنے

جنرل قاسم سلیمانی عراق اور شام میں داعش کی پسپائی کا باعث بھی بنے۔ امریکی حکام جنرل قاسم سلیمانی سے بہت تنگ تھے کیونکہ وہ خطے میں بچھائی ہوئی امریکہ کی ہر بساط کو لپیٹ کر رکھ دیتے تھے۔ جنرل قاسم سلیمانی ایرانیوں میں ایک ہیرو کے طور پر جانے جاتے تھے، وہ بیرون ملک ایرانی دشمنوں سے لڑنے والے مشہور کمانڈر تھے۔

2011ء میں علی خامنہ ای نے قاسم سلیمانی کو ” زندہ شہید “ قرار دیا

ایرانی جنرل قاسم سلیمانی نے مشرق وسطیٰ میں ایک ماہر فوجی حکمت کار کے طور پر بہت نام کمایا۔ جنوری 2011ء میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے قاسم سلیمانی کو میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دیتے ہوئے انہیں ” زندہ شہید “ قرار دیا۔ وہ اکثر و بیشتر آس پاس کے ملکوں میں سفر پر رہتے تھے۔ شہادت سے پہلے تین بار 2006ء ، 2012ء اور پھر 2015ء میں یہ افواہیں سامنے آئیں کہ جنرل قاسم سلیمانی کو شہید کر دیا گیا ہے۔ کم گو اور دھیمے لہجے میں گفتگو کرنیوالے جنرل قاسم سلیمانی کو قدامت پسند حلقے بہت پسند کرتے تھے۔ کچھ عرصہ پہلے وہ دوستوں سے یوں مخاطب ہوئے کہ ” میں فرزند کربلا ہوں- شہادت میری آرزو ہے“۔

اے خدا مجھے اپنا دیدار کرا دے، میں تجھ سے ملنے کو بیتاب ہوں

Sulamani 5Sulamani 4

سربراہ قدس فورس قاسم سلیمانی نے اپنی شہادت سے صرف چند گھنٹے قبل جمعرات 2 جنوری کو دمشق سے بغداد کیلئے پرواز سے پہلے اپنی قیام گاہ میں چند الفاظ تحریر کئے جو یوں ہیں، ” اے خدا مجھے اپنا دیدار کرا دے، اے خدا میں تجھ سے ملنے کیلئے بے تاب ہوں، وہی دیدار کہ جس کیلئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس تاب نظارہ نہ تھا۔ خداوندا مجھے پاک و مطہر قبول کر، الحمدللہ رب العالمین۔ اور پھرکاغذ کے اسی ورق پراپنا پین بھی رکھ دیا اور ائیر پورٹ کیلئے روانہ ہوئے۔

قاسم سلیمانی کی شہادت امریکہ، اسرائیل کی دیرنیہ خواہش تھی

Sulamani 6

شہادت کی آرزو کرنیوالے قاسم سلیمانی کو جمعہ تین جنوری کی صبح شہادت مل گئی۔ وہ بیروت میں حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ سے مل کر براستہ سڑک دمشق پہنچے، دمشق سے عام پرواز پر بغداد پہنچے اور پھر بغداد ان کیلئے مقتل ثابت ہوا۔ قطر کے العدید ایئربیس سے اڑایا گیا ”ہیل فائر ننجا میزائل“ ڈرون کی صورت میں انکی گاڑی کو لگا۔ اس منصوبے کی نگرانی امریکی ریاست نیواڈا کے ایئربیس سے کی گئی۔ قاسم سلیمانی گریٹر اسرائیل کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔ امریکیوں اور اسرائیلیوں کی کافی عرصے سے یہ خواہش تھی کہ وہ جنرل قاسم سلیمانی کو راستے سے ہٹا دیں۔

بلا تفریق شیعہ سُنی مشرق وسطیٰ میں ملیشیاﺅں کو طاقتور بنایا

Iran SoleimaniSulamani 7

طلسماتی شخصیت کے مالک، اعلیٰ فوجی حکمت کار قاسم سلیمانی نے شیعہ سنی کے جھگڑے میں پڑے بغیر عراق، شام اور فلسطین جیسی غیر شیعہ ریاستوں کا دفاع کیا- عراق، لبنان، شام، فلسطین اور یمن میں ملیشیاﺅں کو طاقتور بنایا، انہیں جنگی حکمت عملیاں سکھائیں۔ ذرائع بتاتے ہیں ایران سعودی عرب تنازع میں جب پاکستانی قیادت نے یہ کہا کہ ایران پر حملہ ہوا تو ہم غیر جانبدار رہیں گے، اس پر جنرل قاسم سلیمانی نے کہ اگر پاکستان پر حملہ ہوا تو ہم اپنا خون دیں گے، پاکستان کیلئے خون دینا میرے لئے باعث افتخار ہے۔

جانشین اسماعیل قآنی

Ismail Qaani

قاسم سلیمانی کے بعد اسماعیل قآنی قدس فورس کے نئے چیف مقرر کیے گئے ہیں۔ قدس فورس ایران کی سکیورٹی فورسز پاسداران انقلاب کی وہ شاخ ہے جس کے پاس ایران سے باہر فوجی آپریشن کرنے کی ذمہ داری ہے۔63 سالہ اسماعیل قآنی ملک کے مقدس شہر میں پیدا ہوئے، عراق جنگ نے دونوں میں دوستی مزید مضبوط بنا دی تھی۔ اسماعیل قآنی اس حوالے سے کہتے ہیں ”ہم جنگ میں پلنے والے بچے ہیں“۔ جنگ کے بعد انہوںنے قدس فورس میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور انھیں خراسان صوبے میں تعینات کیا گیا تھا۔

قاسم سلیمانی مغرب تو اسماعیل قآنی مشرق میں ایرانی ترجیحات کے نگہبان

Sulamani 17Ismail Qaani

کہاجاتا ہے کہ قاسم سلیمانی مغرب کی جانب اپنا دھیان مرکوز رکھتے تھے جبکہ اسماعیل قانی مشرق میں ایران کی ترجیحات کی دیکھ بھال کرتے تھے- جیسے منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام اور طالبان سے جھڑپوں میں افغانستان کے شمالی اتحادکی مدد کرنا وغیرہ۔ فورس میں اسماعیل قآنی کا کردار روزمرہ کے انتظامی امور سنبھالنا تھا۔ادارے میں ان کے اونچے رتبے کی بدولت امریکہ نے ان پر 2012ء میں پابندیاں عائد کردی تھیں۔ ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ خامنہ ای نے اسماعیل قآنی کو قاسم سلیمانی کا جانشین قرار دیتے ہوئے کہا قدس فورس ’بغیر کسی تبدیلی کے کام کرے گی۔

بہرحال یہ تو طے ہے کہ امریکہ نے ایران کو قاسم سلیمانی کی شہادت سے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے- دیکھنا یہ ہے ایران اس صورتحال سے نبرد آزما ہونے کیساتھ ساتھ مستقبل میں کیسی حکمت عملی اختیار کرتا ہے-

زندہ شہید قاسم سلیمانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply