زلمے کابل پہنچ کر انخلاء معاہدہ سے مکر گئے

Spread the love

افغان صدارتی محل کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے کابل میں افغان صد ر اشرف غنی اور دیگر عہدیداروں سے ملاقات کر کے طالبان امریکہ مذاکرات سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا اور بتایابات چیت میں امر یکی فوج کے انخلا کا کوئی معاہدہ طے پایانہ ہی افغانستان میں سیاسی نظام کی تبدیلی پر بات کی گئی،افغان صدارتی محل سے جاری بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا مذاکرات میں افغانستان میں عبوری حکومت کے قیام سے متعلق بھی کوئی بات نہیں کی گئی جبکہ طا لبا ن سے جنگ بندی سے متعلق مذاکرات کیے جس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، البتہ طالبان رہنماو¿ں نے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کا مطالبہ دہرایا،ادھرافغان میڈیا نے دعویٰ کیاہے طالبان اور امریکہ کے درمیان باقی رہ جانےوالے معاملات پر زلمے خیل زاد طا لبا ن قیادت سے دوبارہ ملاقات کریں گے،جبکہ زلمے خلیل زاد کا کابل میں صحافیوں سے ملاقات میں کہنا تھا امریکہ کی سب سے پہلی ترجیح ایسے پرامن افغانستان کا قیام ہے جس سے تمام شہری یکساں مستفید ہوسکیں، ہم افغان عوام کی خاطر جتنی جلدی ممکن ہوسکا ملک سے تشدد کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔ امریکہ افغانستان کے معاملات کو غیر یقینی صورتحال میں نہیں چھوڑے گا بلکہ اس کیلئے طے شدہ طریقہ کار کو مکمل کرے گا، امریکی محکمہ دفاع کے قائم مقام چیف پیٹرک شین ہین نے کہا ہے افغانستان سے مکمل فوجی انخلاکی تیاری کا ٹاسک نہیں دیا گیا۔واشنگٹن میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات کے موقع پر انہوں نے کہا طالبان کےساتھ مذاکرات حوصلہ افزا ہیں تاہم ابھی افغانستان سے مکمل فوجی انخلاکا ٹاسک نہیں دیا گیا۔سیکریٹری جنرل نیٹو اسٹولسبرگ نے کہا اس وقت تک افغانستان سے نہیں جائیں گے جب تک یقین نہ ہو مقصد پورا ہو چکا ،اس بات کا مقصد یہ ہے افغانستان کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہ بننے دیں۔افغانستان میں نیٹو فوج کے مستقبل سے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔

Leave a Reply