زلمے خلیل زاد افغان نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا قیام عمل میں لانے کیلئے مشن پر روانہ

واشنگٹن ( مانیٹرنگ ڈیسک ) امریکی امن نمائندہ برائے افغانستان زلمے خلیل زاد

مختلف افغان دھروں کو اپنے داخلی تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے

کیلئے مختلف افغان دھڑوں پر مشتمل ایک ایسی کمیٹی کے قیام کیلئے جو آپس میں

بات چیت کیلئے آمادہ ہو افغانستان اور قطر کے دورے پر روانہ ہوئے ہیں امریکی

وزارت خارجہ کے مطابق اس دورے کا مقصد طالبان کے ساتھ بات چیت کی

یہ بھی پڑھی:امن کیلئے پاکستانی اقدامات قابل ستائش،زلمے خلیل زاد

بحالی ہے، تاکہ تقریباً اٹھارہ برسوں سے جاری اس تنازعے کا خاتمہ ممکن ہو

سکے۔امریکی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ نمائندہ خصوصی زلمے خلیل

زاد کو ایک ایسے مشن پر روانہ ہوئے ہیں، جس کا مقصد امن عمل کو آگے

بڑھاتے ہوئے افغانستان میں تنازعات کا خاتمہ ہے۔ ان کا یہ دورہ یکم اگست تک

جاری رہے گا۔ بتایا گیا ہے کہ افغان دارالحکومت میں وہ کابل حکومت کے

نمائندوں سے امن عمل کے آگے کے مراحل کے بارے میں گفتگو کریں گے اور

ایک ایسی قومی مذاکراتی ٹیم کے قیام کے بارے میں بات چیت کی جائے گی، جو

افغانستان کے مختلف دھڑوں کے داخلی مذاکرات میں بھی شریک ہو سکے۔ اس

طرح کسی ٹیم کا قیام ایک انتہائی پیچدہ مرحلہ ہے کیونکہ طالبان افغان حکومت

مزید پڑھیں:ایسا افغانستان چاہتے ہیں جو کسی کیلئے خطرہ نہ ہو، زلمے خلیل زاد

سے براہ راست بات چیت کرنے پر رضامند نہیں ہیں۔وائٹ ہاؤس کے مطابق کابل

کے بعد خلیل زاد طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی کے لیے دوحہ روانہ ہو

جائیں گے۔ واشنگٹن کی خواہش ہے کہ طالبان عسکریت پسندوں کے ساتھ صدارتی

انتخابات سے قبل کوئی سیاسی معاہدہ طے پا جائے ۔ افغانستان میں ستمبر میں

صدارتی انتخابات طے ہیں۔ اگر طالبان کے ساتھ بات چیت نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے

تو افغانستان سے اٹھارہ برسوں بعد غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا کا عمل شروع

ہو جائے گا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: