ریاض، منشیات سمگلنگ میں ملوث 2 پاکستانیوں سمیت4 افراد کے سر قلم

Spread the love

ریاض(جتن آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک) ریاض پاکستانی سرقلم

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ گزشتہ روز ایک خاتون سمیت چار افراد کو منشیات سمگلنگ کے الزام میں ان کے سر قلم کر دئے گئے ہیں۔ رواں سال اب تک53 افراد کو زنا، ڈکیتی، منشیات اور قتل پر موت کی سزا دی جا چکی ہے۔ مزید پڑھیں

سزائے موت پانے والوں میں ایک یمنی مرد اور ایک نائیجیرین خاتون شامل

سرکاری سعودی پریس ایجنسی نے وزارت کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دو پاکستانی، ایک یمنی مردوں اور ایک نائیجیرین خاتون کو مکہ مکرمہ میں سزائے موت دی گئی ہے- ایس پی اے کی طرف سے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق سال کے آغاز سے اب تک مملکت میں 53 افراد کو پھانسی دی جاچکی ہے۔

سعودی عرب میں سزائے موت کی شرح دنیا کے بلند ترین ممالک میں سے ایک

سعودی عرب میں سزائے موت دینے کی شرح دنیا کے بلند ترین ممالک میں سے ایک ہے جہاں دہشتگردی، قتل عام، ریپ، مسلح ڈکیتی اور منشیات سمگلنگ کے جرم پر سزائے موت دی جاتی ہے۔ گزشتہ سال سعودی عرب میں 120 افراد کو سزائے موت دی گئی تھی۔

یاد رہے سزائے موت دینے کے قانون پر عمل کرنے کی وجہ سے سعودی عرب امریکی اور بالخصوص یورپی ممالک میں سخت گیر ملک کے طور پر جانا جاتا ہے، کئی مرتبہ اسے انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا- جب سے شاہ فرمان سلمان بن عبدالعزیز نے شہزادہ محمد بن سلمان کو ولی عہد نامزد کیا ہے اور انہوں نے ملک میں اصلاحات کا آغاز کیا ہے تب سے انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیوں نے سعودی عرب سے متعلق اپنی سوچ بھی تبدیل کر لی ہے-

ریاض پاکستانی سرقلم

Leave a Reply