Ohio Police jt network

ریاست اوہایو پولیس فرض شناسی کی مثال بن گئی، 4 دہائیاں قبل قتل کا معمہ حل

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اوہایو(جے ٹی این آن لائن نیوز) ریاست اوہایو پولیس

امریکہ کی ریاست اوہایو کی پولیس نے فرض شناسی کی مثال قائم کردی، چار دہائیوں سے چلا آ رہا قتل کی واردات کا معمہ حل کر لیا- بتایا جاتا ہے کہ اوہایو کی پولیس نے، ایک ایسے قتل کا کیس حل کر لیا ہے، جو 37 سال قبل ہوا تھا۔

——————————————————————————–
یہ بھی پڑھیں : پولیس سے مدد مانگنا میری بڑی غلطی تھی
——————————————————————————–
1983ء میں 15 سالہ لڑکے کی مسخ لاش ملی، قاتل کا پتہ نہ چل سکا

تفصیلات کے مطابق 1983ء میں، اوہایو کی کانٹی شمالی ڈیلاویر میں ساتھ گلینا روڈ پر، ایک 15 سالہ لڑکے کی کٹی پھٹی لاش ملی تھی، جس کی شناخت جون مونسی کے نام سے ہوئی تھی، تاہم اس کے قاتل کا پتا نہیں چل سکا تھا۔

اوہایو کے حکام نے رواں ہفتے اعلان کیا، کہ برسوں پرانے اس قتل کا معمہ حل کر لیا گیا ہے، قاتل کا پتا چل گیا ہے، جس کا نام ڈینئل ایلن اینڈرسن ہے، قتل کرنے کے وقت جس کی عمر 30 سال کے لگ بھگ تھی۔

معمہ حل کرنے کیلئے جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد لی گئی

مقامی اخبار میں چھپنے والی رپورٹ کے مطابق، ڈیلاویر کانٹی کی پولیس نے معمہ حل کرنے کیلئے ڈی این اے فینوٹائپنگ، جینیٹک جینیالوجی، اور فارنسک جینیالوجیکل ریسرچ، کا استعمال کرتے ہوئے جون مونسی کے قاتل کا پتا لگایا۔

اگرچہ مونسی کی کٹی پھٹی لاش، شمالی ڈیلاویر کی ایک روڈ پر سے ملی تھی، تاہم حکام کو یقین ہے کہ اس کا قتل کولمبس میں کہیں ہوا تھا۔ اس وقت ٹیکنالوجی کی کمی کی وجہ سے تفتیش کاروں نے، اتنا ہی معلوم کیا تھا کہ، جائے واردات پر موجود خون کئی افراد کا تھا۔

قارئین : جے ٹی نیٹ ورک نیوز پسند آئے تو دوستوں کیساتھ شیئرضرور کریں

یہ کیس 2010ء میں دوبارہ کھولا گیا، اور 2018ء میں ورجینیا کی کمپنی پیرابون نینولیبز نے، تین بھائیوں کے خون کے ڈی این اے کا تجزیہ کرکے، اصل قاتل کا پتا لگا لیا، قاتل ڈینئل ایلن اینڈرسن کے بارے میں پولیس حکام نے بتایا، کہ وہ علاقے کا ایک عادی جرائم پیشہ تھا، اور اس کا کریمنل ریکارڈ بھی موجود ہے۔

ریاست اوہایو پولیس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply